راولا کوٹ : پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں کالعدم تنظیم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کے بعد حالات بدستور کشیدہ ہیں جبکہ میرپور میں بدھ کے روز دکانیں اور مارکیٹیں بند ہیں۔
Cجوائنٹ ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ راولاکوٹ اور میرپور میں سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے اس کے 17 ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری طرف مقامی انتظامیہ کے مطابق دو روز کے دوران مسلح تصادم میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ چار زخمی ہوئے ہیں۔
بی بی سی ہلاکتوں اور زخمیوں کے حوالے سے دونوں طرف سے جاری کردہ متضاد اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
راولاکوٹ کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ راولاکوٹ میں دریک کے مقام پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کارکنان بڑی تعداد موجود ہیں اور یہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ جبکہ بس ٹرمینل کی جانب سے آنے والے مظاہرین کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ دریک کے نزدیک کالعدم جماعت کے مسلح افراد نے چار زیرِ تعمیر مکانات میں پناہ لے رکھی ہے جہاں سے وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر مسلسل فائرنگ کر رہے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ایک رینجرز اہلکار ہلاک جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کو موصول اطلاعات کے مطابق دریک کے نزدیک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں کچھ ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ متعدد زخمی ہیں۔
دوسری جانب جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین نے دعویٰ کیا کہ ان کی معلومات کے مطابق 48 گھنٹوں کے دوران صرف راولاکوٹ میں دریک کے مقام پر فائرنگ کے نتیجے میں ان کے 11 کارکنان ہلاک ہوئے ہیں جبکہ میرپور میں گذشتہ روز پولیس کی فائرنگ سے چھ افراد مارے گئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
عابد شاہین کا کہنا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اپنے مقصد کے حصول تک مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ جاری رکھے گی۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موبائل سروس تو تاحال چل رہی لیکن انٹرنیٹ سروس میرپور کے علاوہ تمام جگہوں پر بند ہے۔
میرپور کے رہائشی فیضان کا کہنا ہے کہ ’صرف لینڈ لائن انٹرنیٹ کنیکشن کام کر رہا ہے۔ لیکن وہ بھی مستحکم نہیں جبکہ موبائل فون پر انٹرنیٹ نہیں چل رہا۔‘
کشمیر اور پاکستان کے حکام کا کیا موقف ہے؟
ایکس پر اپنے بیان میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین نے خطے میں اسمبلی انتخابات کے دوران ’مظفر آباد کی طرف مارچ کا سازشی منصوبہ بنایا جس کا مقصد بڑے پیمانے پر بے امنی پھیلانا تھا۔‘
ان کا الزام ہے کہ مظاہرین ’جدید اسلحے سے لیس ہیں‘ اور وہ ’سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔‘
گذشتہ روز پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیکریٹری اطلاعات محمد راشد حنیف اور ترجمان کشمیر پولیس ڈی آئی جی عرفان مسعود کاشفی نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ مظاہرین کے علاوہ بڑی تعداد میں ’عسکریت پسند‘ بھی اس صورتحال میں ملوث ہیں اور ’ریاست ان کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔‘
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

