بلوچ خواتین دھرنے کو میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے تمام پیچز پر فالو کر رہا ہوں ۔ وہیں میں نے وزیراعظم کاکڑ کی پریس کانفرنس کا ایک کلپ دیکھا جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ ہمیں بلوچ خواتین پر کیا گیا تشدد تو نظر آتا ہے لیکن وہ چار ہزار شہداء نظر نہیں آتے جو بلوچ مسلح افراد کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ مجھے لگا کہ شاید یہ کلپ سیاق و سباق سے ہٹ کر ہو گا وزیراعظم یقیناً بلوچ خواتین پر تشدد کا دفاع نہیں کر رہے ہوں گے۔ اس لیے میں نے ان کی پریس کانفرنس ڈھونڈی اور ان کی چودہ منٹ کی مکمل تقریر سنی۔ اپنی تقریر میں وہ مکمل طور پر پاکستانی ریاستی جبر کا تحفظ کرتے ہوئے نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں اور صحافیوں کا ایک مخصوص قبیلہ بلوچ خواتین کی تحریک کا صرف ایک رخ دیکھ کر اور دنیا کو دکھا کر خود کو انسانیت پسندی کا چیمپین ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساری دنیا میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں پر پانی پھینک کر انہیں منتشر کیا جاتا ہے اور یہ ہر ریاست کے لیے بالکل جائز عمل ہے۔ ان کے مطابق بلوچ دھرنے کے مطالبات پر انہوں نے دھرنے کے رہنماؤں سے بات چیت کی کوشش کی لیکن ان رہنماؤں کا لہجہ بہت خراب ہے اور وہ انتہائی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ نگران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مظاہرین کے مطالبات اس قدر بیہودہ ہیں کہ وہ ان کا یہاں ذکر تک نہیں کر سکتے۔ ان کا موقف تھا کہ ان پر بےسبب تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں اس کے باوجود اسلام آباد میں بلوچ خواتین، بوڑھوں اور بچوں پر تشدد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آدھی رات کو لانگ مارچ پر تشدد ضرور ہوا لیکن اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے پاک فوج اور ایجینسیوں کا بھرپور دفاع کیا اور کہا کہ پاکستان کی سلامتی کے لیے ریاست سے جو کچھ بھی ہو سکا وہ کرے گی۔
نگران وزیراعظم نے کہا کہ 95 فیصد بلوچ عوام ریاست پاکستان کے حامی ہیں اور محض چند بلوچ علیحدگی پسند بلوچستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جن بلوچوں کو پاک فوج نے مارا ہے ان میں سے ہر ایک نے کم سے کم نوے قتل کیے تھے۔ انہوں نے ریاست کی بےبسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا عدالتی نظام بلوچ دہشت گردوں کو سزا نہیں دے سکتا کیونکہ وہ بےحد ناکارہ ہے۔ ان کے کہنے کا مطلب تھا کہ پاکستانی عدالتی نظام کا ناکارہ پن فوج کو بلوچ دہشت گردوں کے قتل کا جواز فراہم کرتا ہے کیونکہ ریاست کو بچانا سب سے ضروری ہے ۔انہوں نے طنزاً کہا کہ کیا ہم بلوچوں کے مطالبات پر ایک قانون سازی کر دیں کہ بلوچستان میں پنجابیوں اور کتوں کو مارنا جائز ہے۔ ان کے مطابق میں خود، آپ صحافی حضرات اور نام نہاد انسانیت پسند پنجابی بلوچستان میں آزادی کے ساتھ نہیں گھوم سکتے کیونکہ بلوچ دہشت گرد ان کو کچھ سوچے سمجھے بغیر گولیاں مار دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچ دہشت گرد ہر دوسرے دن تربت، نوشکی اور پنجگور میں پاک فوج کی چیک پوسٹوں پر حملے کرتے ہیں، کیا انسانی حقوق کی تنظیموں کو وہ نظر نہیں آتا؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلوچ دہشت گرد ہندوستان سے پیسے لیتے ہیں اور وہ علی الاعلان کہتے ہیں کہ ان دہشت گردوں کو را سے فنڈنگ ہوتی ہے۔ انہوں نے شاید نجم سیٹھی پر بھی طنز کیا کہ کچھ لوگ جو اب یہاں لاہور میں نامور صحافی ہیں وہ 70 کی دہائی میں را سے پیسے لے کر بلوچستان میں دہشت گردی کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش تو 9 ماہ کی دہشت گردی کے بعد پاکستان سے الگ ہو گیا تھا لیکن بلوچستان میں 20 سال سے یہ لوگ کوشش کر رہے ہیں اور اب تک ایسا نہیں ہو سکا ہے۔
