ارشد ندیم اگرچہ جیولن تھرو کے فائنل اولمپک راؤنڈ میں پانچویں نمبر پر رہے مگر برسوں بعد اتنی خوشی دے گئے جتنی تب ہوتی تھی جب پاکستان ہاکی ٹیم ورلڈ کپ یا اولمپک جیتتی تھی۔
خوشیاں چونکہ سانجھی ہوتی ہیں لہٰذا سترہ برس سے پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عارف حسن، اس اولمپک ایسوسی ایشن کے دائرے سے معطل پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن کے صدر اکرم ساہی (ریٹائرڈ میجر جنرل)، ایتھلیٹکس فیڈریشن کی متوازی کمیٹی کے حاضر سروس بریگیڈیر، پاکستان فٹ بال فیڈریشن کا اشفاق گروپ، اسی فیڈریشن کا ہارون گروپ، لیاری کی گلیوں میں جھکے ہوئے کندھے پر سنہرے ماضی کی پوٹلی اٹھائے لاچار انٹرنیشنل فٹ بالرز، ان کے جوتیاں چٹخاتے ورثا اور غربت کے ہاتھوں اپنے بین الاقوامی تمغے نیلام کرنے والے کئی پرانے سورماؤں سمیت ہم سب میاں چنوں کی مٹی سے اگنے والے ارشد ندیم کی خوشیوں میں شریک ہیں۔
دس دیگر کرکٹرز کی گراؤنڈ میں موجودگی کے باوجود پاکستان کو تنِ تنہا ورلڈ کپ جتانے والے وزیرِ اعظم عمران خان بھی اس پہلے پاکستانی ایتھلیٹ کی اولمپک انٹری میں شاندار کارکردگی پر خوش ہیں جو وائلڈ کارڈ دروازے کے بجائے اپنی صلاحیت کے بل پر ٹوکیو میں پرفارمنس دے پایا۔
جب خان صاحب اقتدار میں آئے تو ہر ایتھلیٹ، کھلاڑی اور شائق کی آنکھیں یہ سوچ کر چمک اٹھیں کہ اب دن پھرنے والے ہیں۔ ہر کھیل کو مناسب سرپرستی، سہولتیں، بجٹ، میرٹ کی بنیاد پر سلیکشن، معیاری کوچنگ اور مینیجمنٹ دستیاب ہو گی۔ دنیا نئے پاکستان کو صرف کرکٹ سے نہیں بلکہ ہاکی، سکواش، ایتھلیٹکس سے بھی دوبارہ پہچانے گی۔ ہم دکھا دیں گے کہ صرف فٹ بال ہی نہیں فٹ بالر بھی بناتے ہیں۔
مگر خان صاحب کی اپنی مجبوریاں۔ پہلے نواز شریف و زرداری اینڈ کمپنی اور میڈیا قابو میں آئے تو ہاکی سمیت دیگر کھیلوں کو بھی وینٹی لیٹرز سے اتارنے کا سوچیں۔ اگر میگا کرپشن جڑ سے اکھاڑنے کا مشن راستے میں چھوڑ کر بطور کھلاڑی کھیلوں کی ترقی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا تو پھر آپ لوگ ہی کہیں گے کہ تین برس میں اور کون سے مسائل حل ہو گئے جو اب کھیلوں اور کھلاڑیوں کے فروغ و ترقی پر دھیان دیا جا رہا ہے۔لہٰذا خان صاحب اس بارے میں کسی بھی سابق حکمران سے زیادہ محتاط ہیں۔
ایک زمانہ تھا کہ ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کو سرکاری ادارے اچھی نوکری دے دیتے تھے تاکہ اس کی پوری توجہ ہاکی، سکوا، فٹ بال اور ایتھلیٹکس پر رہے اور اس کے پاس ملک کا نام روشن نہ کرنے کا کوئی معاشی بہانہ نہ رہے۔
آج یہ حال ہے کہ اگر ہاکی کی نیشنل ٹیم کا کوئی کھلاڑی اپنا رشتہ بھیجے تو ممکنہ سسرالی پہلا سوال یہ پوچھتے ہیں کہ بہت اچھی بات ہے کہ تم قومی ٹیم میں ہو مگر اپنے اخراجات کہاں سے پورے کرتے ہو، کام کیا کرتے ہو؟
چنانچہ اب خوشیوں کا شارٹ کٹ یہ ہے کہ کوئی بھی باکسر، ایتھلیٹ، ان ڈور گیمر، کیمبرج کے امتحان میں عالمی سطح پر نام کمانے والا، ناسا میں کوئی اہم پوزیشن حاصل کرنے والا، کسی عالمی مالیاتی ادارے میں چوٹی تک پہنچنے والا، کوئی عالمی ادبی انعام حاصل کرنے والا یا کوئی کوہ پیما اپنی کامیابی کا جھنڈا گاڑ دے تو اس کی خوشیوں کی بارات میں یہ کہتے ہوئے شامل ہو جاؤ کہ ’کل تک ساڈہے ہتھاں وچ کھیڈدا سی۔ ساہنوں تے پہلے ہی پتہ سی کہ ایہنے کوئی وڈا کم کرنا اے۔‘
اپنے پہلے مقابلے کے لیے سکواش کے جوتے خریدنے کی سکت نہ رکھنے کے باوجود سات بار برٹش اوپن ٹائٹل چھیننے والے ہاشم خان سے لے کر انٹر بورڈ چیمپئن شپ ننگے پاؤں جیتنے والے ارشد ندیم تک ایک ہی کہانی چلتی چلی آ رہی ہے۔
اپنا منڈا ہے جی۔ جتنا تے لازمی سی۔ پاکستان زندہ باد، ڈک ڈک ڈک ڈھن ڈنا ڈھن، ڈھنچک ڈھنچک ڈھنچک۔۔۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
پیر, ستمبر 14, 2026
تازہ خبریں:
- عوام سے لیڈروں کی دور ی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- موٹر سائیکل ، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف
- ایران، امریکہ جنگ کےشعلے : چین چَین کی بنسری کیوں بجا رہا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (1)
- اِس شہر کے کتنے روپ ہیں؟ ۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
- رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم

