رضی الدین رضی کی جے !!
تلاش کرنے ہیں کچھ اپنے جیسے لوگ
اور ایک حلقہ آورگاں بنانا ہے
رضی الدین رضی ملتانی نہیں مگر زمین زادہ ضرور ہے ۔ اسی لیے ابھی تک ” سچ آکھیاں بھانبھڑ مچدا اے ” کی متحرک تصویر ہے۔ ملتانی ادب کے نام نہاد اصیل مرغوں کو برائلر ثابت کرتا رہتا ہے کیونکہ ان کے ہاں کسی وعدہ معاف گواہ کے لئے معافی مشکل ہے ۔ اس لئے وہ دوستوں کے ہجوم میں بالکل تنہا ہے ۔ حالانکہ اس کے احبابِ گرامی میں سے چند کے بارے میں میری پختہ رائے ہے کہ وہ مصلحت اندیش ہیں۔
ہے بعد کربلا سے بھی قرب یزید بھی
اور چاہتے یہ ہیں کہ نہ ہوں پنجتن سے دور
انتظامیہ کے پسندیدہ کرداروں پر اس کی گل افشانی گفتار ” بہوں سوادی ” ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ وہ اصلی انقلابی ہے ۔ رضی کی پہلی پہچان ” صحافی ” کی ہے مگر وہ خبریں گھڑتا نہیں ہے ، زرد صحافت نہیں کرتا ، پوچھ کر کلمہء حق نہیں کہتا۔ صرف چٹکیاں لیتا ہے اور رونے بھی نہیں دیتا ۔ تب ہم جیسے دنیا دار لوگ رضی کے کالموں میں ادبی چاشنی میں سے ” سوہن حلوہ ” تلاش کرتے ہیں کیونکہ سچ صرف وہی ہے جو ہم کہتے ہیں ۔ سچی بات ہے کہ رضی نثر میں شاعری کرتے ہیں ۔ شعر شور انگیز لگتے ہیں اور کالم فکر انگیز ۔ ٹھک سے دل میں تیر کی طرح لگتے ہیں ۔ حالانکہ ہم ساری عمر تلوار اور تیر کے انتخابی نشان کے حامی نہیں رہے ۔
عجب پاگل یہ عینک کے فریم میں سلگتی سوچوں میں ڈوبا ہوا سٹیج پر مجبوراً بیٹھا ہوا شخص ہے کہ اگر انہیں کوئی کتاب پسند نہ آئے تو اس پر رائے دیتے ہوئے احتیاط سے کام لیتے ہیں اور بین السطور کوئی نہ کوئی ایسی بات کہہ جاتے ہیں جس سے کتاب کا اصل معیار سامنے آ جاتا ہے ۔ اصلیت تک پہنچنے کے لیے ہمیں ” فرہنگ آصفیہ ” کی ہرگز ضرورت نہیں پڑتی ۔ کیونکہ رضی الدین رضی ” پروفیسر ” ہرگز نہیں ہے ۔
جن دنوں ہم مولتان ایک سرکاری ادارے میں سربراہ تھے تو ان کی کتابوں کو کالج لائبریری میں محفوظ کرنا چاہا تاکہ میں ان ” بقلم خود عظیم لکھاریوں سے بچ سکوں جن کی پرزور خواہش ہوتی تھی کہ ان کی ہر کتاب کے کم از کم پانچ نسخے ضرور اصل قیمت پر نقد خریدیں جائیں تاکہ ابنِ خادم رزمی ادب کی خدمت کر سکیں جنہیں پڑھ کر مجھے یہ احساس ہوتا تھا کہ یہ دانش خور ہمارے علم میں تو کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کر سکیں گے البتہ ہمارا فشار خون بڑھانے میں بہت مددگار ثابت ہوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رضی الدین رضی۔۔۔۔۔ واحد لکھاری تھا جو پیہم اصرار پر اپنی کتابیں مفت فراہم کرنے کے تیار تھا مگر کالج لائبریری کو فروخت کرنے کے لئے آمادہ نہیں تھا ۔ ہے نا عجب شخص ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رضی الدین رضی۔۔۔۔۔ ترقی پسند ہے مگر ذاتی ترقی پسند نہیں ہے اس لئے روز کنواں کھودتا ہے ۔ قلم کا مزدور ہے مگر اس سے ازار بند کا کام لینے کے لیے ” لفافہ بازی ” نہیں کر تا اسی لیے ابھی تک پرانی موٹر سائیکل پر پھرتا ہے ۔ خواب دیکھتا ہے مگر خواب بیچتا نہیں ہے ۔ چمکتے ستاروں ، جلتے دیپوں اور جگنوؤں کے اجالوں سے ایسی اجلی رہگزر کا ہم سفر ہے جن پر بیٹھے ہوئے پرندےکی مانند اپنی بانسری کی سریلی آواز میں محبت کے خوبصورت گیت گنگناتا رہتا ہے کہ جن کی تاثیر سے نفرت کا وجود ریزہ ریزہ ہو کر مٹ جائے ۔
رضی الدین رضی ۔۔۔ پروفیسر نہیں مگر پی ایچ ڈی گریڈ والوں سے بہت زیادہ صحافتی ، ادبی اور ثقافتی ” عالم ” ہے۔ نظریاتی صف بندی میں دوسرے کنارے پر آباد ہے ۔ چونکہ دو نمبر بندا نہیں ۔۔۔۔۔ اسی وجہ سے مجھے اپنا اپنا لگتا ہے۔ غیر معمولی شدتِ احساس کا ایسا شاعر ، کالم نویس اپنی جگہ ” ادب کا گھنٹہ گھر ” ہے جن سے مل کر یقین ، محبت ، خوشبو ،انقلاب اور امید کے پھولوں کا سہانا گلدستہ لگتا ہے جن سے مل کر خوشی ہوتی ہے کہ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں ۔ والد گرامی ” خادم رزمی ” کا شعر یاد آ رہا ہے :
بس ایک خواب بکھرنے کے انتظار میں ہیں
طویل ہم کوئی کار جہاں نہیں رکھتے
فیس بک کمینٹ

