کچھ عرصہ قبل سامنے آنیوالی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی عدلیہ 142 ممالک میں 130 ویں اور خطے کے چھے ممالک میں پانچویں نمبر پر تھی۔…
Browsing: کالم
8فروری کو ’’یوم سیاہ‘‘ بناتے ہوئے تحریک انصاف نے احتجاجی سیاست میں کچھ نیا کرنے کی کوشش کی ہے۔ مرکزی جلسہ تو خیبرپختونخوا کے شہر صوابی…
دلکش شخصیت ، بہاریہ مزاج ، زمینی روایتوں اور آفاقی قدروں کا پرچارک اشفاق حسین اردو شاعری کاایک خوبصورت حوالہ ہے ، طالبعلمی کے دور سے…
حامد میر کا کالم : ایک جج کے انکار کی کہانی آج کل اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کو عہدوں کے حصول اور نوکریاں بچانے کیلئے…
دنیا کی بہترین جمہوری ریاستوں میں بھی صحافت ایک نیم تاریک منطقہ ہے۔ خبر گھڑی جاتی ہے۔ خبر دبائی جاتی ہے۔ کہیں صحافی خبر بنتا ہے تو کہیں اخبار پہ دباؤ آتا ہے۔ اگلے روز برادر بزرگ نے کالم کی صنف پر خیال افزا نثر کا ایک ٹکڑا عطا کیا اور پھر اپنے مخصوص Understatement انداز میں بہت سی مثبت اور خوشگوار خبروں کی لین ڈوری باندھ دی۔
پاکستان تحریک انصاف میں دھڑے بندی اور فنڈزنہ ملنے پر صوابی جلسے میں کارکنان کی تعداد کم رہی۔ ذرائع کے مطابق صوابی جلسے کے لیے بڑی…
زوال زدہ معاشروں میں سیاسی اور مذہبی تقسیم شدید اور گہری ہوتی ہے۔ ان معاشروں میں محبت اور نفرت بھی انتہاؤں کو چھوتی ہیں۔ اعتدال جاتا…
ایک اسٹیج ڈرامے میں امان اللہ سے کسی نے پوچھا کہ اگر 9/11 کا واقعہ پاکستان میں پیش آیا ہوتا تو حکومت نے کیا کرنا تھا۔…
اب دو ہی راستے ہیں: یا تو عوام اس سرکاری تعلیمی ڈھانچے کی تباہی کے خلاف کھڑے ہوں، یا پھر خاموشی اختیار کریں اور دیکھیں کہ کیسے چند سرمایہ دار اور سیاستدان ان کے بچوں کے مستقبل کو بیچ کھاتے ہیں۔ کیا تعلیم اب صرف وہی حاصل کرے گا جس کی جیب میں بھاری فیس ہو؟ کیا سرکاری یونیورسٹیاں یونہی برباد ہوتی رہیں گی؟ یا پھر عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ تعلیم کسی کی جاگیر نہیں، بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے؟ اگر آج آواز نہ اٹھائی گئی، تو کل تعلیم صرف ان کے لیے ہوگی جن کے بینک اکاؤنٹس بھرے ہوئے ہوں گے، اور باقی سب بس خواب دیکھتے رہ جائیں گے ۔
میرے بچے میرے پاس تمہیں کھلانے کو کچھ نہیں دیکھو خوبصورت چاندنی پھیلی ہوئی ہے اسے پی لو ، تمہیں نیند آجائے گی میری بات سن…
