ملتان : ملک کے نامور خطاط ، ماہر تعلیم اور ملتان کی نامور علمی اور سماجی شخصیت حاجی غلام فرید بھٹی مختصر علالت کے بعد بائیس دسمبر 2023 کو اسلام آباد میں انتقال کر گئے ۔ ان کی عمر 80 برس تھی اور وہ کچھ عرصے سے دماغ کے کینسر میں مبتلا تھے۔ڈیڑھ ماہ قبل اس بیماری کی تشخیص ہوئی تو کینسر پھیل چکا تھا۔
غلام فرید بھٹی ملتان کے ان اساتذہ میں شامل تھے جنہوں نے اس خطے میں خطاطی کے فروغ کے لیے بہت زیادہ کام کیا۔ انہوں نے خطاطی کے موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی۔ جسے کتاب نگر نے شائع کیا ۔
غلام فرید بھٹی کے فن پاروں کی بے شمار نمائشیں بھی منعقد ہوئیں۔ان کی شاگردوں کی تعداد بلاشبہ ہزاروں میں ہے۔خاص طور پر ان کے پیٹوں میں نوید فرید بھٹی نے ان کے کام کو بہت آگے بڑھایا ۔نوید کو ان کے کام پر تمغہ امتیاز بھی ملا۔
غلام فرید بھٹی ملتان اور اہل ملتان سے بہت زیادہ پیار کرتے تھے۔خاص طور پر وہ ادبی بیٹھک اور ٹی ہاؤس کی ہر ادبی تقریب میں علالت کے باوجود شرکت کرتے۔ رہے
چند ماہ قبل انہوں نے اپنے گھر میں چند احباب کے لیے ظہرانےکا اہتمام کیا۔انہوں نے کھانے میں بہت زیادہ تکلف کیا۔لیکن افسوس کی بات ہے کہ وہاں پر ان کے احباب وعدے کے باوجود تشریف نہ لائے۔اس کے باوجود وہ تمام دوستوں کا شکریہ ادا کرتے رہے۔میری ان سے یہ آخری ملاقات تھی اور کیا معلوم تھا،اب ہم ان کو دوبارہ نہ دیکھ سکیں گے اور نہ ہی مل سکیں گے۔
ان کو آج رات اسلام آباد میں سپرد خاک کر دیا جائے گا۔۔غلام فرید بھٹی نے ملتان میں بھرپور زندگی گزاری لیکن افسوس کہ اہل ملتان ان کے آخری دیدار سے محروم رہے ۔
اتوار, ستمبر 13, 2026
تازہ خبریں:
- نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
- رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ

