Browsing: کالم

انہوں نے کہاکہ اگر انہیں موقع ملا تو وہ ملک بھر میں آتش بازی کا جال بچھادینگے ہر چھوٹی بڑی جگہ پر آتش بازی کے ماہرین روز رات کو آتش بازی کا اہتمام کیا کرینگے ، آتش بازی کوصنعت کا درجہ دیدیا جائے گا ،آتش بازوں کو حکومت سستے قرضے فراہم کرے گی، ہر تحصیل اور ضلع میں آتش باز افسر مقرر ہوگا ،چھوٹے انتظامی یونٹس میں آتش بازی کے فن کے فروغ سے ملک بھر میں ایکسپورٹ کوفروغ ملےگااور دنیا بھر میں آتش بازی کا سامان ملک سے ہی جایا کرے گا۔

اس واقعہ کے بے شمار پہلو محض ایک کالم میں زیر بحث لائے نہیں جاسکتے۔ جو حقیقت خطِ کشیدہ کے ذریعے اجاگرکرنا لازمی سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ چندحکومتی نمائندے اور سرکاری ادارے مذکورہ واقعے کے حوالے سے پرخلوص ندامت کے اظہار کے بجائے ڈھٹائی سے بدھ کی صبح ہوئے واقعہ کو محض ایک حادثہ قرار دیتے ہوئے خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کاوشوں میں مصروف ہیں۔

کبھی گلی، محلہ، میدان اور سکول کا گراؤنڈ بچوں اور نوجوانوں کی آوازوں سے آباد رہتے تھے۔ کرکٹ، فٹ بال، ہاکی، والی بال، کبڈی، دوڑ اور دیگر کھیل جسمانی تربیت کے ساتھ ساتھ ٹیم ورک، برداشت، نظم و ضبط اور شکست و فتح کو قبول کرنے کا حوصلہ بھی سکھاتے تھے۔ اب میدان کے مقابلے میں موبائل کی اسکرین زیادہ پرکشش ہو گئی ہے۔ نوجوان کے ہاتھ میں گیند کے بجائے موبائل اور گراؤنڈ کے بجائے اسکرین آ گئی ہے۔

زلزلہ عمارت نہیں گراتا۔ ناقص عمارت گرتی ہے۔“ وہ ذرا آگے جھکے۔ ”میں نے پینتیس سال پانی کا محکمہ دیکھا ہے۔ سیلاب ہر سال آتا ہے، ہر سال۔ یہ کوئی خبر نہیں ہے، یہ ایک موسم ہے۔ سوال یہ ہے کہ بند کس نے کمزور بنایا، پیسہ کہاں گیا، نالے پر مکان کس نے بننے دیا، اور فائل پر دستخط کس کے ہیں۔

ان بچوں کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ اس ملک میں پیدا ہوئے جو 80 ویں برس میں داخل ہو کر بھی ابھی نو زائدگی کے عمل سے گزر رہا ۔۔ ان بچوں کی وارث ریاست میں خود اندرونی طور پر کمزور اور ناتواں ہے۔ وہ شاید ان کا خیال رکھنے کی اہل ہی نہیں ہے، کیونکہ اس پر قابض حکمرانوں نے کبھی اس پر توجہ ہی مرکوز نہیں کی۔

دونوں مقدس ہستیوں نے ایک ہاتھ سے ایک دوسرے کی لہلہاتی ریش مبارک پکڑ رکھی تھی ۔ دوسرا ہاتھ گریبان پر تھا۔ دونوں ہاتھ مصروف تھے لیکن پیران طریقت کینگرو کی طرح اچھل اچھل کر ایک دوسرے کے حساس سنگم پر ٹھوکریں لگا رہے تھے اور مغلظات کے تبادلے میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔

ہم دنیا کو بتا رہے ہوتے ہیں کہ ہم کیا سوچتے ہیں، کس چیز کو اہم سمجھتے ہیں اور اختلاف کے وقت ہمارا ظرف کتنا ہے۔ اس لیے پوسٹ کرنے سے پہلے صرف یہ نہ سوچیں کہ لوگ اسے کتنا پسند کریں گے؛ یہ بھی سوچیں کہ لوگ اسے پڑھ کر ہمیں کیسا انسان سمجھیں گے۔ کیونکہ سوشل میڈیا پر ہم صرف الفاظ شیئر نہیں کرتے، اپنا کردار بھی شیئر کرتے ہیں۔

لیڈر سے وفاداری کا مطلب ہر افواہ کو فتح اور ہر سیاسی اشارے کو ڈیل قرار دینا نہیں۔ کبھی کبھی اپنے لیڈر کے لیے سب سے بڑی وفاداری اپنے جذبات پر قابو پانا ہوتی ہے۔ کسی لیڈر کے لیے لڑنے اور اپنے لیڈر کے لیے مشکلات پیدا کرنے میں بہت باریک فرق ہوتا ہے۔