ترقی محض سڑکوں، عمارتوں اور منصوبوں کا نام نہیں بلکہ سوچ، اداروں اور سماجی رویّوں کی تشکیلِ نو کا عمل ہے۔ آسٹرین ماہرِ معاشیات جوزف شومپیٹر نے “تخلیقی انہدام” (Creative Destruction) کا نظریہ پیش کرتے ہوئے یہ واضح کیا تھا کہ معاشی اور سماجی ترقی اس وقت جنم لیتی ہے جب پرانے، ناکارہ اور غیر مؤثر نظام ٹوٹتے ہیں اور ان کی جگہ نئے، متحرک اور تخلیقی ڈھانچے وجود میں آتے ہیں۔ یعنی ترقی کا راستہ جمود کو توڑ کر جدت کی طرف بڑھنے سے کھلتا ہے۔
پاکستان کو درپیش مسائل کا بغور جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری بڑی رکاوٹ وسائل کی کمی نہیں بلکہ فرسودہ نظاموں کی موجودگی ہے۔ ہمارے ادارے، ہماری بیوروکریسی، ہماری سیاست اور حتیٰ کہ ہمارا تعلیمی ڈھانچہ بھی طویل عرصے سے ایک ایسے سانچے میں قید ہیں جو اب وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں رہا۔ تخلیقی انہدام کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان نظاموں کو مقدس اور ناقابلِ تبدیلی سمجھنے کے بجائے تنقیدی نگاہ سے دیکھیں اور جہاں ضرورت ہو، وہاں جرأت کے ساتھ نئی راہیں متعین کریں۔
معاشی میدان میں پاکستان کو سب سے پہلے زرعی اور صنعتی ڈھانچوں میں تخلیقی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ روایتی زراعت، پرانی صنعتیں اور غیر مؤثر سرکاری ادارے اب ترقی کی رفتار سست کر رہے ہیں۔ شومپیٹر کے مطابق نئی ٹیکنالوجی، نئے کاروباری ماڈلز اور اختراعی سوچ ہی معیشت کو آگے بڑھاتی ہے۔ پاکستان میں آئی ٹی، فِن ٹیک، اسٹارٹ اپس، گرین انرجی اور ڈیجیٹل معیشت جیسے شعبے وہ میدان ہیں جہاں تخلیقی انہدام کے ذریعے نئی ترقیاتی توانائی پیدا کی جا سکتی ہے۔
تعلیم وہ شعبہ ہے جہاں تخلیقی انہدام سب سے زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔ ہمارا نصاب، تدریسی اسلوب اور امتحانی نظام اب بھی رٹّہ سسٹم کے گرد گھومتے ہیں۔ جب تک ہم تحقیق، تنقیدی شعور، تخلیقی اظہار اور عملی مہارتوں کو تعلیم کا مرکز نہیں بنائیں گے، تب تک ہم علم کی عالمی دوڑ میں پیچھے رہیں گے۔ پرانے تعلیمی سانچوں کو توڑ کر نئے فکری اور تکنیکی نظام قائم کرنا ہی حقیقی تعلیمی اصلاح ہے۔
سیاسی اور انتظامی نظام میں بھی تخلیقی انہدام کا مطلب یہ ہے کہ شخصیت پرستی، موروثی سیاست اور غیر شفاف طرزِ حکمرانی کی جگہ ادارہ جاتی جمہوریت، قانون کی بالادستی اور احتساب کو فروغ دیا جائے۔ جب تک طاقت چند ہاتھوں میں مرتکز رہے گی اور ادارے کمزور رہیں گے، تب تک ریاست تخلیقی توانائی پیدا نہیں کر سکتی۔
آج کے عالمی مفکرین اس بات پر متفق ہوتے جا رہے ہیں کہ ہر نظریہ، ہر ریاستی نظام اور ہر سماجی ڈھانچہ ایک مرحلے پر پہنچ کر تازگی اور تجدید کا تقاضا کرتا ہے۔ شومپیٹر کے بعد جدید ماہرینِ معاشیات جیسے جوئل موکیر، فلیپ ایگیون اور پیٹر ہاوِٹ نے یہ واضح کیا ہے کہ جدت صرف ٹیکنالوجی کی تبدیلی نہیں بلکہ پورے ادارہ جاتی اور فکری نظام کی تشکیلِ نو کا نام ہے۔ پاکستان کی ریاستی ساخت—عدلیہ، انتظامیہ، سیاست اور تعلیمی ماحول—اب ایک طویل جمود کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ یہ ادارے تخلیقی قوت پیدا کرنے کے بجائے اکثر رکاوٹ بن چکے ہیں۔ اس مرحلے پر ہمیں صرف اصلاح نہیں بلکہ تخلیقی انہدام کے ذریعے نئی تعمیر کی ضرورت ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تخلیقی انہدام کوئی تباہی نہیں بلکہ تخلیق کا راستہ ہے۔ پاکستان کو اگر ترقی کی شاہراہ پر آگے بڑھنا ہے تو اسے جمود، روایت پرستی اور فرسودہ ڈھانچوں سے نکل کر جدت، تحقیق اور جرأتِ فکر کو اپنانا ہوگا۔ شومپیٹر کا پیغام یہی ہے کہ ترقی خوف سے نہیں، تخلیقی جرأت سے جنم لیتی ہے—اور آج پاکستان کو سب سے زیادہ اسی جرأت کی ضرورت ہے۔
تخلیقی انہدام کی تھیوری اور پاکستان کی ترقی کی راہیں : پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا اختصاریہ
ایڈیٹر47 Views

