Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
اتوار, ستمبر 13, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
  • رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
  • کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
  • پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
  • دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
  • حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
  • پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
  • موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
  • مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
  • پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » ایک تھی ملکہ ۔۔ ظہیر کمال کی یاد نگاری ( اہلیہ کی پہلی برسی پر اضافوں کے ساتھ )
لکھاری

ایک تھی ملکہ ۔۔ ظہیر کمال کی یاد نگاری ( اہلیہ کی پہلی برسی پر اضافوں کے ساتھ )

ایڈیٹردسمبر 1, 2023165 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
zaheer kamal
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

کہانی اچھے یا برے واقعات کا مجموعہ ہوتی ہے جبکہ افسانہ جس نے کہانی کے بطن سے جنم لیا ہوتا ہے واقعات سے زیادہ محسوسات کا مرقع ہوتا ہے۔ کہانی اور افسانے میں بڑا فرق یہی ہے کہ کہانی بالآخر انجام تک پہنچ کر ختم ہو جاتی ہے ۔ افسانہ میرے نزدیک ایک معمہ ہے جسے پڑھنے کے بعد بھی کہیں نہ کہیں تشنگی اور ہجر کا احساس نمایاں رہتا ہے۔زیر نظر تحریر ہے تو میری زندگی کی کہانی کا ایک ورق لیکن اس میں موجود درد کی رمق اسے افسانے کے موڈ میں ڈھال دیتی ہے ایک رفیق زندگی جس نے چار دہائیاں اچھے بُرے حالات میں ساتھ گزاری ہوں اُس کا اچانک بچھڑ جانا بہت بڑا سانحہ ہے۔ یہ تحریر کچھ بھی نہیں بس اپنے دکھ اور جذبات کا اظہار ہے ۔ شکریہ۔
ظہیرکمال

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بادلوں کی گڑگڑاہٹ سے میری آنکھ کھلی توگھڑی چاربجارہی تھی۔باہر بارش کاشورتھا۔ میں نے صوفے پرلیٹے لیٹے ہاتھ بڑھاکرڈرائنگ روم کی کھڑکی کھول کرباہر جھانکا توگلی میں گھپ اندھیراپایا،بارش موسلادھارہورہی تھی یوں لگتاتھاجیسے آسمان پھٹ پڑاہواورکوئی ناگہانی مصیبت ٹوٹنے والی ہے،گیٹ کے ساتھ پارک کی گئی کارپر یکدم اولوں کی بوچھاڑآتی توسازبجنے کی آوازسنائی دیتی۔میں دوبارہ سونے کاارادہ کرہی رہاتھاکہ بادل اس زورسے گرجاکہ میرادل گویا حلق سے جالگا۔ سیاہ بادلوں سے ڈھکے آسمان پربجلی باربارکڑکتی اورتیز روشنی کی آڑی ترچھی لکیریں ابھرتے ہی غائب ہوجاتیں۔ اولوں کے ٹکڑے بارش کے پانی میں ستاروں کی مانندڈبکیاں لگارہے تھے ۔کھڑکی کھلنے سے کمرے میں خنکی بڑھ گئی تھی۔یہ 6جون 2023ءکی صبح تھی۔ کل دن بھرسورج آگ برساتارہا مگر شام ڈھلتے ہی ٹھنڈی ہواچل پڑی اور گرمی کے ستائے ہوئے لوگوں نے سکھ کاسانس لیا۔بارش کے آثاردیکھ کرمیں رات کوڈرائنگ روم میں آگیااورپنکھا چلاکرکتابوں کی ورق گردانی کرنے لگا۔ مجھے مطالعے کی عادت بچپن سے ہی ہے،الف لیلیٰ ہزارداستان سے لے کرتاریخ،ادب ،فلسفہ،شاعری غرضیکہ مختلف موضوعات پر ہزاروں کتابوں کامطالعہ کیاہے،اخبارسے ریٹائرمنٹ کے بعدتواب زیادہ تروقت کتابیں پڑھنے میں ہی گزرتاہے ۔
