پاکستان میں ہر سال 14 اگست کو ان شخصیات کے ناموں کا اعلان کیا جاتا ہے جنہیں ریاست ان کی نمایاں، غیر معمولی اور قومی خدمات کے اعتراف میں سول اعزازات دینے کا فیصلہ کرتی ہے، جبکہ ان اعزازات کی باقاعدہ تقریبِ تقسیم اگلے سال 23 مارچ کو یومِ پاکستان کے موقع پر ہوتی ہے۔ یہ اعزازات محض دھات کے بنے ہوئے تمغے نہیں ہوتے، یہ دراصل ریاست کی طرف سے کسی فرد کی خدمات پر پوری قوم کے سامنے مہرِ تصدیق ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اصل اہمیت اس بات میں نہیں کہ یہ کتنے لوگوں کے سینوں پر سج گئے، اصل اہمیت یہ ہے کہ جن سینوں پر یہ تمغے سجے، وہاں تک پہنچنے کا راستہ کتنا صاف تھا۔

پاکستان کے سول اعزازات میں نشانِ پاکستان، نشانِ شجاعت، نشانِ امتیاز، نشانِ قائداعظم، نشانِ خدمت، ہلالِ پاکستان، ہلالِ شجاعت، ہلالِ امتیاز، ہلالِ قائداعظم، ہلالِ خدمت، ستارۂ پاکستان، ستارۂ شجاعت، ستارۂ امتیاز، ستارۂ قائداعظم، ستارۂ خدمت، تمغۂ پاکستان، تمغۂ شجاعت، تمغۂ امتیاز، تمغۂ قائداعظم اور تمغۂ خدمت شامل ہیں، جبکہ صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی بھی اہم ریاستی اعزاز ہے۔ یہ اعزازات تعلیم، سائنس، طب، ادب، صحافت، فنون، کھیل، سماجی خدمت، عوامی خدمت اور قومی خدمات سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی رکھنے والوں کو دیے جاتے ہیں۔
یہ روایت پاکستان کے ابتدائی برسوں سے چلی آ رہی ہے اور وقت کے ساتھ اس کے قواعد و ضوابط میں تبدیلیاں بھی کی جاتی رہی ہیں۔ آج نامزدگی، جانچ پڑتال اور مختلف کمیٹیوں کے ذریعے انتخاب کا ایک باقاعدہ نظام موجود ہے۔ سرکاری پالیسی میں بھی غیر معمولی، ممتاز اور قومی یا عوامی فائدے کی حامل خدمات کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔
تو پھر سوال بہت سادہ ہے۔ اگر میرٹ کا نظام موجود ہے تو میرٹ دکھائی کیوں نہیں دیتا؟
اس سال 355 پاکستانی اور غیر ملکی شخصیات کے لیے سول اعزازات کی منظوری دی گئی ہے۔ اس فہرست میں سائنس دان بھی ہیں، ڈاکٹر بھی، اساتذہ بھی، ادیب بھی، فنکار بھی، کھلاڑی بھی، سماجی کارکن بھی، صحافی بھی اور سرکاری عہدیدار بھی۔ تعداد زیادہ ہے یا کم، یہ اپنی جگہ ایک الگ بحث ہے، لیکن اصل سوال تعداد کا نہیں، معیار کا ہے۔
کیونکہ جب کسی شخص کا نام پکارا جاتا ہے تو تقریب میں عموماً اس کی خدمات کی چند سطریں بھی پڑھ دی جاتی ہیں۔ یہ اچھی بات ہے، لیکن کیا یہی شفافیت کے لیے کافی ہے؟ میرے خیال میں نہیں۔ اصل سوال تو اس کے بعد پیدا ہوتا ہے۔
فرض کیجیے ایک شعبے سے دس افراد نامزد ہوئے اور ان سب نے اپنی اپنی جگہ غیر معمولی کام کیا۔ لیکن اعزاز صرف ایک کو مل گیا۔ اب عوام کو صرف اس ایک شخص کی خدمات بتا دینا کافی نہیں۔ عوام یہ بھی جاننا چاہیں گے کہ باقی نو میں ایسی کون سی کمی تھی جو منتخب ہونے والے فرد میں نہیں تھی؟
کیا منتخب شخص کی کارکردگی زیادہ غیر معمولی تھی؟ کیا اس کے کام کا قومی اثر زیادہ تھا؟ کیا اس کی خدمات کا دائرہ وسیع تر تھا؟ کیا اس کی کامیابی قابلِ پیمائش تھی؟ کیا اس نے کوئی ایسا منفرد کام کیا جو دوسرے امیدوار نہیں کر سکے؟ کیا اس کی خدمات کا عوامی فائدہ زیادہ تھا؟ یا کوئی اور واضح معیار تھا جس پر وہ باقی امیدواروں سے آگے نکلا؟
اگر ایسا کوئی معیار موجود تھا تو پھر اسے چھپانے کی ضرورت کیا ہے؟
یہاں ایک بہت بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کسی شخص کی خدمات بیان کرنا اور اسے دوسروں پر ترجیح دینے کی وجہ بتانا دو الگ چیزیں ہیں۔ پہلی چیز تقریب میں چند جملوں میں بیان ہو جاتی ہے، دوسری چیز شفافیت کا اصل امتحان ہے۔
مثلاً اگر کسی صحافی کو ریاستی اعزاز دیا گیا تو اس کی صحافتی خدمات بیان کر دی گئیں۔ بہت خوب۔ لیکن اگر اسی شعبے میں کئی دوسرے صحافی بھی برسوں سے کام کر رہے ہیں تو سوال یہ ہوگا کہ اس شخص کو ان سب پر ترجیح کیوں دی گئی؟ کیا اس کی صحافت کا قومی اثر زیادہ تھا؟ کیا اس نے کوئی تاریخی کردار ادا کیا؟ کیا اس کا کام کسی بڑے قومی مسئلے کو حل کرنے کا ذریعہ بنا؟ اگر ہاں تو یہ بات عوام کو بتائی جانی چاہیے۔
