بہت مدت کے بعد کوئی ٹی وی سیریل دیکھا۔ ’دَرِ نجات۔‘ اچھا لگا۔ ڈرامہ کیا ہے، پورے بارہ مصالحوں کی چاٹ ہے۔ دین بھی ہے، دنیا بھی، ارب پتیوں کا لائف اسٹائل بھی ہے اور روحانیت میں سکون کا سبق بھی، چلبلی اور بے باک لڑکی بھی ہے اور بھگوان کے اوتار جیسا ہیرو بھی، عبادت گزار ماں بھی ہے اور اُس کا وائن پینے والا فرمانبردار بیٹا بھی، گھر میں ڈانس پریکٹس بھی ہوتی ہے اور تہجد بھی پڑھی جاتی ہے، امریکہ میں live in relationship بھی دکھایا ہے اور فجر کے لیے بیدار ہونے والا نوجوان بھی، مذہب نے جس کی کایا کلپ کر دی ہے۔ ایسے ڈرامے نے ریکارڈ توڑ رش ہی لینا تھا، خاص طور سے جب لکھاری عمیرہ احمد جیسی کہنہ مشق ہو۔ عمیرہ احمد کا نام جس اسکرپٹ کے ساتھ جُڑ جائے، ٹی وی چینلز والے اسے دَم کیے ہوئے تعویذ کی طرح چوم چاٹ کر گلے میں پہن لیتے ہیں۔ کسی لکھنے والے کے لیے اِس سے زیادہ توقیر کی بات نہیں ہو سکتی۔ دَرِنجات کے اسکرپٹ، پروڈکشن، اداکاری، سب میں نمبر پورے ہیں، لیکن۔۔۔
لیکن جدید ذہن کو متاثر کرنے کے لیے اِن ڈراموں میں مذہب کے جس ماڈل کا پرچار کیا جاتا ہے، ابوبکر اُس کی عملی تصویر ہے، دَرِنجات کا مرکزی کردار جو انسان کم اور فرشتہ زیادہ ہے۔ ہاورڈ کا تعلیم یافتہ مگر نماز قران پڑھنے والا، باوقار، حیادار، باکردار، دیانتدار، سمجھدار۔ اللہ نبی کے بعد ماں کی اطاعت کرنے والا، سب کے کام آنے والا، بے داغ اور صاف ستھری شخصیت کا مالک، وجیہ اور پُرکشش، لڑکیاں جس پر فدا ہوں مگر وہ کسی کی پروا نہ کرے، ماں کے اشارے پر چپ چاپ شادی کی ہامی بھر لے۔ دل میں دنیا کی طمع تو نہ ہو البتہ نوکری شاندار اور گاڑی فارچیونر ہو۔ گھر میں نوکر چاکر بھی ہوں۔ لڑکیوں سے دوستی تو ہو مگر پاکیزہ، کوئی آئی لو یو کہے تو شرما کے نظریں جھکا لے، مگر ضرورت پڑے تو دَم کرنے کے لیے نامحرم اور بے پردہ لڑکی کا ہاتھ بھی تھام لے۔ ظاہر ہے کہ ایسے ’مذہبی ماڈل‘ پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا تاہم مجھے یوں لگتا ہے کہ اپنی ضرورتوں اور خواہشات کے تابع مذہب کی تعبیر نہیں بدلی جا سکتی۔ اگر کوئی شخص فیشن ایبل کپڑوں کا برینڈ لانچ کرتا ہے تو یہ بالکل جائز کاروبار ہے لیکن جب مولانا طارق جمیل یہ کام کرتے ہیں تو درست نہیں کیونکہ بطور واعظ وہ اسلام کی جس سادگی کا درس دیتے ہیں اُس میں یہ گنجائش نہیں، اُس میں تو پیٹ پر پتھر باندھ کر کام کرنا پڑتا ہے۔ سرورِکائناتﷺ کے گھر مہینوں چولہا نہ جلتا اور کھجور اور پانی پر گزر بسر ہوتی، آپﷺ اپنا جوتا خود گانٹھتے اور کپڑے میں پیوند خود لگاتےتھے۔ اِن ٹی وی ڈراموں میں مذہب کی جو تعبیر دکھائی جا رہی ہے، دراصل وہ جین زی کو لبھانے کی کوشش ہے۔
