Настройки смартфона позволяют сделать это — перейдя в раздел по безопасности устройства. После установки разрешений пользователь сможет без ограничений загрузить приложение на русском языке. В своем…
Author: ایڈیٹر
پٹرول کا تذکرہ سنتے ہی مولانا بڑے ہی جاہ و جلال سے گرجے۔ عزیزم! یہی تو وہ روحانی نکتہ ہے جو تم جیسے کم عقل نہیں سمجھتے۔ پٹرول مہنگا ہونے سے لوگ پیدل چلیں گے۔ سانس پھولے گا تو زبان پر بے اختیار یا اللہ! میری سچی توبہ! کا ورد جاری ہوگا۔ حکومت تمہیں سڑکوں پر ذکرِ الہیٰ میں مشغول دیکھنا چاہتی ہے
گذشتہ سال 29 مارچ کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے بحرین اور خلیج فارس کے دیگر کئی ممالک کو ڈرون اور میزائل حملوں سے نشانہ بنایا جہاں امریکہ کے اڈے ہیں۔
اس دوران بہت سی قیاص آرائیوں نے جنم لیا سید یوسف رضا گیلانی پر ایک بڑا دباؤ یہ تھا کہ اس اغواء کا مقدمہ سیاسی مخالفین کے خلاف درج کرایا جائے مگر انہوں نے صبر و تحمل سے کام لیا اور نا معلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا جس کے بعد سے سید علی حیدر گیلانی کی بازیابی کی بھر پور مہم چلانے کے ساتھ دعاؤں کا سلسلہ بھی جاری رکھا ۔
یہ مبارکباد کا لمحہ تو ہے اوراس لیے بھی ہے کہ ہم نے زندہ نہ ہونے کے باوجود زندہ رہنے کا ڈھونگ رچایا۔ ہم مرنے کے باوجود دفنائے نہ جا سکے۔ ہم سچ بولنے کے باوجود جھوٹے کہلائے اور اس کے باوجود خود کو سچا سمجھتے رہے۔
مبارک باد تو بہت ضروری ہے اوراس لیے ضروری ہے کہ جس معاشرے میں روزانہ بہت سے لوگ خودکشی کرلیتے ہیں اس معاشرے میں ہم جیسے بزدل بہت بہادری یا ڈھٹائی کے ساتھ زندہ ہیں۔
ایک اعلامیے کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے جبکہ پیٹرول یعنی موٹر سپیرٹ کی قیمت میں 14.92 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 414.78 روپے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 414.58 ہو چکی ہے۔
مارچ سے اب تک پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتیں میں پانچ مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے۔ جبکہ اس دوران دو مرتبہ قیمتوں میں کمی بھی کی گئی تھی۔
پاکستان میں گزشتہ سال بھارت کے ساتھ ہونے والی جنگ یا جھڑپوں کی سالگرہ دھوم دھام سے منائی جارہی ہے۔ شہروں میں عسکری قیادت کے بینر لگائے گئے ہیں اور بڑے بڑے کمرشل ادارے اشتہارات میں افواج پاکستان کی بہادری کا ذکر کرتے ہوئے، ان کا شکریہ ادا کررہے ہیں۔ ایک غریب ملک میں کسی جنگ کو گلوری فائی کرنے کا یہ رویہ ناقابل فہم اور افسوسناک ہے۔
گزشتہ دنوں چارسدہ کے نامور عالم دین مولانا شیخ محمد ادریس کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ شیخ محمد ادریس خیبر پختو نخوا اسمبلی کے سابق رکن تھے۔ وہ عسکریت کی بجائے سیاسی جدو جہد کے قائل تھے ۔ کچھ عرصہ سے انہیں دھمکیاں دی جا رہی تھیں کہ وہ جمہوریت اور آئین کی حمایت چھوڑ دیں ۔ اُن کے کچھ شاگرد بھی اُن سے پوچھتے تھے کہ جس جمہوریت میں انصاف نہ ہو اور جس آئین کو طاقتور لوگ اپنی مرضی کے مطابق استعمال کریں، اس جمہوری نظام کی حمائت کا کیا فائدہ ؟ شیخ محمد ادریس نے دھمکیوں کے باوجود سیاسی و جمہوری جدوجہد کی حمایت جاری رکھی اور آخر کار گولیوں کا نشانہ بن گئے۔
میڈیا بتا رہا ہے کہ 24 کروڑ رعایا معرکہِ حق جیتنے والی ریاست کی خوشیوں میں برابر کی شریک ہے۔ یہ خبر بھی تو کسی دن نشر ہو کہ اس بار ریاست بھی 24 کروڑ عوام کی خوشیوں میں برابر کی شریک ہے ۔
تمام امن و آشتی، ثالثی و خیر سگالی ایکسپورٹ نہ کریں کچھ اپنے لوگوں کے لیے بھی بچا کے رکھیں۔ یادگاریں ضرور بنائیے مگر یاد رہ جانے کا بھی کچھ سامان تیار کیجیئے۔
ترجمان کراچی پولیس کے مطابق کراچی پولیس چیف آزاد خان کے حکام پر معاملے کی شفاف انکوائری کی جائے اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
کراچی پولیس چیف نے ہدایت جاری کی ہین کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کیلئے پیشہ ورانہ طرز عمل اور شہریوں کے آئینی حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے۔
