رضی الدین رضی صاحب سے تعلق تقریباً تین دہائیوں سے زائد عرصہ پر محیط ہے جب میں چھوٹا تھا اور اپنے والد محترم حاجی فاروق احمد قریشی ہاشمی کے ساتھ کبھی کبھار پریس کلب آیا کرتا تو اس وقت پریس کلب کی پرانی بلڈنگ میں اکثر اوقات ان سے ملاقات ہوا کرتی تھی، وہ بڑی محبت اور شفقت سے ملا کرتے تھے۔والد محترم کی وفات کے بعد جب میں نے باقاعدہ طور پر جرنلزم کا شعبہ اختیار کیا تو کچھ عرصہ بعد میں نے غضنفر علی شاہی صاحب مرحوم کا پریس کلب کی سیاست کا گروپ نیوز مین پینل جوائن کر لیا اس گروپ کے سنئیر ممبران میں رضی صاحب بھی شامل تھے پھر ان سے ملاقاتوں اور محبت کا سلسلہ اور مضبوط ہو گیا،پریس کلب کی سیاست ہو یا پھر یونین کی سیاست، ہم اکٹھے ہوا کرتے تھے اور بہت سے الیکشن میں کامیاب بھی ہوئے۔
پھر اچانک رضی صاحب نے صحافتی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی لیکن میری ان سے محبت کا سلسلہ پہلے ہی طرح قائم و دائم ہے۔
وہ صحافتی شعبہ میں قدم رکھنے والوں کو کھل دل سے ویلکم کرتے ہیں اور اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں۔اخبارات میں ڈاؤن سائزنگ کا شکار ہوئے تو انہوں نے مجھ سمیت کئی دوستوں سے رابطہ کیا اور کہا کہ اصغر زیدی صاحب کو لوک سجاگ کے لئے رپورٹرز کی ضرورت ہے کیا آپ ان کے ساتھ کام کرنا چاہیں گے تو مجھ سمیت کئی دوستوں نے حامی بھر لی اور کام کرنا شروع کردیا۔ہمیں اسٹوری کرنے میں کہیں بھی مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے تو ہم بلا جھجک ان سے رابطہ کرلیتے ہیں۔رضی صاحب نے مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز میں اہم عہدوں پر اپنی خدمات سرانجام دی ہیں اور آجکل وہ اے پی پی اردو سروس ملتان کے انچارج ہیں وہ صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر، ادیب اور مصنف بھی ہیں اور انکی اب تک تقریباً 24 کتابیں مارکیٹ میں آچکی ہیں، جن میں شاعری کی کتابیں بھی شامل ہیں۔
رضی صاحب کی ایک غزل حاضر خدمت ہے۔۔
کون ہے جو اس قدر حیران میرے ساتھ ہے!
ہجر میں بھی وصل کا امکان میرے ساتھ ہے!
مجھ کو یہ شکوہ کہ میں تنہا ہوں اپنےشہر میں!
ان کو دکھ یہ ہے مرا ملتان میرے ساتھ ہے!
آج بھی رکھا ہوا ہے خود کو بس تیرا اسیر!
اب تری یادوں کا اک زندان میرے ساتھ ہے!
اس میں ہی راہ ہدایت ہے رضی میرے لئے!
اپنی غزلوں کا جو یہ دیوان میرے ساتھ ہے!