یہی اصول ایک استاد، ڈاکٹر، سائنس دان، فنکار، کھلاڑی، ادیب، سماجی کارکن اور سرکاری افسر سب پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔
اور جب یہی اعزازات موجودہ حکومتی عہدیداروں تک پہنچتے ہیں تو سوال کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔اس سال بھی بہت سے حکومتی عہدیداران اور وفاقی کابینہ میں شامل افراد کو اس فہرست میں شامل کیا گیا جن میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار (نشانِ امتیاز)، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی (نشانِ امتیاز)، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب (نشانِ امتیاز)، وفاقی وزیر احد خان چیمہ (نشانِ امتیاز)، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی (نشانِ امتیاز)، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان (ہلالِ امتیاز)، ڈی جی آئی بی فواد اسداللہ (ہلالِ امتیاز)، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال (ہلالِ امتیاز)، سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال (ہلالِ امتیاز) اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اے اعوان (ہلالِ امتیاز) شامل ہیں۔
یہ کہنا درست نہیں کہ کسی وزیر یا سرکاری افسر کو اعزاز ملنا لازماً سفارش کی علامت ہے۔ ایسا کہنا بغیر ثبوت کے کسی فرد پر الزام ہوگا۔ اگر کسی موجودہ وزیر نے اپنی معمول کی سرکاری ذمہ داریوں سے بڑھ کر کوئی غیر معمولی قومی خدمت انجام دی ہے تو وہ بھی اعزاز کا اتنا ہی حق دار ہو سکتا ہے جتنا کوئی استاد، ڈاکٹر یا سائنس دان۔

لیکن پھر سوال یہ ہے کہ وہ غیر معمولی خدمت ہے کیا؟
اگر ایک وزیر کو اعلیٰ سول اعزاز ملتا ہے تو عوام کو یہ جاننے کا حق کیوں نہ ہو کہ اس نے اپنے عہدے کے معمول کے فرائض سے بڑھ کر ایسا کون سا کام کیا جس کی بنیاد پر اسے اس درجے کا قومی اعزاز دیا گیا؟ اگر ایک اعلیٰ سرکاری افسر کو اعزاز دیا گیا تو اس کی ایسی کون سی کارکردگی تھی جو اسے اسی شعبے کے دوسرے افسران سے ممتاز کرتی ہے؟
یہ سوال موجودہ حکومت کے بارے میں ہی نہیں، ماضی کی حکومتوں کے بارے میں بھی ہونا چاہیے۔ مختلف ادوار میں وزرا، سیاست دانوں اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو سول اعزازات ملتے رہے ہیں۔ اس لیے بحث کسی ایک جماعت یا حکومت کی نہیں، پورے نظام کی شفافیت کی ہے۔
پاکستان میں سفارش، سیاسی قربت اور اثرورسوخ کے حوالے سے سول اعزازات کے بارے میں تاثر بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتا رہا ہے۔ لیکن ہر اعزاز کو سفارشی کہنا بھی غلط ہوگا اور ہر سوال کو یہ کہہ کر ختم کرنا بھی درست نہیں کہ "سب کچھ میرٹ پر ہوا ہے۔” اگر سب کچھ میرٹ پر ہوا ہے تو پھر میرٹ دکھانے میں کیا قباحت ہے؟
ریاستی اعزاز دراصل ریاست کی مہرِ تصدیق ہے۔ یہ مہر جتنی معتبر ہوگی، اعزاز اتنا ہی باوقار ہوگا۔ اور اس مہر کی سیاہی سفارش کے شبہے سے نہیں بلکہ واضح میرٹ، قابلِ جانچ معیار اور شفاف انتخاب سے مضبوط ہوتی ہے۔
آخر میں سوال صرف اتنا ہے کہ اگر ایک شخص کو منتخب کیا گیا تو ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ دوسرے نامزد افراد کیوں منتخب نہیں ہوئے۔کیونکہ میرٹ صرف یہ ثابت کرنے کا نام نہیں کہ منتخب شخص اچھا تھا بلکہ میرٹ کا اصل امتحان یہ بتانا ہے کہ وہ دوسروں سے بہتر کیوں تھا اور شاید قومی اعزازات کے نظام کو اب اسی ایک سوال کا جواب دینا چاہیے۔
اعزاز سینے پر سجنے سے پہلے میرٹ عوام کے سامنے آنا چاہیے، کیونکہ جب میرٹ پردے میں رہے گا تو سوالات جنم لیں گے ہی۔
قومی اعزازات: اعزاز سینے پر، مگر میرٹ کا معیار کیا ہے ؟ ۔۔ کمال ایوب صدیقی کا کالم
ایڈیٹر12 Views

