Browsing: کالم

دنیا کی بہترین جمہوری ریاستوں میں بھی صحافت ایک نیم تاریک منطقہ ہے۔ خبر گھڑی جاتی ہے۔ خبر دبائی جاتی ہے۔ کہیں صحافی خبر بنتا ہے تو کہیں اخبار پہ دباؤ آتا ہے۔ اگلے روز برادر بزرگ نے کالم کی صنف پر خیال افزا نثر کا ایک ٹکڑا عطا کیا اور پھر اپنے مخصوص Understatement انداز میں بہت سی مثبت اور خوشگوار خبروں کی لین ڈوری باندھ دی۔

اب دو ہی راستے ہیں: یا تو عوام اس سرکاری تعلیمی ڈھانچے کی تباہی کے خلاف کھڑے ہوں، یا پھر خاموشی اختیار کریں اور دیکھیں کہ کیسے چند سرمایہ دار اور سیاستدان ان کے بچوں کے مستقبل کو بیچ کھاتے ہیں۔ کیا تعلیم اب صرف وہی حاصل کرے گا جس کی جیب میں بھاری فیس ہو؟ کیا سرکاری یونیورسٹیاں یونہی برباد ہوتی رہیں گی؟ یا پھر عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ تعلیم کسی کی جاگیر نہیں، بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے؟ اگر آج آواز نہ اٹھائی گئی، تو کل تعلیم صرف ان کے لیے ہوگی جن کے بینک اکاؤنٹس بھرے ہوئے ہوں گے، اور باقی سب بس خواب دیکھتے رہ جائیں گے ۔