Browsing: کالم

یہ کتاب یاد دلاتی ہے کہ زندگی کی معنویت محض ذاتی کامیابیوں، آسائشوں اور مرتبے میں نہیں، بلکہ اس شعور میں پوشیدہ ہے جو انسان کو اپنی ذات سے آگے بڑھ کر دوسروں کے لیے سوچنے، اجتماعی مسائل کو سمجھنے اور اپنے وسائل کو بامقصد بنانے کی طرف مائل کرتا ہے۔

جنرل مشرف نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے بجائے اسے معطل رکھنے کا اعلان کیا۔ قومی اسمبلی کی تحلیل کے بجائے معطلی ایک حیران کن مگر بہت کائیاں چال تھی۔ وہ اسے تحلیل کردیتے تو نئے انتخاب کی تاریخ دینا پڑتی اور نئے انتخاب جنرل مشرف کی ترجیح نہیں تھے۔

مولانا اور خان صاحب کو قریب لانے کا کریڈٹ شہباز شریف کو جاتا ہے۔ جس طرح خان کو حکومت سے فراغت کے بعد مولانا کی اہمیت کا احساس ہوا اسی طرح مسلم لیگ ن کو بھی حکومت سے فراغت کے بعد ہی مولانا یاد آئیں گے لیکن شاید مولانا دوبارہ انکے جال میں نہ پھنسیں گے۔

آمریت کا چکر مکمل ہونے پر قوم وہیں کھڑی ملتی ہے جہاں سے انحراف کیا تھا۔ آج ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ ہم گزشتہ غلطیوں سے رجوع کر رہے ہیں۔ وقت فیصلہ کرے گا کہ ہم غلطیوں سے رجوع کر رہے ہیں یا غلطیوں کا اعادہ کر رہے ہیں

جارج گریئرسن نوآبادیاتی افسر ضرور تھے، لیکن انہوں نے بندوق کی جگہ قلم سے برصغیر کی خدمت کی – انہوں نے ان زبانوں کو لکھ کر محفوظ کیا جنہیں اس وقت کوئی لکھنے والا بھی نہ تھا۔

مغربی پاکستان کے سولہ اخبارات میں 6 مئی 1949 کو ’غداری‘ کے عنوان سے ایک مشترکہ اداریہ شائع کیا گیا جس میں سول اینڈ ملٹری گزٹ پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا گیا۔ مشرقی پاکستان کے کسی اخبار نے اس شرمناک کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔ صرف امروز کے مدیر چراغ حسن حسرت نے یہ اداریہ شائع کرنے سے انکار کیا لیکن ان کی مزاحمت بھی چوبیس گھنٹے میں دم توڑ گئی۔

صحرا میں رہنے والے کو برف کے لیے 1 لفظ چاہیے، برفانی علاقے والے کو 20 لفظ۔ جنگل والے کے پاس درختوں کے 100 نام، ریگستان والے کے پاس اونٹ کی نسلوں کے 50 نام۔ ہر ماحول نے زبان کو نئے الفاظ پر مجبور کیا۔