Browsing: کالم

اس کا 1977ء کے بعد کا بیانیہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور بھٹو کی کرشمہ سازی پر مبنی تھا پھر یہ تبدیل ہو کر اینٹی نواز شریف ہو گیا۔ پیپلز پارٹی نے اسٹیبلشمنٹ سے مراسم بڑھائے تو ووٹر نے یہ جھٹکا برداشت کر لیا مگر جونہی نواز شریف اور بے نظیر نے میثاق جمہوریت کیا اینٹی نون لیگ ووٹر بیانیےکے تضاد کو برداشت نہ کر سکا اور اب سنٹرل پنجاب میں سوائے پرانے جیالوں کےعوامی ووٹ بینک غائب ہو چکا ہے۔

اشفاق حسین سونے کا چمچہ لے کرپیدا ہوئے اور اب ایک متمول شخص کے طور پر اپنی شاعری کا شوق پورا کررہے ہیں لیکن جو انہیں جانتے ہیں انہیں علم ہے اشفاق حسین نے زمین سے اٹھ کر آسمان کی طرف سفر کیا ہے۔ ان کی شاعری کے اصل تناظر کو صرف اسی صورت میں سمجھا جا سکتا ہے جب آپ یہ مان جائیں کہ شاعر کی زندگی کے نشیب و فراز کیا رہے۔ اشفاق حسین نے بہت اچھا کیا کہ اس کلیات کے ”گہر ہونے تک“ کے عنوان سے اپنی روداد لکھ دی ہے، وہ چاہتے تو بیان کی گئی ماضی کی حقیقتوں کو چھپا بھی سکتے تھے، مگر شاید ایسا کرنے کی صورت میں یہ کلیات ادھوری رہ جاتیں اور اس میں موجود شاعری کا افق بھی کسی انجان اندھیرے میں ڈوبا رہتا ۔

تبدیلی یا دن بدلنے کی خواہش میں 2025تک پہنچنے والی شاعری انٹرنیٹ پر "دن بدلیں گے خاناں "سے ہوتی ہوئی اس مقام پر آچکی ہے جب ایک دوسرے سے بدلے لینے پر مصر ہوتے ہوئے، ہمیں بالکل یقین نہیں ہے کسی بھی لحاظ سے دن بدلیں گے ۔چلیں کچھ سچی اور سیدھی سادی باتیں کرتے ہیں کیوں کہ بڑے بزرگ کہتے ہیں کہ آج اردو ادب کے طالب علم کو سب کچھ آتا ہے سوائے اردو کے ۔۔۔۔۔رضی الدین رضی صاحب ملتان میں ادب و صحافت کا معتبر حوالہ ہیں۔۔۔

اُلّو نے اپنی گردن گھمائی اور عدالت کے بلند و بالا ستونوں کی طرف دیکھا۔ لمحے بھر کو سوچا، پھر بولا، "یہ جو تم کہہ رہے ہو، وہ دو طرفہ ہونا چاہیے!”
گِدھوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، جیسے کہنے والے ہوں: "یہ کیا نیا معمہ ہے؟ ہم نے تو ہمیشہ سنا تھا کہ جنگل کے کمزور قانون دو طرفہ نہیں ہوتے، ہمیشہ ایک طرفہ ہی ہوتے ہیں!”

اس ڈرامے نے جبر کے ماحول میں لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھااورانہیں بتایا کہ چوہدری حشمتوں کی حشمت و ہیبت کاانجام کیاہوتاہے اور وقت کا بہاؤ ان کے جعلی رعب ودبدبے والی حویلیوں کو کس طرح خس وخاشاک کی طرح بہا کر لے جاتا ہے اور پھرہم نے آنے والے دنوں میں ایسی حویلیوں کو نیست ونابودہوتے بھی دیکھا۔