رشیدہ بیگم کوبیمارپڑے کم وبیش پانچ سال کاعرصہ ہوگیالیکن جب سے گردوں کاعارضہ لاحق ہوا وہ بستر سے لگ گئی ۔اس کاعلاج شہرکے گنے چنے چندبہترین ڈاکٹروں سے ہوتا رہا ۔جب بھی اسے کچھ افاقہ محسوس ہوتا توسب کے چہروں پر رونق سی آجاتی ۔ علاج کے ساتھ ساتھ اس کے آرام وسکون کے لئے بیڈروم کااے سی چوبیس گھنٹے چلتارہتا جس سے سخت گرمیوں میں بھی اس کاکمرہ ہروقت ٹھنڈارہتا مگر میرامعاملہ بالکل الٹ ہے،مجھے اے سی والے کمرے میں کبھی نیندنہیں آتی اس لئے اکثروبیشتراہلیہ کے کمرے سے متصل ڈرائنگ روم میں چلاجاتا،میری کتابوں کی الماری بھی وہیں ہے اس لئے سونے سے پہلے مجھے مطالعے کاموقع بھی میسرآ جاتا ۔
میری آنکھ تقریباََایک بجے لگی ہوگی کہ چندگھنٹے بعد ہی بادلوں کی گھن گرج نے نینداڑادی۔ میں کھڑکی بندکرکے بیڈروم میں آگیاجہاں وہ دنیاومافیہاسے بے خبر سوئی ہوئی تھی ۔ میں سرہانے کی جانب بیٹھ کرنرمی سے اس کے بازواور کندھے دبانے لگا۔اسی دوران اُس نے کروٹ لی تومیری نظریں اس کے چہرے پرگڑ گئیں۔اس کے مرمریں حسن کودیکھ کرمیں حیرت زدہ رہ گیااور آنکھیں باربارہتھیلیوں سے مل کر اسے دیکھتا رہا۔یہ منظرایساتھاجیسے کوئی حسین وجمیل پری اپنی خواب گاہ میں محوِاستراحت ہے ۔ہماری رفاقت کو41سال سے زائدعرصہ بیت چکا مگر اس میں نجانے ایساکیاطلسم چھپاہواتھا کہ جب بھی اس پرنگاہ پڑتی تو اسے دیکھتارہ جاتا۔میں نجانے کتنی دیرقدرت کی صناعی پرحیران ہوتارہا،اسی دوران ا چانک مجھے یادآیاکہ آج ڈاکٹروں نے ڈائیلسزکے لئے ایک بجے کاوقت دے رکھا ہے۔یہ خیال آتے ہی مجھے دل میں عجیب سی بے کلی محسوس ہوئی اورمیں اٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگا۔
اذانیں شروع ہوگئی تھیں اوربارش کاشوربھی دھیما پڑگیا تھا ۔ میں نے نمازگھرمیں ہی اداکی اورپھر کمرے میں آکراس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔گھرکے باقی لوگ بھی جاگ گئے تھے۔تھوڑی ہی دیرمیں اس کی آنکھ کھل گئی اوروہ بستر سے اترکرقریب پڑی آرام کرسی پربیٹھ گئی۔وہ کوئی ایک گھنٹہ نیم غنودگی کی حالت میں رہی ،جیسے ہی نیندکاخماراترااسے بھوک محسوس ہوئی اور ناشتے کاپوچھا ۔میں جلدی سے ناشتے کاسامان لینے بازارکی طرف چل دیا۔گلی میں بارش کاپانی جمع ہونے کی وجہ سے میں رک رک کر چل رہاتھا۔جوں جوں پانی میں قدم رکھتاتویوں لگتاجیسے کوئی غیرمرئی قوت مجھے کھینچ کرگہرے دریامیں لے جاناچاہتی ہے،میرے قدم من من کے ہوگئے تھے۔