اِس ماڈل میں گاڑیاں ہیں، بنگلے ہیں، بیرون ملک کے سفر ہیں، لڑکیوں سے دوستیاں ہیں مگر ساتھ نماز قران بھی ہے۔ ممکن ہے کوئی کہے کہ اِس میں کیا حرج ہے۔ تکنیکی اعتبار سے شاید کوئی حرج نہ ہو مگر جس دین کی تبلیغ ہم کر رہے ہیں یعنی اسلام، اُس میں ڈاکٹر اسرار کا لائف اسٹائل ہی چل سکتا ہے، مولانا طارق جمیل کا نہیں۔ نہ جانے مجھے کیوں لگتا ہے کہ یہ pious capitalism کی ایک شکل ہے یعنی ایسا تقویٰ جسے قسطوں میں خریدا جا سکے۔ ایسی روحانیت جس کا کوئی برانڈ ایمبیسیڈر ہو، جس کی پیکنگ خوبصورت ہو، جس پر قیمت لکھی ہو اور جسے استعمال کرنے کے بعد دل کو یہ اطمینان ہو کہ ہم نے دنیا چھوڑی نہیں، صرف اُس میں تیمّم کیا ہے۔ یہ وہ سودا ہے جس میں کوئی گھاٹا نہیں، فارچیونر بھی رہے گی، بیرونِ ملک کے سفر بھی، ملازموں کی قطار بھی اور اِن سب کے اوپر جنت کی گارنٹی بھی۔ اگر مذہب اتنا ہی سستا ہوتا تو انبیا کو پیٹ پر پتھر نہ باندھنے پڑتے۔
لیکن سوال یہ بھی ہے کہ میں کون ہوتا ہوں یہ طے کرنے والا کہ اسلام کا کون سا ماڈل اصلی ہے اور کون سا نقلی؟ میرے نزدیک ڈاکٹر اسرار احمد کا طرزِ زندگی قابلِ تحسین ہے اور مولانا طارق جمیل کا نہیں، مگر کیا یہ فیصلہ میرے دائرہِ اختیار میں ہے؟ اگر کوئی نوجوان فجر بھی پڑھتا ہے اور جِم بھی جاتا ہے، قران بھی کھولتا ہے اور نیٹ فلکس بھی، تو کیا میں اُس کے ایمان کی رسید مانگنے کا حق رکھتا ہوں؟ مذہب کی تعبیر ہر عہد میں بدلی ہے۔ جو لوگ آج ہمیں راسخ العقیدہ نظر آتے ہیں، اپنے زمانے میں وہ بدعتی کہلائے تھے۔ امام غزالی پر فلسفے کی آمیزش کا الزام لگا، ابنِ عربی پر کفر کے فتوے لگے، مغل دربار کی خطاطی اور مصوری کو مولوی نے کبھی جائز نہ کہا مگر آج وہی مصوری اسلامی آرٹ کے عجائب گھروں کی زینت ہے۔ تو پھر ابوبکر کے ساتھ اتنی سختی کیوں؟ یہ سوال میرا اپنا نہیں، یہ مقدمہ محقّق اور اسکالر شہاب احمد نے اپنی کتاب What Is Islam? The Importance of Being Islamic، میں نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ شہاب احمد کا سوال بظاہر سادہ ہے مگر اُس نے مستشرقین سے لے کر مسلم علما تک سب کے لتّے لیے ہیں۔
شہاب کہتا ہے کہ اگر اسلام صرف وہ ہے جو فقہ اور شریعت کی کتابوں میں لکھا ہے تو پھر اُس ہزار سالہ تہذیب کا کیا کریں جو بلقان سے بنگال تک پھیلی ہوئی تھی اور جس میں حافظ کی شراب کی شاعری بھی تھی، ابنِ سینا کا فلسفہ بھی اور خانقاہوں کی موسیقی بھی؟ کیا ہم یہ کہہ دیں کہ حافظ مسلمان نہیں تھے؟ کیا مثنویِ مولانا روم غیر اسلامی ہے؟ شہاب احمد کہتے ہیں کہ صدیوں تک مسلمانوں نے اپنی زندگی اِن تضادات کے ساتھ گزاری اور اُنھیں تضاد سمجھا ہی نہیں۔ اُن کے نزدیک اسلام کو سمجھنے کی وہ تمام کوششیں ناکام ہیں جو اُسے کسی ایک قانونی سانچے میں ڈھالنا چاہتی ہیں کیونکہ حقیقی مسلم تہذیب اُس سانچے سے کہیں زیادہ کشادہ، کہیں زیادہ متنوع اور کہیں زیادہ متضاد رہی ہے۔ اب اگر شہاب احمد کی بات مان لی جائے تو ابوبکر بھی اُسی وسیع دائرے کا ایک نقطہ ہے۔ تہجد اور ڈانس پریکٹس ایک ہی گھر میں، تو کیا ہوا؟ حافظ کے ہاں بھی تو مے خانہ اور محراب ایک ہی غزل میں آ جاتے تھے۔
