Browsing: اہم خبریں

ایک اعلامیے کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے جبکہ پیٹرول یعنی موٹر سپیرٹ کی قیمت میں 14.92 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 414.78 روپے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 414.58 ہو چکی ہے۔
مارچ سے اب تک پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتیں میں پانچ مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے۔ جبکہ اس دوران دو مرتبہ قیمتوں میں کمی بھی کی گئی تھی۔

ترجمان کراچی پولیس کے مطابق کراچی پولیس چیف آزاد خان کے حکام پر معاملے کی شفاف انکوائری کی جائے اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
کراچی پولیس چیف نے ہدایت جاری کی ہین کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کیلئے پیشہ ورانہ طرز عمل اور شہریوں کے آئینی حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے۔

ہمیں ابلیسی نمائندے احساس دلا رہے ہیں کہ اب تم خدا کے صاحب الرائے نائب نہیں ہو اب تمہیں اپنے ہونے کی شناخت کے لیے اپنا نظریہ قربان کرنا ہوگا۔۔آپ میں سے بھی بیشتر لوگ اپنے نظریے کو سمجھوتے کے جزدانوں میں رکھ چکے ہیں ۔۔بہت سے عظیم تحریری ورثے ابلیسی خداؤں نے مٹا دیے ۔۔خود میرے بہت سے کلام جنہیں صرف ٹائپ شدہ حالت میں رکھ کر بے فکر تھی کہ محفوظ ہیں ۔۔اور کچھ قیمتی کلام جو ریلیز بھی ہوئے مگر اغوا کاروں کے عزائم سے متصادم تھے انہیں بھی بے صدا کر دیا گیا۔۔

مولانا ادریس کے قتل کے بعد بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ چارسدہ کے فاروق اعظم چوک اور تنگی روڈ پر احتجاج جاری ہے جبکہ چارسدہ آنے جانے والی تمام شاہراہیں بند کر دی گئی ہیں۔ علاقے میں اس وقت حالات کشیدہ بتائے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ کچھ دن قبل مولانا ادریس کا ایک بیان سوشل میڈیا پر گردش کر رہا تھا جس میں انھوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حق میں بیان دیا تھا جس پر انھیں کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر جنوبی وزیرستان لوئر طاہر شاہ وزیر کے مطابق یہ دھماکہ اعظم ورسک بازار کے قریب پیش آیا، جس میں زیادہ تر عام شہری متاثر ہوئے۔
ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال وانا کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جان محمد شنواری نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں 14 زخمیوں کو لایا گیا ہے، جن میں سے تین سے چار زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ تمام زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ زخمیوں میں تین بچے بھی شامل ہیں۔

سعد کی اہلیہ کا دعویٰ ہے کہ جب قانونی دباو ڈالا گیا تو اس کے بعد سی ٹی ڈی اہلکاروں نے انتہائی مضحکہ خیز بنیادوں پر اُن کے شوہر کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔
عائشہ کا کہنا ہے کہ ’سعد ماضی میں ریاستی اداروں کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔‘
’ایسے افراد جنھیں ریاست نے جانچ پڑتال کے بعد قابلِ اعتماد سمجھا ہو، اگر انھیں من مانے انداز میں حراست میں لینا پڑے اور بعد ازاں اُن پر پچھلے قوانین لاگو کیے جائیں، تو پھر یہ سوال تو ناگزیر ہے کہ ریاست آخر کس بنیاد پر اپنے شہریوں سے اعتماد کی توقع رکھتی ہے؟‘