Browsing: کالم

یہ لوگ والد ماجد سے مولانا سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ کے خلاف بیان لینا چاہتے تھے چنانچہ والد ماجد سے یہ بیان دینے کیلئے کہا گیا کہ انہوں نے تحریک میں حصہ عطا اللہ شاہ بخاری کے اکسانے پر لیاتھا۔ والد ماجد نے اس کے جواب میں کہا مجھے شاہ صاحب نے کیا اکسانا تھا، انہوں نے تو ختم نبوت کا درس خود میرے خاندان سے لیا ہے ۔

یرے ایک شاگرد یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ وہ ایک دن میرے پاس آئے اور کہا وہ یونیورسٹی کی ملازمت چھوڑنا چاہتے ہیں۔ میں حیران ہوا، اچھی بھلی ملازمت کو کیسے چھوڑا جا سکتا ہے۔ میں نے وجہ پوچھی کہنے لگے یہ سیمسٹر سسٹم، جس نے ہمیں جج بنا دیا ہے، گلے کی ہڈی بن گیا ہے

اگر کوئی خوبصورت لڑکی اپنی قسمت کا احوال جاننے کیلئے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھاتی تو کہتا یہاں روشنی کم ہے۔آپ کے ہاتھ کی لکیریں نہیں پڑھی جا رہیں، آپ نیچے گارڈن میں میرے ساتھ آجائیں۔ گارڈن میں وہ برگد کے درخت کے نیچے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیتا اور اس کی قسمت کا احوال اتنے دلکش انداز میں اسے بتاتا، جس میں اس کیلئے خوشخبریاں ہی خوشخبریاں ہوتیں۔ وہ اس دوران اس کا ہاتھ سہلاتا رہت