مگر اِس تمام معاملے میں ایک باریک فرق ہے۔ حافظ کا تضاد ایک تخلیقی کشمکش تھی جس کے نتیجے میں شاعری جنم لے رہی تھی۔ وہ تضاد مہنگا تھا، اُس کی قیمت بدنامی تھی، فتوے تھے، جلا وطنی تھی۔ ہمارے ڈراموں کا تضاد سستا ہے۔ وہ کسی کشمکش سے نہیں، مارکیٹ ریسرچ سے پیدا ہوا ہے۔ اُس کے پیچھے کوئی صوفی نہیں بیٹھا، ایک چینل کا مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ بیٹھا ہے جسے معلوم ہے کہ اٹھارہ سے پینتیس سال کا شہری ناظر کیا دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ گناہ بھی دیکھنا چاہتا ہے اور توبہ بھی، دولت بھی اور درویشی بھی، اور یہ سب ایک ہی گھنٹے میں، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اشتہارات کے ساتھ۔ حافظ کا تضاد سوال پیدا کرتا تھا، ہمارا تضاد سوال ختم کرتا ہے۔ وہ بے چین کرتا تھا، یہ تسلی دیتا ہے۔ اور مذہب کا اصل کام، جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں، تسلی دینا نہیں، بے چین کرنا ہے۔ دوسرا مسئلہ اِن ڈراموں میں عورت کا ہے۔ اِن ڈراموں میں مرد کے پاس ہمیشہ ایک راستہ کھلا رہتا ہے۔ وہ لڑکھڑا سکتا ہے، شراب پی سکتا ہے، امریکہ میں کسی کے ساتھ رہ سکتا ہے، سگریٹ کے دھوئیں میں راتیں گزار سکتا ہے، اور پھر ایک دن، عموماً ماں کے آنسوؤں یا کسی حادثے کے بعد یا کسی نیکوکار دوست کی تبلیغ کے نتیجے میں وہ دین کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور دین بھی وہ جو طالبان کا ہے۔ توبہ قبول ہو جاتی ہے۔ ماضی دھل جاتا ہے۔ اب وہ صرف پاکباز نہیں بلکہ پاکبازی کے سرٹیفکیٹ بانٹنے والا ہے، اب وہ دوسروں کو بھی صراط مستقیم پر چلائے گا۔ جبکہ لڑکی اگر ایک بار پھسل گئی تو اُس کے لیے توبہ کا وہ پریمئیم پیکج دستیاب نہیں۔ مرد کا ماضی ایک قصہ ہے، عورت کا ماضی ایک داغ ہے۔ عورت گناہ کرتی ہے تو عبادت گزار دادی ٹھنڈی سانس بھر کر کہتی ہے کہ آج کل کی لڑکیوں کی تربیت ہی ٹھیک نہیں ہوتی۔ یہ ہے وہ پیغام جو غیر محسوس طریقے سے دیا جاتا ہے، انگریزی میں اِسے boys will be boys کہتے ہیں۔
عمیرہ احمد بلاشبہ اپنے فن کی ماہر ہیں اور دَرِنجات ایک عمدہ ڈرامہ ہے۔ مگر ہر عمدہ چیز بے ضرر نہیں ہوتی۔ بعض اوقات سب سے کارگر پیغام وہی ہوتا ہے جو خوبصورت پیکنگ میں آئے، اچھی اداکاری کے ساتھ آئے، اور جسے دیکھ کر ہماری آنکھ بھیگ جائے۔ شہاب احمد نے ہمیں یہ سکھایا کہ اسلام کو کسی ایک تنگ سانچے میں بند کرنا اُس کی تاریخ کے ساتھ زیادتی ہے۔ بجا۔ مگر اُن کا نکتہ یہ تھا کہ یہ تہذیب اتنی کشادہ تھی کہ اُس میں سوال کرنے والے، شک کرنے والے، شراب پینے والے اور فلسفہ بگھارنے والے سب سما جاتے تھے۔ ہمارے ڈرامے اِس کے برعکس ہیں۔ اُن میں صرف امیر سما سکتا ہے، خوبصورت سما سکتا ہے، ہارورڈ کا پڑھا ہوا سما سکتا ہے اور ابوبکر جیسا مرد سما سکتا ہے۔ لیکن جیسے سارے مرد ایک جیسے نہیں ہوتے ویسے سارے ڈرامے بھی ایک جیسے نہیں، یقین نہ آئے تو مصطفیٰ آفریدی کا ’تن من نیل و نیل دیکھ لیں‘۔ آپ کو پاکستانی ہونے پر فخر ہوگا۔
( بشکریہ : ہم سب ۔۔ لاہور )
پیر, ستمبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ

