مسئلہ یہ ہے کہ مولوی نے ہمیں یہ بتایا ہوا ہے کہ رزق کا وعدہ اللہ نے کر رکھا ہے لہذا آبادی کنٹرول کرنا یا بچے کم پیدا کرنا دینی احکامات کے خلاف ہے۔ اِس سوچ نے پاکستان کو بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے۔
اسکولوں میں جگہ نہیں، ہسپتالوں میں بستر نہیں، پینے کو صاف پانی نہیں، لیکن غریب کی جھونپڑی میں آٹھواں بچہ جنم لے رہا ہوتا ہے۔
Browsing: کالم
خدا نے ہر انسان کو باضمیر پیدا کیا ہے، لیکن انسان ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے اسے بہلاتا رہتا ہے۔ اسی لیے ہم سرکاری اور نجی کاروباری عمارتوں کے اندر وسیع و عریض رقبوں پر پھیلی عبادت گاہیں دیکھتے ہیں۔ انھیں بنانے والے اس عمل کو صدقۂ جاریہ سمجھتے ہیں۔ یعنی اس کے بعد ان کاروباری عمارتوں میں وہ کوئی بھی بددیانتی کریں، ان کا ضمیر مطمئن رہے گا کہ صدقۂ جاریہ کے چشمے سے ان کے لیے بخشش کے آبِ زم زم تو پہلے ہی رواں دواں ہو چکے ہیں۔
( گزشتہ سے پیوستہ ) "K” کے صفحے پر خلیل اللہ لابر سابق ایم پی اے جوچولستان میں بھٹک گئے اور پیاس کی وجہ سے جاں…
سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ان خدشات کا اندازہ تھا اسی لئے کہتے ہیں کہ انہوں نےکسی تقریب یا جلسے میں اس وقت کے صوبائی وزیر بلدیات جام صادق علی کو مخاطب کرتے ہوئے ازراہِ مذاق ہی سہی کہا، ’’مجھے زمینوں کی بندر بانٹ کی بڑی خبریں مل رہی ہیں بس مزار قائد کو بخش دینا۔ ‘‘
یہ صرف ایک فون انڈیکس نہیں، بلکہ میری زندگی کی ایک مکمل تاریخ ہے۔ اس کے ہر صفحے پر ایک چہرہ آباد ہے، ہر نمبر کے پیچھے ایک آواز محفوظ ہے، اور ہر نام کے ساتھ زندگی کا ایک پورا عہد سانس لیتا ہے۔
ان کے فرزند اور جانشین نے مذکورہ مطالبے کا ذکر کرتے ہوئے بدلہ لینے کا عہدہ باندھا۔ عوام کو یقین دلایا کہ خمینائی کے قاتلوں کو ان کے بستر میں فطری موت نصیب نہیں ہوگی۔ آیت اللہ مجتبیٰ خمینائی کی جانب سے جاری ہوئے تحریری بیان کوبغور پڑھنے کے بعد ناقابل علاج سادہ لوح افراد ہی ایران اور امریکہ کے مابین دائمی امن کے حصول کے لئے مذاکرات کی بحالی کی امید برقرار رکھ سکتے ہیں۔
زندہ قومیں اپنی تاریخ میں سنہ 71ء یاد رکھتی ہیں اور جنہیں زندگی سے تعلق نہ ہو وہ اپنا سنہ 71ء فراموش کر دیتے ہیں۔
کیا عوام کو بتایا جاتا ہے کہ روزانہ کتنے مسافر سفر کرتے ہیں، کل آمدنی کتنی ہے، آپریشنل اخراجات کیا ہیں اور فی مسافر کتنی سبسڈی دی جا رہی ہے؟
یہ کتاب صرف روسی ادب کے مطالعے کے لیے ہی نہیں بلکہ ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کے شفاف اسلوبِ ترجمہ اور گہرے ادبی شعور سے لطف اندوز ہونے کے لیے بھی ضرور خریدنی چاہیے۔ ان کے تراجم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ قاری کو کہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ ترجمہ پڑھ رہا ہے؛ یوں لگتا ہے جیسے اصل تخلیق اردو ہی میں لکھی گئی ہو۔
یہ سفاکیت کوئی مذہبی گروہ نہیں دکھا سکتا۔ ہاں، سرمایہ دار کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ وہ اپنے مفادات حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ کہیں سرمایہ دار مذہب کو استعمال تو نہیں کر رہا؟ کہیں دنیا کے معصوم لوگ اسی طبقے کے ہاتھوں گمراہ تو نہیں ہو رہے؟
