آج آزادی کے ۷۹ برس بعد سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا ہم نے ان لاکھوں قربانیوں کے اصل مقصد کو حاصل کر لیا ہے، یا اب بھی ہمیں اپنی معاشی پالیسیوں، حکمرانی کے نظام اور قومی ترجیحات پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے
Browsing: شہزاد عمران خان
مضبوط ریاست کے لیے مؤثر حکمرانی ناگزیر ہے۔ مگر اب عوام صرف اعترافات نہیں سننا چاہتے۔ وہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ عدالت میں انصاف جلد ملے، سرکاری ہسپتال میں علاج عزت کے ساتھ ہو، نوجوان کو روزگار سفارش کے بغیر ملے، پولیس عوام کی محافظ بنے اور سرکاری ادارے عوام کے خادم دکھائی دیں، حاکم نہیں۔
فقہی اصول کے مطابق انسانی اعضا اور بافتوں کی خرید و فروخت عام حالات میں جائز نہیں سمجھی جاتی۔ البتہ اگر جان بچانے یا شدید بیماری کے علاج کے لیے کوئی ناگزیر طبی ضرورت ہو اور اس کا متبادل موجود نہ ہو تو بعض فقہا نے ضرورت کے اصول کے تحت محدود گنجائش بیان کی ہے۔ اسی لیے انسانی پلیسینٹا کا معاملہ صرف طب کا نہیں بلکہ اخلاقیات، قانون اور شریعت کا بھی موضوع ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ اپنے شہریوں کو سہولتیں دے کر مضبوط بنتی ہیں۔ جب بنیادی ضروریات ہی روزانہ ایک نئی آزمائش بن جائیں تو عوام کی توانائی مسائل سے لڑنے میں ختم ہو جاتی ہے۔ ایک خوشحال معاشرے کی پہچان یہ نہیں کہ اس کے پاس کتنے قوانین ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے شہری کتنے اطمینان سے زندگی گزار رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر عالمی منڈی میں اچانک قیمتیں کم ہو جائیں تو پہلے سے مہنگے داموں درآمد کیا گیا لاکھوں ٹن اسٹاک کم قیمت پر فروخت کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے درآمد کنندگان اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اگر یہ صورتحال بار بار پیدا ہوئی تو کمپنیاں بڑے ذخائر رکھنے کے بجائے محدود درآمد کو ترجیح دے سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں کسی ہنگامی صورتحال یا جہازوں کی آمد میں تاخیر کی صورت میں ملک کے بعض علاقوں میں پٹرول کی عارضی قلت پیدا ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
کیا عوام کو بتایا جاتا ہے کہ روزانہ کتنے مسافر سفر کرتے ہیں، کل آمدنی کتنی ہے، آپریشنل اخراجات کیا ہیں اور فی مسافر کتنی سبسڈی دی جا رہی ہے؟
یہ تصنیف اس حقیقت کو بھی واضح کرتی ہے کہ روسی ناول صرف کہانی یا ادب نہیں بلکہ ایک فکری بیداری ہے، جو انسان کو اپنے معاشرے، اپنے ضمیر اور اپنے عہد سے مکالمے پر مجبور کرتی ہے۔ انسانی نفسیات، اخلاقی کشمکش اور سماجی ناانصافیوں کی گہری عکاسی اس کتاب کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہے۔
اصل مسئلہ فورسز کی تعداد نہیں بلکہ ان کے مقاصد اور کارکردگی ہیں۔ عوام کو تحفظ، انصاف اور سہولت چاہیے۔ اگر کسی ادارے کی تشکیل واقعی عوامی مسائل حل کرنے کے لیے ہو تو یقیناً قابلِ ستائش ہے، لیکن جب عام آدمی کو ہر طرف وردی ہی وردی نظر آنے لگے تو اس کے ذہن میں سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کہیں اگلا نمبر ہمارا تو نہیں؟
آخر میں حقیقت صرف اتنی ہے کہ مصنوعی ذہانت نہ دشمن ہے، نہ نجات دہندہ۔ یہ ایک طاقت ہے، اور طاقت ہمیشہ اپنے استعمال سے پہچانی جاتی ہے۔ اگر اسے انصاف، دیانت اور انسانیت کے ساتھ استعمال کیا گیا تو یہ دنیا بدل سکتی ہے۔ اگر اسے جھوٹ، لالچ، نفرت اور تباہی کے لیے استعمال کیا گیا تو نتائج خطرناک ہوں گے۔
یاد رکھنا چاہیے، مشین جواب دے سکتی ہے، مگر ضمیر، احساس، حکمت اور ذمہ داری آج بھی انسان کے پاس ہے۔
ایموجی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ زبانوں کی دیوار توڑ دیتا ہے۔ ایک پاکستانی، ایک عرب، ایک چینی اور ایک یورپی شخص شاید ایک دوسرے کی زبان نہ سمجھ سکیں، مگر سب سمجھتے ہیں، سب جانتے ہیں، ہر جگہ محبت کی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے بعض ماہرین جدید دور کی عالمی زبان بھی کہتے ہیں۔