اس کی آپی کی شادی میرے بڑے بھائی سے کئی سال پہلے ہوئی تھی۔وہ اپنی آپی کے ہاں بچے کی ولادت کے بعد پہلی بارہمارے گھرآئی تھی، ان دنوں وہ اپنے گاؤ ں کے سکول میں چوتھی جماعت میں پڑھتی تھی،میں اس سے ایک سال سینئرتھا۔مجھے کہانیاں پڑھنے کا اوراسے گڈے گڑیوں سے کھیلنے کاشوق تھا۔میں اباسے ملنے والاجیب خرچ گول گپے،دہی بھلے اورکچوریوں پراڑانے کے بجائے جوڑجوڑکرہرہفتے کہانی کی کتاب خریدلاتا۔ جب میرے پاس ڈھیروں کہانیاں جمع ہوگئیں تو محلے کے ہم عمرلڑکے اور لڑکیاں میرے گاہک بن کر کہانی کی کتابیں کرایہ پر لے جاتے ،جونہی میرے پاس نئی کتاب کے پیسے جمع ہوجاتے، میں پھر بازارسے نئی کتاب خریدلاتا۔ان دنوں کتابیں اتنی مہنگی نہیں تھیں۔چھ سے آٹھ آنے میں کہانی کی چھوٹی کتاب اوربارہ آنے میں سترسے اسی صفحے کاناول عام مل جاتاتھا۔ میری الماری کے ایک خانے میں اس نے اپنے تین چارگڈے گڈیاں اور ان کا سازوسامان سجا رکھاتھا۔ جب میرے پاس مزید کتابیں رکھنے کی جگہ نہ رہی تواسے الماری خالی کرنے کانادرشاہی حکم جاری کردیا ۔میراخیال تھاکہ یہ کام پرامن طریقے سے سرانجام پاجائے گامگروہ توآفت کی پرکالانکلی ،اس نے آؤ دیکھانہ تاؤ الماری سے اپناسامان نکال کرفرش پرپٹخناشروع کردیا۔شوروغل سن کرسب گھروالے آگئے،آپی نے بھی اسے روکنے کی کوشش کی مگراس نے کسی کی ایک نہ سنی اورالماری سے اپنی ہرچیزنکال کرالماری میرے حوالے کردی اورکپڑے کاسلاہوابٹوہ میری طرف پھینک کر بولی ”لوکاٹ لو اپنا کرایہ“اورمنہ پھلاکر چلی گئی۔اس واقعے میں اس کی ایک گڑیاکی گردن اوردوسری کی ٹانگ ٹوٹ گئی، ایک گڈے کا بازو فریکچر ہواجبکہ ایک کوشدید چوٹ آئی ۔اس کے علاوہ کانچ کی درجنوں چھوٹی چھوٹی چوڑیاں بھی فرش پر گرکر چکنا چور ہوگئیں،شام تک اس کاغصہ ٹھنڈانہ ہوااور دوگڑیوں کا جہیزجواس نے پیسہ پیسہ جوڑکراکٹھاکیاتھانجانے کس وقت اٹھاکر جلتے چولہے میں جھونک دیا اورپھر اگلے دن اپنے تمام زخمی گڈے گڈیوں کوسمیٹ کر گاؤ ں واپس چلی گئی۔مجھے اس کے روٹھ کر جانے کاکئی دن تک افسوس رہا۔
کچھ ماہ بعدآپی کی بیماری پر وہ اپنی والدہ کے ساتھ دوبارہ آئی تو اس نے کئی دن تک کسی سے کوئی بات نہیں کی ،بس خاموشی سے اپنی آپی کے کام کرتی رہتی۔ایک دن میں الماری میں کوئی کتاب ڈھونڈرہاتھا،اس دوران کچھ کتابیں فرش پر گرگئیں۔ وہ کسی کام سے کمرے میں آئی توفرش پرپڑی کتابوں کو دیکھ کراس نے کانوں کوہاتھ لگاتے ہوئے توبہ توبہ کی گردان شروع کردی اور بولی ۔”پتا ہے کتاب گراناکتنابڑاگناہ ہے،چلوجلدی سے اللہ میاں سے معافی مانگو،نہیں تو جہنم میں جلناپڑے گاسمجھے،اب کھڑے کھڑے میرا منہ کیادیکھ رہے ہو،اٹھاؤ ساری کتابیں “یہ کہہ کروہ فرش پر بیٹھ گئی اورایک ایک کتاب ہونٹوں سے چوم کر مجھے دینے لگی جیسے مجھے دوزخ کی آگ میں جلنے سے بچاناچاہتی ہو۔میں کتابیں دوبارہ ترتیب سے الماری میں رکھنے لگا۔وہ کچھ دیروہاں کھڑی کتابوں کے انبار کودیکھتی رہی۔اس دن میں نے پہلی باراسے غور سے دیکھاتھا،اس کی رنگت انڈے کی طرح سفید تھی جس پر بڑی بڑی آنکھیں اورلمبے سیاہ بال بہت بھلے لگ رہے تھے۔ ”تم پاگل تونہیں،اتنی ساری کتابوں کاڈھیرپڑاہے پھربھی آئے دن نئی کتاب خریدلاتے ہو،آخراتنی ساری کہانیوں کاکروگے کیا “وہ کہانیوں کاڈھیردیکھ کرحیران ہورہی تھی۔وہ ایک ثانئے کے لئے رکی اورسرکے گردانگلی گھماتے ہوئے بولی”سناہے زیادہ پڑھنے سے آدمی کادماغ چل جاتاہے،کہیں۔۔۔ “ بات پوری کرنے سے پہلے ہی اس کی ہنسی چھوٹ گئی اورموتیوں کی مانندسفیددانت چمکنے لگے۔ اتنے میں وہ کتاب ہاتھ آ گئی جسے میں کافی دیرسے تلاش کررہاتھا۔کہانی کانام تھا پرستان کی ملکہ ، یہ کتاب میں چند دن پہلے ہی خریدکرلایاتھااور ابھی تک اسے پڑھنے کاموقع نہیں ملاتھا۔میں نے کتاب کے سرورق پر نظر ڈالی جس پرایک خوبصورت پری کی تصویر چھپی ہوئی تھی۔یہ دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس تصویر اوراس کے چہرے میں بڑی حدتک مشابہت تھی ۔کبھی میں اس کے چہرے کو دیکھتا تو کبھی کتاب کے ٹائٹل کو،یوں لگتاتھامصور نے کہانی کاسرورق اسے سامنے بٹھاکر بنایاہے۔ابھی میں اسی شش وپنج میں تھاکہ اس کی نظر بھی سرورق پرجاپڑی۔ اس نے فوراََکتاب مجھ سے جھپٹ لی اور ٹائٹل کوغورسے دیکھنے لگی ۔پھروہ ایک دم ایسے اچھلی جیسے بچھونے کاٹ لیاہو۔اس کے چہرے کارنگ زردپڑگیا،وہ کچھ دیربت بنی کہانی کاسرورق دیکھتی رہی پھرتالومیں زبان پھیرتے بولی ”ذرا دیکھو یہ تومیری تصویرلگتی ہے، اب سمجھی میں کہ تم مجھے گھور گھور کرکیوں دیکھ رہے تھے “یہ کہہ کراس نے کتاب میری طرف بڑھاتے ہوئے آزردہ لہجے میں کہا ”مجھے سب پتا ہے یہ تمہاری شرارت ہے،تم نے چپکے سے میری تصویر کھینچ کر کہانی چھاپنے والون کودے دی ہوگی،ابھی جاکرآپی کوبتاتی ہوں۔“وہ روہانسی ہوگئی اور اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسوگرنے لگے۔
اسے روتا دیکھ کرمیرے پیروں تلے کی زمین نکل گئی ۔میں نے کہانی پڑھنے کے بجائے الماری میں رکھ دی اور اس کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا”یہ تصویر تمہاری بالکل نہیں،بس تھوڑی تھوڑی ملتی ضرورہے،خدارااپنی آپی کوکچھ نہ بتانامیں کل ہی جاکریہ کتاب دکان دارکو واپس کردوں گا“یہ سن کر اس نے رونابندکردیااورکہنی سے آنسوپونچھتے ہوئے بولی۔”سچ کہہ رہے ہوناں“ میں ہاں میں گردن ہلادی، اس نے جاتے ہوئے دوبار مڑکر الماری کی طرف دیکھااورچلی گئی۔دوسرے دن میں نے کتاب دکان دارکو واپس کرنے کے لئے الماری میں ڈھونڈی تونہ ملی۔ ایک باریہ خیال ضرور آیاکہ شایداس نے کتاب الماری سے نکال کر کہیں چھپادی ہے ہومگراس سے کتاب کے بارے میں پوچھنابھڑوں کے چھتے کوچھیڑنے کے مترادف تھا۔کچھ دن گزرے تھے کہ وہ کتاب الماری سے مل گئی ،کتاب کی حالت دیکھتے ہی میراخون کھول اٹھا،کہانی کاٹائٹل غائب ہوچکا تھا، لگتاتھاکسی نے سرورق بے رحمی سے اکھاڑکر پھینک دیاہے ۔ میں سمجھ گیاکہ ہم شکل پری کی تصویرکی وجہ سے اسی نے کتاب اڑائی اورپھرٹائٹل غائب کرکے الماری میں رکھ دی۔اب اس کی شکایت کرتابھی توکس سے کرتا، آپی تک بات جاتی تومیراتوبھرکس ہی نکل جاتا،اس حالت میں کتاب دکان دار کوواپس بھی کیسے کرتا،بس خون کے گھونٹ پی کررہ گیا۔دوسرے دن اس سے آمناسامناہواتورہ نہ سکا اور شکایت بھرے لہجے میں کہا”اچھی بھلی کتاب کاستیاناس کرڈالا،لگتاہے تمہیں بھی جہنم کی آگ سے ڈر نہیں لگتا“اس نے سنی ان سنی کردی اوردروازے سے نکلتے ہوئے مڑکر میری طرف دیکھ کر مسکرائی اور بولی”آج شام میری گڑیاکی شادی ہے، تم ضرور آنا۔“
