1984ء میں میرے بھارت روانہ ہونے سے قبل اندراگاندھی اپنے سکھ محافظوں کے ہاتھ قتل کردی گئی تھیں۔ اس کے نتیجے میں دلی کے علاوہ شمالی بھارت کے کئی شہروں میں خوفناک سکھ دشمن خونی فسادات ہوئے۔ بھارتی میڈیا اپنی سرکار کے ایماء پر دہائی مچاتا رہا کہ سکھ علیحدگی پسند تحریک کو پاکستان بھڑکارہا ہے۔
Browsing: نصرت جاوید
اپریل 2022ء سے قائم حکومتی بندوبست کو مگر پیر ہی کی شام فیصل واوڈا صاحب نے ناکام ونکما ثابت کرنے کے لئے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے کشتوں کے پشتے لگادئے۔ ہمارے حکمرانوں کی خودستائشی کا سحر 24گھنٹے تک بھی برقرار نہ رہ پایا۔مکمل کالم کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے
ممکنہ ہنگاموں کے خوف سے ہزاروں کیمروں کی تنصیب سے ’سیف‘ بنائے اسلام آباد کی مرکزی شاہراہوں پر لگائے پولیس ناکے شہریوں کو تسلی دینے کے بجائے مزید خوفزدہ بنادیتے ہیں۔ سرکار مائی باپ کو مگر اس حقیقت کا ہرگز ادراک نہیں ہے۔
آئی ایم ایف کو امریکہ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنے کی کوئی ہدایت نہیں ملی ہے۔ ٹرمپ بہت تیزی سے امریکہ کے ریاستی اداروں پر اپنا کنٹرول کھورہا ہے۔
ٹی وی سکرینوں پر جناتی معاشی اصطلاحوں کے استعمال سے پاکستان کے ہر شہری کو ٹیکس چوری کا مجرم قرار دیتے ہوئے آئی ایم ایف کے سدھائے ’’ماہرین معیشت‘‘ مجھے ایک روز بھی اس حقیقت کا احساس کرتے سنائی نہیں دیتے کہ پاکستان میں نچلے متوسط طبقے سے آگے بڑھنے کی امید چھن چکی ہے۔
’’ترقی پسندی‘‘ کے سب سے بڑے نمائندے -فیض احمد فیض بھی اپنے قبیلے کے دباؤ میں آکر عدالت میں یہ بیان دینے کو مجبور ہوئے کہ منٹو کے افسانے میں چند سطریں فحش شمار کی جاسکتی ہیں۔
مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی انتخابی حوالوں سے ہماری سب سے تجربہ کار جماعتیں ہیں۔ میں ان سے اس بچگانہ سوچ کی توقع نہیں رکھتا کہ ووٹر کی عمر 18سال سے بڑھانا ان کی انتخابی کامیابی یقینی بناسکتا ہے۔ 28ویں ترمیم کے ذریعے ووٹر کی عمر بڑھاتے ہوئے یہ جماعتیں بلکہ انتخابی میدان میں اترتے ہوئے شکست کے خوف سے مفلوج ہوئی نظر آئیں گی۔
بھولا دِکھتا مگر حقیقتاً بہت کائیاں ٹرمپ آبنائے ہرمز کھلوانے میں نہیں بلکہ ا یران کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کے لئے فضائی حملوں ہی پر انحصار کو ترجیح دے گا۔ اس کی تقاریر اور پیغامات تواتر سے اب ایران میں رجیم چینج نہیں بلکہ پوری ایرانی قوم کو بلااستثنا فروری 1979ءسے امریکہ کو مسلسل ذلت کا نشانہ بنانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان سے بدلہ لینے کا اظہار ہیں۔ ایران کی کامل تباہی وبربادی اس کا حتمی ہدف بن چکی ہے۔
ایران کی جانب سے دکھائی مزاحمت مگر مین لینڈ امریکا میں ویسی بے یقینی اور مایوسی نہیں پھیلارہی جو پاکستان کا ایران جنگ میں براہ راست ملوث نہ ہونے کے با وجود مقدر ہوئی نظر آرہی ہے۔ میں اس جانب توجہ مبذول رکھتا ہوں تو حارث خلیق جیسے مہربان دوست بھی ناامیدی کی یکسانیت کا ذکر کرتے ہوئے ذہن کو مزید مفلوج بنانا شروع ہوگئے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے مابین خفیہ،خاموش اور بالواسطہ روابط کی خبر ابھی تک کسی بھی مستند ذریعے سے منظر عام پر نہیں آئی ہے۔ اس کی عدم موجودگی میں یہ طے کرنا ممکن نہیں کہ منگل کی صبح تک ٹرمپ کے دئے 48گھنٹے گزرجانے کے بعد حالات کیا شکل اختیار کرچکے ہوں گے۔ کامل بے یقینی کی یہ کیفیت میں نے عمر تمام صحافت کی نذر کئے 40کے قریب برسوں میں ایک بار بھی محسوس نہیں کی ہے۔
