لاہور: نامور پاکستانی صحافی اور سابق نگراں وفاقی وزیر عارف نظامی انتقال کرگئے۔
عارف نظامی انگریزی اخبار پاکستان ٹوڈے کے بانی و ایڈیٹر اور نوائے وقت اخبار گروپ کے بانی حمید نظامی کے بیٹے تھے۔عارف نظامی گزشتہ دو ہفتوں سے لاہور کے مقامی اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں وہ آج خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔ عارف نظامی نے خاندانی اختلافات کے باعث 2010 میں انگریزی اخبار ‘دی نیشن’ کو خیر باد کہہ کر ‘پاکستان ٹو ڈے’ کی بنیاد رکھی تھی۔
2013 ء میں عارف نظامی کو نگران وفاقی وزیر برائے اطلاعات و پوسٹل سروسز بنایا گیا اور 2015 میں آپ نجی ٹی وی چینل ‘چینل 24’ کے سی ای او بنے جہاں سے آپ ایک پروگرام کی میزبانی بھی کرتے تھے۔
حالات زندگی
عارف نظامی پاکستان میں اخبارات کے مدیروں کی ایک تنظیم سی پی این ای کے منتخب صدربھی تھے ۔وہ ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جہاں صحافت ہی اوڑھنا بچھونا تھی۔ عارف نظامی کے والد حمید نظامی نے تئیس مارچ سنہ انیس سو چالیس کو عین اس دن لاہور سے نوائے وقت کا پہلا پرچہ شائع کیا جب لاہور کے منٹو پارک میں قرارداد پاکستان پیش کی گئی۔ ان کے والد صرف پینتالیس برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ مجید نظامی اپنا الگ اخبار ندائے ملت نکال چکے تھے۔ عارف نظامی کی والدہ نے نوائے وقت کی ادارت سنبھالی اور اپنے کم سن بچوں کے ساتھ اخبار چلانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہیں۔ چند ہی مہینوں میں نوائے وقت کی اشاعت بہت کم رہ گئی تھی۔ دیور بھابھی میں صلح کے بعد مجید نظامی روزنامہ نوائے وقت کے انتظامی اور ادارتی سربراہ ٹھہرے، بھتیجے عارف نظامی نے ایک عام رپورٹرکی حثیت سے اخبار میں کام کرنا شروع کیا اور سنہ انیس سو چھیاسی میں اس دور کے پنجاب کے واحد نجی انگریزی اخبار ’دی نیشن‘ کی بنیاد رکھ دی۔ پرنٹ لائن پر عارف نظامی کا نام شائع ہوا۔ یوں عارف نظامی کا شمار پاکستان کے صفحہ اول کے صحافیوں میں ہونے لگا۔ ستمبر دو ہزار نو میں انہیں اپنے چچا سے اختلافات کی بنیاد پر روزنامہ دی نیشن سے نکال دیا گیا۔
بدھ, اگست 26, 2026
تازہ خبریں:
- پمز ہسپتال اسلام آباد کی نرسری میں آتشزدگی ، 14 نومولود جاں بحق
- ایوان صدر میں پیران طریقت کا ملاکھڑا : وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم
- خاموش گھر : نبیلہ عصمت کا افسانہ
- سوشل میڈیا پرتضحیک اور کردار کشی : لائیکس کے لیے شخصیت داؤ پر نہ لگائیں ۔۔ پروفیسر صابر جروار کا کالم
- آمریت پہاڑ نہیں: محض ریت کی دیوار ہے : فہیم عامر کا تجزیہ
- عمران خان کی بیماری پر سیاست اور حکومت کی بدحواسی :سید مجاہد علی کا تجزیہ
- راولپنڈی میں خاتون کی باتھ روم سے لاش برآمد، شوہر اور ملازم گرفتار
- ہائبرڈ اور آمرانہ نظام مستقل نہیں چلتے : ارشد بٹ ایڈووکیٹ کا تجزیہ
- مجھے عمران خان کا حامی کس نے بنایا ؟ حکمرانوں سے ایک سوال :کمالیات / کمال ایوب صدیقی کا کالم
- معاشی خللِ تَوَجُّہ یا انحرافِ توجہ؟؟ : کیا ہم پر قرضوں کا بوجھ واقعی کم ہو گیا ہے ؟ فہیم عامر کا کالم

