اُس ایک بے مثال کے شباب کی مثال ہے ہمارے پاس تو بس اک گلاب کی مثال ہے گلاب تو گلاب ہے چلیں اسے بھی چھوڑیئے…
Browsing: رضی الدین رضی
کسی کے باب میں تحریرہونے والاتھا وہ ایک خواب جوتعبیر ہونے والاتھا پلٹ گیاجومجھے فتح کرنے آیاتھا وگرنہ میں تو اب تسخیر ہونے والاتھا کمال عدل…
دوستی چھوڑ کر دشمنی چھوڑ کر میں چلا شہر سے زندگی چھوڑ کر ہم بھی کیا لوگ ہیں بڑھتے جاتے ہیں بس تیرگی کی طرف روشنی…
ایک بس تیری مہربانی ہے ورنہ سب دکھ بھری کہانی ہے پہلے پھولوں کے ہار پہنے ہیں پھر کہیں جا کے ہار مانی ہے کیسے کہہ…
لکیریں کھینچ کر مبہم سا اک پیکر بنانا ہے پھر اُس میں رنگ بھرنے ہیں اُسے بہتر بنانا ہے ابھی تو اس محبت میں بہت سے…
جب کِسی جاتے ہُوئے کو روکنا آ جائے گا بات کرنا سِیکھ لیں گے بولنا آ جائے گا دیکھئے دیکھا ہے کتنے غور سے اس نے…
تم اس کو پاس بٹھانا ذرا نکال کے وقت ملے گا کوئی مسافر تمہیں زوال کے وقت خوشی کے وقت تو آنکھیں چھلک ہی جاتی ہیں…
منزل اگر نہیں ہے کوئی راستہ تو ہو اپنے بھٹکتے رہنے کا کوئی سلسلہ تو ہو میری تلاش میں کرے خود کو کوئی تلاش میری طرح…
کہیں کھو آئے ہیں اپنی زباں خاموش رہتے ہیں وگرنہ ظلم پر ہم سب کہاں خاموش رہتے ہیں جہاں پابندیاں ہوں بولتے ہیں ہم وہاں لیکن…
ہمارے ہاں کوئی کام جو تیز رفتاری کیا جاتا ہے وہ ہے صرف اور صرف perception building….اور اس "پر سپشن "کی تعمیر میں خود لکھاریوں شاعروں…
