میں نے گزشتہ شام "لیڈز سے لاہور — ایک سال کی کہانی” پڑھنا شروع کی اور آدھی سے زیادہ کتاب ایک ہی نشست میں مکمل کر لی۔ مجھے اعتراف ہے کہ یہ کتاب مجھے غیر معمولی طور پر پسند آئی۔
یہ رائے میں دوستی یا ذاتی تعلق کی بنیاد پر نہیں دے رہا، بلکہ ایک قاری کی حیثیت سے اپنی دیانت دارانہ رائے کا اظہار کر رہا ہوں۔
اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں بیان کیے گئے خیالات، مشاہدات اور احساسات ہم سب کے لیے اجنبی نہیں ہیں۔ یہ وہی باتیں ہیں جو اکثر ہمارے ذہنوں اور دلوں میں موجود ہوتی ہیں، لیکن ہم انہیں الفاظ نہیں دے پاتے۔ مصنف نے انہی روزمرہ تجربات اور عام انسانی احساسات کو نہایت سادگی، سچائی اور خلوص کے ساتھ بیان کیا ہے۔اور اسے پڑھ کر ’’ میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں تھا والا مصرع یاد آ جاتا ہے ۔
بہت سی کتابیں قاری کو ایک خیالی دنیا میں لے جاتی ہیں، لیکن "لیڈز سے لاہور” کی کشش اس کی حقیقت پسندی میں ہے۔ اس میں زیرِ بحث موضوعات وہی ہیں جن کا سامنا ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کرتے ہیں۔ شاید اسی لیے قاری خود کو کتاب کے ساتھ جڑا ہوا محسوس کرتا ہے۔
کتاب حجم میں مختصر ہے، مگر محسوس ہوتا ہے کہ ہر جملہ سوچ سمجھ کر لکھا گیا ہے۔ ضخیم کتابوں میں بعض اوقات غیر ضروری تفصیلات قاری کی دلچسپی کم کر دیتی ہیں، جبکہ اس کتاب میں ہر صفحہ اور ہر سطر اپنی اہمیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے یہ کتاب نہ صرف دل چسپ بلکہ دوبارہ پڑھے جانے کے قابل بھی محسوس ہوئی۔
میں ڈاکٹر سید علی شاذف باقری کو اس عمدہ تصنیف پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور پوری سنجیدگی سے یہ مشورہ دوں گا کہ وہ اس ادبی سفر کو جاری رکھیں۔ اردو ادب کو ایسی سچی، سادہ اور دل سے لکھی جانے والی تحریروں کی ضرورت ہے۔
"لیڈز سے لاہور ۔۔۔ گویا یہ بھی میرے دل میں تھا : ڈاکٹر سید علی رضا نقوی کا اختصاریہ
ایڈیٹر25 Views

