وہ 8 زبانیں مکمل مہارت سے جانتے تھے، 8 زبانیں روانی سے اور 12 زبانوں میں مناسب دسترس رکھتے تھے
Browsing: ڈاکٹر عباس برمانی
انگریزی فادر، فارسی پدر، سنسکرت پتر ہندی میں پتا، لاطینی پیدرے (پادری اسی سے نکلا ہے) فارسی مادر ، انگریزی مدر لاطینی ماترے ، سنسکرت ماتر جو ہندی میں ماتا اور اردو میں ماں ہو گیا ۔
اگر ہم گریئرسن کی کلاسیکی تقسیم کو سامنے رکھیں تو پنجابی کی بولیاں معیاری پنجابی ماجھی، مالوی، دوآبی ہیں
جبکہ شاہ پوری، جھنگوچی، پوٹھوہاری، ہندکو لہندا یا موجودہ سرائیکی کی بولیاں ہیں ۔
قارئین کی دلچسپی کے لیے وہ تمثیل پیش کر رہا ہوں جس کا جارج گریئرسن نے برصغیر کی تمام بولیوں میں ترجمہ کروایا تھا۔ فضول خرچ…
گریئرس صاحب کا Linguistic Survey of India کل 11 جلدوں اور 19 حصوں پر مشتمل ہے، 9500 سے زیادہ صفحات ہیں ۔ اس کا خلاصہ درج…
جارج گریئرسن نوآبادیاتی افسر ضرور تھے، لیکن انہوں نے بندوق کی جگہ قلم سے برصغیر کی خدمت کی – انہوں نے ان زبانوں کو لکھ کر محفوظ کیا جنہیں اس وقت کوئی لکھنے والا بھی نہ تھا۔
صحرا میں رہنے والے کو برف کے لیے 1 لفظ چاہیے، برفانی علاقے والے کو 20 لفظ۔ جنگل والے کے پاس درختوں کے 100 نام، ریگستان والے کے پاس اونٹ کی نسلوں کے 50 نام۔ ہر ماحول نے زبان کو نئے الفاظ پر مجبور کیا۔
تحریر بولی جانے والی زبان کے مقابلے میں بہت بعد میں وجود میں آئی، تقریباً پانچ ہزار سال پہلے میسوپوٹیمیا اور مصر میں اس کے واضح شواہد ملتے ہیں۔ لکھنے سے انسان کو حساب، قانون، کہانی اور عقیدہ محفوظ کرنے میں مدد ملی
دنیا کا پہلا بڑا شہر ارک (Uruk) موجودہ عراق میں سمجھا جاتا ہے، تقریباً 4000 قبل مسیح۔ اس کے بعد مصر میں ممفس، بلوچستان میں مہرگڑھ ،وادی سندھ میں موہنجوداڑو اور ہڑپہ (2600 قبل مسیح) آباد ہوئے۔
ماہرین علم الآثار تاریخ اور لسانیات بتاتے ہیں کہ انسان نے زبان کے ذریعے ایک دوسرے تک اپنی بات پہنچانی کوئی پچاس سے ستر ہزار سال قبل شروع کی ، جبکہ اس نے غاروں اور جنگلوں سے نکل کر کھیتی باڑی اور چھوٹی بستیاں بسانا 12 سے 15 ہزار سال ہوئے شروع کیا ۔مکمل مضمون کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے
