اس تحریک نے مئی 2026 میں دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا اور اس کے فالوورز کی تعداد چند ہی دنوں میں لاکھوں سے بڑھ کر کروڑوں تک پہنچ گئی۔
اس منفرد اور انوکھی تحریک کا پس منظر بھارتی عدلیہ کے ایک ریمارکس سے جڑا ہے۔
Browsing: اہم خبریں
ملزمہ انمول عرف پنکی کو 3 روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا، ملزمہ کو کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں درخشاں تھانےکے پانچ اور گزری تھانےکے تین مقدمات میں پیش کیا گیا تھا، ملزمہ اس سے قبل قتل اور منشیات برآمدگی کیسز میں پہلے ہی 22 مئی تک کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے۔
پولیس کے مطابق ثنا یوسف کو دو جون سنہ 2025 کو قتل کیا گیا، جس کے دو روز بعد ملزم عمر حیات کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
پولیس نے اس کیس میں آلہ قتل کے علاوہ ملزم سے ثنا یوسف کا آئی فون برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا جسے اس کیس میں اہم ثبوت سمجھا گیا، جبکہ پراسیکیوشن نے دو چشم دید گواہان کے بیانات بھی عدالت میں قلمبند کروائے جن میں ثنا یوسف کی والدہ اور پھپھو شامل تھیں۔
اس ہفتے کے آغاز میں بھی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ بندی ’انتہائی نازک حالت‘ میں ہے، جبکہ انھوں نے تہران کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں ’بالکل ناقابل قبول‘ قرار دیا تھا۔
مرحوم الطاف حسن قریشی کی تصنیفات میں ملاقاتیں، مقابل ہے آئینہ، چھ نکات کی سچی تصویر، نوکِ زباں، مشرقی پاکستان اور مشرقی پاکستان ٹوٹا ہوا تارا سمیت دیگر کتابیں شامل ہیں۔
یاد رہے کہ حکومت نے گزشتہ ہفتے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا تھا، جس کے باعث پیٹرول کی فی لیٹر قیمت بڑھ کر 414 روپے 78 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 414 روپے 58 پیسے ہوگئی تھی۔
پیرکوہ میں نامعلوم افراد نے بارودی سرنگ نصب کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ بارودی سرنگ اس وقت زوردار دھماکے سے پھٹ گئی جب ایک موٹر سائیکل اس سے ٹکرا گیا۔
دھماکے کے باعث موٹر سائیکل پر سوار دو افراد زخمی ہوگئے جن کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
اہلکار کے مطابق زخمی ہونے والے افراد کا تعلق امن فورس تھا۔
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں اور لکی مروت میں ایک عرصے سے حالات کشیدہ ہیں۔ سنیچر کی شام بنوں میں فتح خیل چیک پوسٹ پر بھی لوڈر رکشہ میں بارودی مواد سے دھماکہ کیا گیا تھا جس میں 15 پولیس اہلکاروں کی جان چلی گئی تھی جبکہ تین اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
بنوں : خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس چوکی پر شدت پسندوں کے حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد 15…
اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سجاد خان نے تین ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہاں ڈیوٹی پر 15 اہلکار تعینات تھے اور مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نقصان کا تعین آپریشن ختم ہونے کے بعد کیا جا سکے گا۔