نگران وزیراعظم نے کہا کہ بلوچ لانگ مارچ کے شرکاء دراصل بلوچ دہشت گرد لاپتا افراد اور ان انتہا پسندوں کے لواحقین ہیں جنہیں مار دیا گیا تھا۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ کیا دہشت گردوں کے رشتہ دار نہیں ہوتے اور کیا ان کے جذبات نہیں ہوتے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دہشت گرد نہیں ہوتے۔ انہوں نے عوام، صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ ان کی بات کو سمجھیں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسلام آباد دھرنے کی ہرگز حمایت نہ کریں۔
شاید میں نے ان کی پوری تقریر کا لب لباب اوپر پیش کر دیا ہے۔ اگر آپ کو بھی وزیراعظم کی تقریر سننے کا اتفاق ہوا ہے تو یقیناً آپ جان لیں گے کہ ان کی تقریر دراصل ریاست کے خلاف ایک پوری چارج شیٹ ہے۔ وزیراعظم یا تو بہت بیوقوف ہیں یا بہت صاف گو کہ وہ بلوچ عوام پر ریاستی تشدد کا اقرار کر گئے۔ بین الاقوامی برادری کو بھی یہ تقریر سننے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کی ملاملٹری ریاست کا مکروہ چہرہ اس کے سامنے آ سکے۔ اگر یہی سچ ہے جو نگران وزیراعظم کاکڑ بول گئے ہیں تو بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مظاہرین اپنے مطالبات میں مکمل طور پر حق بجانب ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ریاست کے پاس بلوچ عوام کے مسائل کا کوئی حل موجود نہیں ہے۔ وزیراعظم کی پریس کانفرنس کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے انسانی حقوق کی ان کھلم کھلا خلاف ورزیوں کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ پنجابی عوام کے سامنے اپنا مدعا کامیابی سے پیش کر چکی ہیں اور پنجابی عوام ان کی بات سمجھ چکے ہیں۔ انہوں نے پنجابی عوام کی مہمان نوازی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ریاست صرف بلوچ ہی نہیں بلکہ پنجابی عوام کو بھی لاپتا کرتی ہے۔ انہوں نے مدثر ناڑو کا نام لیا اور کہا کہ وہ چھ سال سے لاپتا ہیں، ان کی بیوی وفات پا چکی ہیں اور ان کا بچہ دنیا میں تنہا ہے لیکن مدثر ناڑو کا اب تک پتا نہیں چل سکا ہے کہ وہ کہاں ہیں۔
نگران وزیراعظم کی تقریر سن کر میں سوچ رہا ہوں کہ ایک ریاست جو اتنی اپاہج ہو چکی ہو کہ وہ قانون نافذ نہ کر پانے کی سنگین نااہلی کا اقرار کر رہی ہو اور لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کے جواز پیش کر رہی ہو کیا اسے قائم رکھا جا سکتا ہے؟ کیا قائداعظم کی ریاست پاکستان مزید ٹوٹنے سے بچ سکے گی؟
بدھ, ستمبر 9, 2026
تازہ خبریں:
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا
- صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ منظور : پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری ہوئی
- پی آئی اے، بیجنگ اور شریکے : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- پی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر حماد اظہر ملتان سے گرفتار۔لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا

