تحریک انصاف کے سوشل میڈیا اور نجی محفلوں میں مرنے مارنے کو بے چین حامی فی الوقت گھروں سے نکل کر ریاستی قوت کو للکارنے کی ہمت سے محروم ہیں۔
Browsing: نصرت جاوید
ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ وقتی طورپر فقط تحریک انصاف کو دھچکا لگاتا نظر آئے گا۔ سیاست کا دیرینہ شاہد ہوتے ہوئے مصر رہوں گا کہ بتدریج ہماری سب سیاسی جماعتیں اس کے منفی اثرات سے خود کو محفوظ نہیں رکھ پائیں گی۔مکمل کالم کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے ،
لاہور کے معروف لکشمی چوک کے قریب ایک مصروف ترین سڑک کے کنارے سہیل آفریدی پولیس وین سے اتر کر گھنٹے سے زیادہ دیر تک بیٹھے رہے۔ مجھ جیسے بڈھے صحافی کو اس چوک کے کسی کونے میں دیکھ کر کم از کم 15سے 20افراد سیلفیاں کھنچوانے کو رک جاتے ہیں۔ سہیل آفریدی کے جانے پہچانے چہرے کو مگر ایسی ’’پذیرائی‘‘ بھی نصیب نہ ہوئی۔
اس واقعہ کے بے شمار پہلو محض ایک کالم میں زیر بحث لائے نہیں جاسکتے۔ جو حقیقت خطِ کشیدہ کے ذریعے اجاگرکرنا لازمی سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ چندحکومتی نمائندے اور سرکاری ادارے مذکورہ واقعے کے حوالے سے پرخلوص ندامت کے اظہار کے بجائے ڈھٹائی سے بدھ کی صبح ہوئے واقعہ کو محض ایک حادثہ قرار دیتے ہوئے خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کاوشوں میں مصروف ہیں۔
لکیر حب الوطنی اور غداری کے کے بیچ واضح کی جارہی ہے۔ لیکن اسے نمایاں کرنے کی وجوہات کا تعین کرنے کا اختیار ’ریاست‘ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ بدنصیبی سے ہر گزرنے والے دن کے ساتھ لوگوں کی بڑی تعداد اس نادیدہ ریاست کے ساتھ اپنے تعلق و شناخت کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہورہی ہے۔ اور یہاں آباد 25 کروڑ لوگ اس دوران اس مشکل میں ہیں کہ کس آئینے میں اپنا عکس تلاش کریں۔ وہ جو آئین کی کتابوں تک محدود ’ریاست‘ دکھاتی ہے یا وہ جو ہزاروں سال کا تہذیبی ورثہ انہیں فراہم کرتا ہے۔
( تجزیئے کا لنک پہلے کمینٹ میں دیئے گئے )
اسلام آ باد کے ہر سیکٹر میں تقریباََ روزانہ کی بنیاد پر نیٹ میٹر کے گرد لپٹی تاریں کاٹی جارہی ہیں۔ میں شرمسار ہوں کہ برسوں سے اخبارات کا پلندہ نہایت توجہ سے ختم کرنے کے باوجود مجھے ’’جرم‘‘ کی اس قسم کا کبھی علم نہیں ہوا۔
’’صوبوں کی حدود‘‘ طے کرنے کے لئے متعلقہ صوبے کی اسمبلی سے بھی دو تہائی اکثریت کی منظوری درکار ہے۔ سندھ کو تقسیم کرنے کے لئے وہاں کی صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کی حمایت لازمی ہے اور اس کا حصول ناممکن نظر آرہا ہے۔ محض ’’نئے انتظامی یونٹوں‘‘ کے قیام کے لئے عوم سے بذریعہ ریفرنڈم حاصل کردہ ’’ہاں‘‘ اس تناظر میں کام نہیں آئے گی۔
فروری 2024ء کے انتخابی عمل پر سوالات اٹھانا شروع ہوگئی ہے۔ اس برس ہوئے انتخاب پر سوالات اٹھاتے ہوئے پیپلز پارٹی بھول گئی کہ مذکورہ انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کی بدولت ہی وہ آصف علی زرداری صاحب کو دوبارہ صدر مملکت بنواکر تاریخ بنانے کے قابل ہوئی ہے۔ پنجاب اور سندھ کے گورنر بھی اس کے حصہ میں آئے اور سابق وزیر عظم یوسف رضا گیلانی سینٹ کے چیئرمین منتخب ہوئے۔
ان کے ہاں وطن عزیز کو مثبت راہوں پر چلانے کا کوئی واضح ایجنڈا اور حکمت عملی موجود نہیں ہے۔ غالباََ اسی باعث ہمارے ہاں نوجوانوں میں ’’غیر معمولی حد تک مقبول‘‘ تصور ہوتی تحریک انصاف اپنے اہداف کے حصول میں مسلسل ناکام ہورہی ہے۔
متوسط طبقے کی بے پناہ اکثریت کو مسلسل اضطراب میں مبتلا رکھنے والی حکومت میں نے صحافت کو چار سے زیادہ دہائیاں دینے کے باوجود وطنِ عزیز میں کبھی نہیں دیکھی۔
