آج اللہ سائیں کے فقیر کو پاکستان کی مقدس سیاست میں خلل انداز ہونے کی اجازت دیجئے۔اجازت ملنے یا نہ ملنے سے زبانی کلامی گزارش کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔خناس لوگ تخریب کاری کرنے کیلئے درخواست دائر نہیں کرتے۔آپ سے تخریب کاری کی اجازت نہیں مانگتے۔مگر ہر بار تخریب کاری کی واردات ہوجانے کے بعد سرکار نامدار کی جانب سے مذمتی بیان میں فرمایا جاتا ہے کہ حکومت وقت کسی کوتخریب کاری کی اجازت نہیں دے گی۔سرکار کا مذمتی بیان پڑھ کرلگتا ہے کہ جیسے تخریب کاروں نے درخواست دے رکھی ہے کہ سر، ہمیں چار پل دھماکے سے اڑانے کی اجازت دیجئے۔ ہمیں بسوں کو آگ لگانے اورریل گاڑیوں کو بموں سے اڑانے کی اجازت دیجئے۔ اسکولوں میں گھس کرہمیں بچوں پرگولیوں کی بوچھاڑ کرنے کی اجازت دیجئے۔ کوئی آپ سے ریڈزون میں دھرنا دینے کی اجازت نہیں مانگتا۔لیکن کارروائی ہوجانے کے بعد آپ سرکار ریڈی میڈ بیان جاری کردیتے ہیں کہ آپ کو تخریب کاری کی اجازت نہیں دے سکتے۔ سرکار نامدار آپ کس خوش فہمی میں مبتلا ہیں؟ تخریب کار تخریب کاری کرنے کےلئے آپ سے اجازت نہیں مانگتے۔ وہ اپنی کارروائی کرگزرتے ہیں۔ آپ اپنی ناقابلیت اور نا اہلیت کی پردہ پوشی کرنے کے لئے اعلان داغ دیتے ہیں کہ آئندہ کسی کو تخریب کاری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں ہر وہ حکومت جس کے دور میں تخریب کاری ہوتی رہی تھی ، وہ حکومت نالائق حکومت تھی۔ اسی بات کو حیلہ بہانہ بناتے ہوئے میں آپ سے سیاست میں گستاخی کی اجازت نہیں مانگوں گا ۔میں براہ راست ملک کی مقدس سیاست میں دخل اندازی کروں گا۔اس کے بعد ،روایتوں کے تحت آپ سرکاراعلامیہ جاری کرتے رہئے گا کہ آئندہ کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو ملک کی مقدس سیاست کیساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔اب میں فقیر ملک کی مقدس سیاست سے کھلواڑ کرنے جارہا ہوں۔ کھلواڑ کرنے کے لئے کہیں دور نہیں جاؤں گا۔ بلکہ یہیں، آپ کے سامنے، بیٹھے بیٹھے مقدس سیاست سے کھلواڑ کروں گا۔
سب سے پہلے میں ملک کے تمام ایم این ایز اور ایم پی ایز سے پیشگی معافی کا طلب گار ہوں۔ اگر آپ کو فقیر کی خرمستی اچھی نہیں لگے تو فقیر کو معاف کر دیجئے گا۔ فقیر کو بخش دیجئے گا۔ آپ فقیر کی خطائیں درگزر کردیجئے گا۔ باقی اوپر والا جانے اور ہم فقیر جانیں۔ اس کی رحمت پہ فقیروں کو ناز ہے۔ وہ بندہ نواز ہے۔ہم فقیر زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے۔ اسباب کے بارے میں ہم فقیر کچھ سمجھ نہیں سکتے۔ہم صرف انجام دیکھ سکتے ہیں۔نتیجہ دیکھ سکتے ہیں۔ ہماری ماؤف سوچ کے مطابق ہم فقیر سمجھتے ہیں کہ بہت بڑے بڑے ادارے آپس میں ٹکرا گئے ہیں۔ بھاری بھرکم اداروں کا آپس میں متصادم ہونا ہم فقیروں کی سمجھ سے بہت دور کی سیاست ہے۔ دوسرے اداروں نے معرکہ کے لئے کیسی کیسی تیاریاں کی ہیں، فقیر کچھ نہیں جانتے۔ ہم فقیر تھوڑا بہت اپنے ادارے کے بارے میں جانتے ہیں۔ بڑی گرم جوشی دکھائی دیتی ہے وہاں پر ۔آپ بجا طور پر پوچھ سکتے ہیں کہ یہ تمہارا کیسا ادارہ ہے کہ جہاں پر تم قدم نہیں رکھ سکتے۔ آپ یعنی عام آدمی کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔آپ کی بات درست ہے۔ مگر کیا کیجئے کہ ہم فقیروں کے بغیر آپ اس ادارے کا تصور بھی نہیں کرسکتے ۔ میں قانون ساز اسمبلیوں کی بات کررہا ہوں۔ وہاں ایم این ایز اور ایم پی ایز تشریف فرما ہوتے ہیں۔ آپ اس وقت تک ایم این اے یا ایم پی اے نہیں بن سکتے جب تک ہم عام آدمی آپ کو ووٹ نہیں دیتے۔ آپ فقیر کی بات سمجھ رہے ہیں نا؟ جب تک آپ ہم فقیروں سے ووٹ نہیں مانگتے، بلکہ حاصل کرتے، تب تک آپ ایم این اے اور ایم پی اے نہیں بن سکتے ۔ مگر یہ الگ بات ہے کہ ایم این اے اور ایم پی اے بن جانے کے بعد آپ پھر کبھی ہم فقیروں کو دکھائی نہیں دیتے ۔لیکن طے ہے کہ ہمارے ووٹ کے بل بوتے پر آپ قانون ساز اسمبلی کے ممبر بن جاتے ہیں۔ اس لحاظ سے قانون ساز اسمبلی ہمارا ادارہ ہے۔اداروں کے درمیاں چپقلش ہوجانے کے بعد ہمارے ادارے میں خاصی گہماگہمی دکھائی دے رہی ہے۔ قوانین تجویز کئے جارہے ہیں۔قوانین بنائے جارہے ہیں۔ قوانین کی تشریح کی جارہی ہے۔ اسی گہماگہمی کو دیکھتے ہوئے،فقیر نے سوچا کہ کیوں نہ ہم بھی ایک دونئے قوانین کی تجویز اپنے ادارے کے سامنے رکھیں۔ہمیں شکایت ہے کہ ہم سے ووٹ لیکراسمبلی کا ممبر بن جانے کے بعد ایم این اے اور ایم پی اے ہم فقیروں کو اپنے قریب آنے نہیں دیتے۔ ہم سے ملنا اور ہماری شکایات اور مسائل سننا پسند نہیں کرتے۔ ہماری اجڑی بستیوں کا رخ نہیں کرتے۔ ایک ایسا قانون بنایا جائے جس کے تحت ایم این ایز اور ایم پی ایز کا اپنے ووٹ دینے والوں سے رابطے میں رہنا لازمی بنایا جائے۔اب دوسرے قانون کی تجویز سن لیجئے: یاد رہے کہ ہمارے ووٹ سے ایک شخص ایم این اے یا ایم پی اے بنتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم ووٹ دینے والے اس شخص کو اسمبلی میں ہماری نمائندگی کرنے کے لئے کام دیتے ہیں۔ اس کام کی اسے سرکار نامدار کی جانب سے مناسب اجرت بھی ملتی ہے۔ ہم فقیر چاہتے ہیں کہ ایک ایسا قانون بنایا جائے جس کے تحت ہمارے نمائندے کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔ اور ہمیں حق دیا جائے کہ ناقص کارکردگی کی بناپر ہم اپنے نمائندے کو De.Voteکرسکیں یعنی اپنے ووٹ واپس لے لیں، اور اس کی جگہ کسی اور شخص کو ووٹ دیکر اسمبلی میں اپنا نمائندہ بناکر بھیجیں۔ اگر آپ ہمیں ووٹ کے ذریعے کسی کو Hireکرنے کاحق دیتے ہیں، توپھر ہمیں، ناقص کارکردگی کی بناپر ا سے Fireکرنے کا بھی حق دیجئے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
جمعرات, ستمبر 24, 2026
تازہ خبریں:
- مسلم لیگ (ن) کی ’ تنہا پرواز‘ : مظہر عباس کا کالم
- جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
- امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی

