یہ سن دو ہزار دو یا تین کی بات ہوگی کہ جب میں نے رضی بھائی کا نام پہلی بار سنا یہ تب ہوا کہ جب پہلی بار مکالماتی شاعری سے تعارف ہوا تو معلوم ہوا کہ مکالماتی شاعری کا ایک جن اس شہر میں بھی رہتا ہے اور اس کا نام رضی الدین رضی ہے مجھے لگا کہ شاید کوئی بزرگ شخصیت ہونگے تصور میں جو تصویر ابھری وہ لگ بھگ جنابِ اصغر علی شاہ اور ان کے ساتھ بیٹھنے والے دیگر عزت مآب بزرگ کہ جو تاج ہوٹل پہ ہر شام بیٹھا کرتے تھے جیسی تھی لیکن ایک بار ہوٹل سندباد میں ایک تقریب کے بعد خالد سعید صاحب کو ایک درمیانی عمر کے ایک صاحب کہ جو دراز قد تھے اور چہرے اور عینک کے فریم کے سٹائل سے انتہائی سنجیدہ معلوم ہوتے تھے، لیکن گفتگو جو وہ خالد صاحب سے کر رہے تھے وہ شیطانی سے بھرپور تھی جس میں ایک مشاعرے کا احوال تھا باہر نکلے تو خالد صاحب سے میں نے پوچھا کہ یہ کون تھے ؟؟ سر نے کہا کہ یار یہ رضی الدین رضی ہے صحافی بھی ہے لیکن بلا کا شاعر ہے اس کے بعد متواتر رضی بھائی نظر آتے رہے کبھی نوائے وقت کے دفتر میں تو کبھی جنگ کے کبھی مشاعروں کے سٹیج پر تو کبھی تقریبات میں ۔
ایک دن جمشید رضوانی بھائی کے پاس جیو نیوز ملتان آفس میں رضی بھائی بیٹھے تھے کہ میں وہاں پہنچ گیا اور تعارف جمشید بھائی نے کرایا کہ اچھا نوجوان ہے ایف ایم 103 پر ہوتا ہے وقت گزرتا گیا ایک دن یوں ہوا کہ میں نے عمران خان سے متعلق ایک فیس بک اسٹیٹس لکھا جس کو رضی بھائی کی آنکھ نے دیکھا تو وہ کالم بن گیا میں نے عملی صحافت کی ہوئی تھی رپورٹنگ کرنا آتی تھی لیکن کالم لکھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ لوگ مذ اق اڑائیں گے لیکن اس دن کہ جب رضی بھائی نے کہا کہ یہ بنا بنایا کالم ہے ایک جملہ بھرتی کا یا اضافی نہیں ہے تو ہمت پڑی کہ لکھا جائے اور بے دھڑک لکھا جائے گالی کی پرواہ کیے بغیر لیکن گولی سے بچ کے ۔
مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں نے ایک اینٹی اسٹیبلشمنٹ جملہ بہت بنا کر لکھا لیکن وہ چھپا نہیں وجہ پوچھی تو رضی بھائی نے کہا کہ "پتر تیری سیکورٹی وی ساڈی ذمہ داری اے”
ہم نےملتان لٹریری فیسٹیول شروع کیا تو پہلے سیزن میں رضی بھائی کو یہ لگا کہ جنگ اخبار کی کوئی رسمی ایکٹیویٹی ہے لیکن دوسرے سیزن میں وہ اس کا ایک کلیدی حصہ بن چکے تھے، رضی بھائی اس ٹیم کا حصہ ہیں کہ جو خالد سعید صاحب نے خود سلیکٹ کی تھی
میری لیے رضی بھائی ایک مینٹور کی حیثیت رکھتے ہیں وہ میرے ایڈیٹر بھی ہیں، میری چڑیا بھی ہیں، مجھے خبردار کرنے والے، اور سب سے بڑھ کر تخریب کاری کی تحریک دلانے والے۔
کبھی منصب کے پیچھے بھاگتے، پیسے کی لالچ کرتے ہم نے ان کو نہیں پایا جہاں بولا بے دھڑک بولا بغیر ڈرے بولا بغیر ہچکچاہٹ کے بولا شعر کہا تو جرات سے کالم لکھا تو تہذیب سے…… معاملہ فہمی، رکھ رکھاؤ ، خوش اخلاقی اور تلخ ترین بات کو شائستگی سے کہنے کا ڈھنگ جو رضی بھائی کے پاس ہے وہ کم ہی لوگوں کو میسر ہے…..
اگر لکھنے لگوں تو کافی وقت لگے لیکن صرف ایک بات کہ رضی بھائی جیسے لوگ معاشرے کی تہذ یب کے ضامن ہوتے ہیں حساس ہونا قدرت کی عنایات میں سے ایک ہے لیکن حساس ہونے کے ساتھ ساتھ معاملہ فہم ہونا سونے پہ سہاگہ ہوتا ہے اور یہی سہاگہ لگا سونا رضی الدین رضی ہے جو اللّٰہ کرے مسکراتا رہے اور اپنی اسی شرارتی مسکراہٹ سے لوگوں کے سینوں پر مونگ دلتا رہے
منگل, ستمبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم

