Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
پیر, ستمبر 14, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • عوام سے لیڈروں کی دور ی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • موٹر سائیکل ، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف
  • ایران، امریکہ جنگ کےشعلے : چین چَین کی بنسری کیوں بجا رہا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (1)
  • اِس شہر کے کتنے روپ ہیں؟ ۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
  • دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
  • رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
  • کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
  • پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
  • دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » وسعت اللہ خان کا کالم : ’ریٹائر آپ ہو رہے ہو پاکستان نہیں‘
لکھاری

وسعت اللہ خان کا کالم : ’ریٹائر آپ ہو رہے ہو پاکستان نہیں‘

ایڈیٹرستمبر 18, 20221 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

گذشتہ برس پندرہ اگست کو طالبان کابل میں داخل ہوئے۔ چار ستمبر کو آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اچانک کابل پہنچےحالانکہ تب تک کابل میں کسی باضابطہ حکومت کا وجود نہیں تھا۔جنرل صاحب نے پاکستانی سفارت خانے میں چائے کا کپ ہاتھ میں لیے نہایت اطمینان سے صحافیوں کا سامنا کیا۔
برطانوی چینل فور کی صحافن نے پوچھا کیا آپ سینیئر طالبان قیادت سے ملیں گے۔ افغانستان کے بارے میں آپ کی اب کیا امید ہے؟ فیض حمید نے مسکراتے ہوئے کہا ’ڈونٹ وری ایوری تھنگ ول بھی اوکے‘ (پریشان نہ ہوں۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘
اس جملے کو ایک برس چودہ دن گزر گئے۔ اس عرصے میں افغان طالبان کے بارے میں یہ حسنِ ظن انجام کو پہنچا کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کی سرکردہ قیادت کو پاکستان کے حوالے بھلے نہ کریں لیکن سرحد پار سے ان کی مسلح سرگرمیوں کو ضرور روکیں۔
افغان طالبان کے بااثر حقانیوں نے بیچ میں پڑ کے ٹی ٹی پی اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بات چیت اور جرگے کا بھی اہتمام کیا۔ پاکستانی علما نے کابل کا دورہ کر کے انھیں ریاستی تمناؤں سے بھی آگاہ کیا۔ مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے۔ دو بار جنگ بندی بھی ہوئی اور ٹوٹ بھی گئی۔خود کابل اور اسلام آباد کے درمیان سرحدی باڑ اور زمین کی ملکیت کے معاملے پر کئی مسلح جھڑپیں بھی ہوئیں۔
طورخم اور چمن کی سرحد پر تجارت بھی بارہا معطل ہوئی۔ افغان وزیرِ دفاع ملا یعقوب نے ایمن الزواہری کی ہلاکت کا ذمہ دار پاکستان کی سرزمین سے گزر کے آنے والے امریکی ڈرونز کو قرار دیا۔اور اب نقشہ یوں ہے کہ شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع سے ویسی ہی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں جو سات برس قبل آپریشن سے پہلے آیا کرتی تھیں۔
ٹارگٹ کلنگ، سڑک کنارے نصب بموں کے دھماکے، پاکستانی فوجیوں اور عسکری قافلوں پر حملے۔ خیبر ضلع سے متصل وادی تیراہ میں طالبان کی موجودگی کے سبب مخالف مقامی لوگوں کی دوبارہ نقل مکانی۔
مالاکنڈ ڈویژن کے مختلف علاقوں بالخصوص سوات کے پہاڑوں میں مسلح طالبان کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت اور اغوا کاری و دھماکہ گیری کے ذریعے اپنی واپسی کا پر اعتماد عملی اعلان۔
مقامی متمول افراد کو تاوان کی پرچیاں اور دھمکیاں۔ فوج نے سویلینز کی جو امن کمیٹیاں قائم کی تھیں ان کے ارکان کو چن چن کے نشانہ بنانے کے عمل میں تیزی۔ حالانکہ سوات میں ایک فعال فوجی چھاؤنی بھی ڈالی جا چکی ہے۔
جو لاکھوں مقامی باشندے طالبان کے پہلے دور کو بھگت چکے ہیں وہ دوبارہ اس زمانے میں نہیں لوٹنا چاہتے۔لہٰذا سوات کے مختلف قصبات، جنوبی و شمالی وزیرستان اور دیگر بندوبستی علاقوں میں پرانے دھشتی دور کی ممکنہ واپسی کے خلاف عوامی مظاہرے ہو رہے ہیں۔