گڑیوں کی شادی کاشوق اسے عمربھر رہا۔دیکھتے ہی دیکھتے اس نے چھ بیٹیوں اورایک بیٹے کی شادی ایسے کردی جیسے گڈے گڑیاکاکھیل ہو،اب تو اسے دو بیٹوں کے سرپر سہرا باندھنے کی خواہش تھی۔
ہماری شادی کاقصہ بھی لیلیٰ مجنوں سے ملتاجلتاہے،اس کی خوبصورتی کے چرچے کئی گھروں میں تھے،رشتے داروں کے کئی نوجوان اس سے شادی کے خواہاںتھے،سخت مخالفت کے باوجود قرعہ فال میرے نام ہی نکلااوروہ دلہن بن کرمیرے گھرآگئی ،ہماری شادی 14مئی 1982ءمیں انجام پائی،یہ سخت گرمیوں کے دن تھے،ہماراشہر میں چھوٹاساگھرتھا،ان دنوں اے سی صرف بڑی بڑی کوٹھیوں،بنگلوں یاسینماگھروں میں چلتے تھے،ہمارے عام سے گھر میں بجلی کے دو پنکھے لگے ہوئے تھے۔وہ کمرے میں مسہری پرگاؤ تکیے کے سہارے لمباساگھونگھٹ نکالے بیٹھی تھی،گھونگھٹ اٹھا تو میں نجانے کتنی دیرٹکٹکی باندھے اسے دیکھتارہا،یوں لگتا تھاکہ کوہ قاف کی کوئی حسین وجمیل پری الف لیلیٰ کی داستان سے نکل کرمیرے حجلہ عروسی میں آگئی ہے،مجھے اپناچھوٹاساکمرہ اس روزکسی بادشاہ کی خواب گاہ لگ رہاتھا ۔
اس نے آتے ہی سب کے دلوں میں گھرکرلیا۔سلائی کڑھائی میں توبچپن سے ہی طاق تھی مگر کھاناپکانا آپی کودیکھ دیکھ کر سیکھا،دوچارماہ میں وہ سبھی پکوان بناناسیکھ گئی اورپورے گھرکی ذمہ داری سنبھال لی،دسویں محرم پروہ رات بھر جاگ کر حلیم تیارکرتی جوبہت لذیذ ہوتا،کوفتے،مٹن کریلے اورکڑھی پکانے میں اسے خاص مہارت تھی ،وہ بہت ہنس مکھ اورملنسارتھی،معلوم نہیں اس میں ایسی کیا خوبی تھی کہ سارادن اس کے کمرے میںمحلے کی خواتین کاجمگھٹا لگارہتا۔وہ ان سے گھنٹوں باتیں کرتی،نماز،روزے کی سخت پابند تھی۔ تہجداوراشراق کابھی کبھی ناغہ نہ کیا،میں اکثر تین بجے صبح اخبار کے دفتر سے گھر لوٹتاتواسے تہجدمیں مصروف پاتا،گھرکے سارے کام وہ اپنے ہاتھوں سے کرتی اور فرصت کے اوقات میں ہاتھ میں تسبیح تھام لیتی ۔قرآن مجید کی تلاوت اور ہزاروں کی گنتی میں درودشریف کاورداس کاروزانہ کا معمول تھا،غریبوں مسکینوں کی مددکرکے اسے ہمیشہ خوشی محسوس ہوتی،دینی احکام کی سختی سے پابندی کرتی،ہرسال میلادالنبی ﷺکااہتمام کرتی،2012ءاور2022ءکے دوران ہم نے پانچ عمرے کئے۔ ۔
