Browsing: نصرت جاوید

اسلام آ باد کے ہر سیکٹر میں تقریباََ روزانہ کی بنیاد پر نیٹ میٹر کے گرد لپٹی تاریں کاٹی جارہی ہیں۔ میں شرمسار ہوں کہ برسوں سے اخبارات کا پلندہ نہایت توجہ سے ختم کرنے کے باوجود مجھے ’’جرم‘‘ کی اس قسم کا کبھی علم نہیں ہوا۔

’’صوبوں کی حدود‘‘ طے کرنے کے لئے متعلقہ صوبے کی اسمبلی سے بھی دو تہائی اکثریت کی منظوری درکار ہے۔ سندھ کو تقسیم کرنے کے لئے وہاں کی صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کی حمایت لازمی ہے اور اس کا حصول ناممکن نظر آرہا ہے۔ محض ’’نئے انتظامی یونٹوں‘‘ کے قیام کے لئے عوم سے بذریعہ ریفرنڈم حاصل کردہ ’’ہاں‘‘ اس تناظر میں کام نہیں آئے گی۔

فروری 2024ء کے انتخابی عمل پر سوالات اٹھانا شروع ہوگئی ہے۔ اس برس ہوئے انتخاب پر سوالات اٹھاتے ہوئے پیپلز پارٹی بھول گئی کہ مذکورہ انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کی بدولت ہی وہ آصف علی زرداری صاحب کو دوبارہ صدر مملکت بنواکر تاریخ بنانے کے قابل ہوئی ہے۔ پنجاب اور سندھ کے گورنر بھی اس کے حصہ میں آئے اور سابق وزیر عظم یوسف رضا گیلانی سینٹ کے چیئرمین منتخب ہوئے۔

ان کے ہاں وطن عزیز کو مثبت راہوں پر چلانے کا کوئی واضح ایجنڈا اور حکمت عملی موجود نہیں ہے۔ غالباََ اسی باعث ہمارے ہاں نوجوانوں میں ’’غیر معمولی حد تک مقبول‘‘ تصور ہوتی تحریک انصاف اپنے اہداف کے حصول میں مسلسل ناکام ہورہی ہے۔

کاش کوئی دیانتدار ماہر معیشت یہ پتہ بھی لگائے کہ پٹرول کی قیمت طے کرنے سے ’حکومت کو الگ کرنے والے‘ سرکاری افسران میں سے کتنے بڑے ناموں والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر بھی ہیں اور انہیں ان کے اجلاس میں شرکت کے لئے کیا نذرانہ پیش کیا جاتا ہے۔

ہ آصف علی زراری کے قریب ترین دوستوں میں سے ایک ڈاکٹر ذوالفقار علی مرزا کو رحمن ملک مرحوم کے رویے کی وجہ سے ڈرامائی پریس کانفرنسوں کے بعد آصف علی زرداری سے دوری اختیار کرنا پڑگئی تھی۔ رحمن ملک مگر اپنے عہدے پر قائم رہے۔ وزارت داخلہ میں ’’کچھ تو ایسا ہے‘‘ کہ جو بھی شخص وہاں بیٹھا ہو ’’مستقل‘‘ ہوا محسوس ہوتا ہے۔

غیر ملکی خواتین حال ہی میں گرفتار ہوئے پاکستانیوں کو ایک اور ملک میں ملی تھیں۔ انہوں نے طاقتور وزیر کے قریبی رشتے دار کو کرپٹو کرنسی کے دھندے میں سرمایہ کاری کو اکسایا۔ اس کا اعتماد جیتنے کے لئے اسے گرانقدر منافع کی رقم بھی ادا کی گئی۔ بعدازاں مگر یہ ہی خواتین سرمایہ ہڑپ کرتی نظر آئیں۔ سوال اٹھتا ے کہ ہزاروں ڈالر مبینہ طورپر ہڑپ کرلینے کے بعد وہ مزید سرمایہ کاری کے لالچ میں پاکستان آنے کو آمادہ کیوں ہوئیں؟

1984ء میں میرے بھارت روانہ ہونے سے قبل اندراگاندھی اپنے سکھ محافظوں کے ہاتھ قتل کردی گئی تھیں۔ اس کے نتیجے میں دلی کے علاوہ شمالی بھارت کے کئی شہروں میں خوفناک سکھ دشمن خونی فسادات ہوئے۔ بھارتی میڈیا اپنی سرکار کے ایماء￿ پر دہائی مچاتا رہا کہ سکھ علیحدگی پسند تحریک کو پاکستان بھڑکارہا ہے۔