ان میں تمام سیاسی جماعتوں کے حمایتی بلاامتیاز شریک ہیں۔ مگر قومی میڈیا میں ان مظاہروں کی کوریج نہ ہونے کے برابر ہے۔
جس طرح سوات میں طالبان کے دورِ اوّل کے آغاز، انجام اور ان کے پشت پناہوں اور فرار کروانے والے کرداروں پر سے پراسراریت کا دبیز پردہ آج تک نہیں اٹھ پایا۔ اسی طرح پچھلے چند ماہ میں طالبان کی مختلف علاقوں میں دبے پاؤں مسلح واپسی کس کے کہنے پر ہوئی، کس سمجھوتے کے تحت ہوئی۔
یہ سمجھوتہ کس نے کس سے کیا۔ حتمی مقصد کیا ہے؟ وفاقی شہبازی حکومت، خیبرپختون خوا کی انصافی حکومت اور پارلیمنٹ بھی اس بابت لاعلم ہیں یا خود کو بوجوہ لاعلم ظاہر کر رہے ہیں۔
لیکن اس بار جو بھی تازہ مہم جوئی کا ڈیزائنر ہے وہ شاید گذشتہ دور کی طرح بوتل سے نکلنے والے جن کو بند نہ کر پائے۔
تب بہت زیادہ جانی قربانیاں دے کر ٹی ٹی پی کو سرحد پار دھکیلنے میں جزوی کامیابی اس لیے نصیب ہوئی تھی کہ پاکستان کی اقتصادی حالت بیساکھیوں پر ضرور تھی مگر آئی سی یو کے بستر پر نہیں تھی۔
تب فیٹف نے بھی اتنی سختی سے گلا نہیں پکڑا ہوا تھا۔ تب عمران خان جیسا کوئی ضدی بالم اسٹیبلشمنٹ کی گردن پر گرم گرم پھونکیں بھی نہیں مار رہا تھا۔ تب فوج کی قیادت ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے نیزوں پر بھی نہیں تھی۔
تب وزیرستان اور مالاکنڈ کے بھولے عوام اس یقین دہانی پر بے گھر ہونے کے لیے بھی آمادہ تھے کہ آپ علاقہ خالی کریں تاکہ ہم باریک کنگھی پھیر کر دہشت گردی کی تمام جوئیں مار سکیں۔
تب 2010 کا سیلاب ضرور آیا تھا مگر 2022 میں پاکستان کے سر سے گزرنے والی آبی قیامت کا تصور بھی نہیں تھا۔تب کے سیلاب نے آج کی ماحولیاتی قیامت کی طرح بیڈ گورنننس کے سارے کپڑے اتار کر کندھے پر نہیں رکھ دیے تھے۔
گویا حالات آج کے برعکس بہت غنیمت تھے۔ اسی لیے آپ نے سابق قبائلی علاقوں اور بندوبستی اضلاع میں شدت پسندی کے خلاف کامیاب آپریشن بھی کر لیے۔
اب یہ تھوڑی بہت عیاشی بھی نہ آپ کو میسر ہے نہ ہی ریاستِ پاکستان کو۔
لہٰذا لنگوٹی میں پھاگ کھیلنے سے باز رہا جائے۔ ذومعنی و تجریدی و علامتی گفتگو کے بجائے سیدھے سیدھے بتایا جائے کہ طالبان کی واپسی کیوں اور کس سمجھوتے کی کِن کِن شرائط کے تحت ہو رہی ہے۔ اس کے ملک و قوم کو کیا فوائد ہوں گے اور خود آپ کو کیا فیض پہنچے گا؟
اور کیا ایک برس بعد بھی یہ جملہ بامعنی ہے کہ ’ڈونٹ وری ۔ایوری تھنگ ول بھی اوکے‘۔آپ سب تو باری باری ریٹائر ہو کے سائیڈ پر ہو جاؤ گے۔ پاکستان تو حاضر سروس ہی رہے گا نا۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleسید مجاہد علی کاتجزیہ: آرمی چیف کی تعیناتی کے سوال پر کون سیاست کررہا ہے؟
Next Article وسعت اللہ خان کا کالم : سب دیکھیں پر نظر نہ آئیں نامعلوم افراد
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

عوام سے لیڈروں کی دور ی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی : سید مجاہد علی کا تجزیہ

ستمبر 14, 2026

موٹر سائیکل ، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف

ستمبر 14, 2026

ایران، امریکہ جنگ کےشعلے : چین چَین کی بنسری کیوں بجا رہا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (1)

ستمبر 13, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • عوام سے لیڈروں کی دور ی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی : سید مجاہد علی کا تجزیہ ستمبر 14, 2026
  • موٹر سائیکل ، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف ستمبر 14, 2026
  • ایران، امریکہ جنگ کےشعلے : چین چَین کی بنسری کیوں بجا رہا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (1) ستمبر 13, 2026
  • اِس شہر کے کتنے روپ ہیں؟ ۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم ستمبر 13, 2026
  • دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ ستمبر 13, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.