یکم جنوری2000 ءکادن میں کبھی نہیں بھول سکتا۔صبح آٹھ بجے اہلیہ کے ساتھ تین ماہ کے بیٹے کے میڈیکل چیک اپ کے لئے موٹرسائیکل پرنکلا،اس دن سردی تھی اور ہلکی ہلکی پھوار پڑرہی تھی،بچے کی طبیعت کافی ناسازتھی اس لئے ہم نے موسم کی پروانہ کی۔عیدگاہ کے عین سامنے پیچھے سے آنے والی کیری وین کے بائیں شیشے کی سلاخ اس کے سرسے لگ گئی اوروہ بچے سمیت اوندھے منہ سڑک پرگرگئی۔میں نے پلٹ کردیکھاتووہ خون میں تر بے ہوش پڑی تھی ،وین والافرارہوگیاتھا۔اسے فوراََہسپتال لے جاناپڑاجہاں اسے ایک گھنٹے بعدہوش آیا،اس خوفناک حادثے میں اس کی جان توبچ گئی مگراس کی صحت دن بدن گرتی چلی گئی ،کچھ عرصے علاج سے طبیعت بحال ہوئی تو آپی کی المناک موت نے اسے ہلاکررکھ دیا۔وہ اور اس کی آپی یک جان دوقالب تھیں،وہ دن رات آپی کویادکرکے آنسو بہاتی رہتی ،کچھ عرصے بعداسے شوگرکاعاضہ ہونے کاانکشاف ہواجس نےگھروالوں کوشدیددھچکالگاا۔ Covid-19 کی وباپھیلی توایک سینئرترین ڈاکٹر نے اس کے اندر بھی کرونا دریافت کرلیا۔یہ رپورٹ بعد میں غلط نکلی مگرکووڈکے انجکشنوں نے اس کے مدافعتی نظام کوتہ وبالاکردیا۔اس واقعے کے بعد اس کی کبھی طبیعت سنبھلنے میں نہ آئی اوراسے باربار ہسپتال لے جاناپڑتا۔کچھ دن علاج جاری رہتاتووہ پھرسے جی اٹھتی اورہماری جان میں جان آجاتی۔یہ بہت تکلیف دہ دن تھے ۔ایک رات سوتے سوتے اچانک اس کاسانس رکنے لگا،اسی دوران کسی بچے کی آنکھ کھل گئی اورماں کی حالت غیرہوتے دیکھ کررونے لگا۔پورے گھرمیں جیسے بھونچال آگیا۔سب کی نینداڑگئی تھی۔بیٹے نے اسے جھٹ پٹ گاڑی میں بٹھایااور ہسپتال لے گیا۔اس دن گھر میں جیسے سناٹاساچھاگیاتھا۔ سب سراسیمہ تھے اور گڑگڑاکراللہ سے دعاکررہے تھے۔پریشانی اورخوف کے باعث کسی کوبھی فون پراس کاحال پوچھنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی ۔ایک ایک پل صدی کی طرح لگ رہا تھا۔ تین گھنٹے گزرگئے، جب صبح کاسپیدہ نمودار ہونے لگاتوگیٹ پرگاڑی کے ہارن کی آوازآئی۔سب بھاگ کرگئے تویہ دیکھ کرحیران رہ گئے کہ وہ خودگاڑی کادروازہ کھول کر باہرآ رہی ہے اورچہرے پرتبسم رقصاں ہے،لگتاہی نہیں تھا چند گھنٹے پہلے وہ اسے سانس لینادشوارہورہاتھا۔ڈاکٹروں کے بقول چندمنٹ اورتاخیرہوجاتی توجان بچانامشکل ہوجاتا۔ ہم سب سجدہ شکربجالائے ۔ابھی یہ مشکل ٹلے چندماہ ہی گزرے تھے کہ گردوں میں انفیکشن کی صورت میں ایک اور مرض نے آلیااورپھرمرض بڑھتاگیاجوں جوں دواکی کے مصداق نوبت یہاں تک آگئی کہ گردے کے ٹرانسپلانٹ یاڈا ئیلسزمیں سے کسی ایک کاانتخاب کرناتھا۔ہر بچہ اپناگردہ دینے کے لئے تیارتھامگروہ اولادکواس امتحان میںڈالنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ایک دن اس نے سب کوپاس بلایااور ڈائیلسز کے لئے آمادہ ہوگئی۔ڈائیلسز اتنااذیت ناک عمل تھاکہ اسے دیکھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے لیکن شدیدکمزوری اورنقاہت کے باوجودوہ اس ناقابل برداشت تکلیف کوکیسے جھیل گئی مجھے جب بھی یہ خیال آتاہے توحیران رہ جاتاہوں۔
اسے ڈائیلسزکے لئے ہسپتال گئے دو گھنٹے سے زائد گزرچکے تھے۔اتنی دیرپہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ گھروالوں کی بے چینی بڑھ رہی تھی۔اڑھائی بجے فون آیاتومیرے پیروں تلے کی زمین نکل گئی۔ بیٹے کی کپکپاتی آوازآئی کہ امی کومے میں ہے جلدی ہسپتال پہنچو،یہ سنتے ہی میری آنکھوں کے آگے جیسے گھپ اندھیراچھاگیا، یوں لگاقیامت کی گھڑی آگئی ہے۔میں ہانپتاکانپتاہسپتال کے آئی سی یو میں داخل ہواتووہ وینٹی لیٹر پر بچی کھچی سانسیں لے رہی تھی۔چندگھنٹے پہلے ہی وہ ہنستے مسکراتے ہسپتال روانہ ہوئی تھی، اچانک کیاواقعہ ہواکہ وہ وینٹی لیٹرپر چلی گئی،خودڈاکٹر حیران تھے۔وہ اس کے بیڈپرجھکے جان بچانے کی کوشش میں مصروف تھے۔ کسی کوقریب آنے کی اجازت نہ تھی۔بچوںکی آنکھوں میں آنسو تھے اوروہ سکتے کے عالم میں یہ منظر دیکھ رہے تھے ۔رشیدہ بیگم جس کی باتوں سے سارادن گھر چہکتارہتاتھاآج بسترمرگ پر آنکھیں بندکئے خاموشی سے سوئی ہوئی تھی ،آج اسے مطلق پروا نہ تھی کہ بچوں کے دل پرکیابیت رہی ہے۔اس کابلڈپریشر تیزی سے گررہاتھا،ڈاکٹروں کے چہرےوںپرمایوسی کے آثار دیکھ کر مجھ پررقت طاری ہوگئی ، بیٹا مجھے بازوؤں سے پکڑکر وارڈسے باہر لے گیا۔کوریڈور کی ادھ کھلی کھڑکیوں سے ٹھنڈی ہوااندر آرہی تھی۔بارش پھر شروع ہوگئی تھی۔چندمنٹ گزرے ہوں گے کہ وارڈ سے رونے اور چیخنے کی آوازیں میری سماعت سے ٹکرائیں۔ طوفان کاشدیدریلہ تھاجس نے مجھے کسی بوسیدہ مکان کی طرح زمین پرڈھیرکردیاتھا۔بچے مجھ سے لپٹ کرزاروقطاررورہے تھے۔عجیب دردناک منظرتھا۔ سٹریچرمیرے قریب سے گزراتو ہواکے جھونکے نے اس کے چہرے سے چادرہٹادی۔میری نم آلودآنکھوں نے دیکھاوہ گہری نیند سورہی تھی،ایسی نینداسے پہلے کبھی نہ آئی تھی،اس کے چہرے پرنورکاہالہ تھاجیساکہ چودہویں کے چاندکے گردہوتاہے، میری آنکھیں اس کی روشنی سے چندھیانے لگی تھیں۔ایمبولینس ہسپتال سے باہرنکلی تو بارش یکدم تیزہوگئی۔یوں لگتاتھاآسمان سرمئی بادلوں میں چھپ کرآنسوبہارہاہے۔ یہ منظردیکھ کرمعاََ مجھے بھولی بسری پرستان کی ملکہ والی کہانی یادآگئی جو ایسے ہی سہانے موسم میںکوہ قاف سے نئی منزلوں کی کھوج نکلی اورپھراپنے ہی گھرکاراستہ بھول گئی۔میری کہانی کا سرِورق پھرگم ہوگیاتھا ۔درد میرے روئیں روئیں میں پھیلتاجارہاتھا۔

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleجنگی جرائم کے باوجود نوبیل انعام حاصل کرنے والے سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر انتقال کرگئے
Next Article کشور ناہید کا کالم:’صاحب‘ انگریز کا تحفہ بخشا ہوا تھا
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم

ستمبر 13, 2026

رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ

ستمبر 12, 2026

کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی

ستمبر 12, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم ستمبر 13, 2026
  • رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ ستمبر 12, 2026
  • کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی ستمبر 12, 2026
  • پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟ ستمبر 12, 2026
  • دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم ستمبر 10, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.