ایرانی قیادت کوخطے کی ناانصافیاں اور امریکی تسلط ختم کرنے کی بجائے اپنے عوام کی بہبود پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر بنیادی وسائل سے محروم ایرانی عوام کی صورت حال کو پیش نظر رکھا جائے تو ایران مزید ایک دن بھی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
Browsing: سید مجاہد علی
حکمران اشرافیہ خوش ہے کہ تمام تر اختلافات کے باوجود ان کے مابین ریاست کے مائیکرو ڈھانچے کو برقرار رکھنے کا فارمولا طے ہوگیا ہے ۔ خلق خدا کا مگر کیا ہوگا جس کی اکثریت خطِ غربت سے نیچے گرنے کے خوف سے کاملاََ مایوس و مفلوج محسوس کرنا شروع ہوگئی ہے ۔
ہزاروں مظاہرین راولا کوٹ کے قرب میں جمع ہیں لیکن حکومت انہیں دارالحکومت مظفر آباد پہنچنے سے روکنے کے انتظامات کررہی ہے۔ شہروں میں کرفیو کی صورت حال ہے اور مساجد سے اعلان کرایا جارہا ہے کہ لوگ گھروں میں رہیں۔ پورے خطے میں بداعتمادی اور تصادم کی تکلیف دہ صورت حال موجود ہے۔
ایران نہ صرف اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ اس کے وجود کو ناجائز قرار دے کر اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ایران کے نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور امن کی کوششوں کے درمیان اس دعوے کو دہرانا ضروری سمجھا ہے۔
یہ اشارے بھی موجود ہیں کہ بعض سیاسی عناصر ایکشن کمیٹی کو اپنے گروہی سیاسی مفادات کے لیے آلہ کار بنائے ہوئے ہیں۔
آزاد کشمیر حکومت کو کسی بڑے تصادم سے بچنے کے لیے ایکشن کمیٹی کے لیڈروں کو رہا کرکے مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ اور ایکشن کمیٹی بھی سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں یہ تسلیم کرلے کہ آئیندہ منتخب اسمبلی اس سوال پر حتمی آئینی فیصلہ کرے گی۔ اس وقت تک احتجاج ملتوی کرکے آزاد کشمیر کی سیاست کو کسی بڑے بحران سے بچایا جائے۔
مودی سوالوں کا جواب کیوں نہیں دیتے‘ والا سوال ، ایک ایسا ہتھوڑا ثابت ہؤا کہ بھارت میں تمام انتہاپسند عناصر اس کی ضرب سے تلملا رہے ہیں۔ اب ایک غیر متعلقہ مضمون اور اس میں شامل ہونے والے کارٹون کو بنیاد بنا کر بھارتی عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ناروے میں بھارت میں انسانی حقوق کے بارے میں کیے جانے والے سوال درحقیقت سفید فام اور نوآبادیت کی ذہنیت کا عکاس ہیں۔
جمہوری لیڈر عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں اور اپنی کارکردگی کے بارے میں کسی بھی سوال کا سامنا کرنے سے نہیں گھبراتے۔ لیکن بدحواس مودی کے ساتھ ناروے کی ایک صحافی نے وہی سلوک کیا ہے جو 1997 میں ریلیز ہونے والی فلم ’یشونت ‘ میں نانا پاٹیکر کے اس ڈائیلاگ سے نمایاں ہوسکتا ہے: ’ایک مچھر سالا آدمی کو ہجڑا بنا دیتا ہے ‘۔
کسی فوج کا مقصد اپنے لوگوں کو تباہی کی طرف دھکیلنا نہیں ہوتا بلکہ ان کی حفاظت، بہبود اور بھلائی ہی ہمیشہ اس کے پیش نظر ہونی چاہئے۔ پاکستان کو جغرافیے و تاریخ سے مٹانے کے شوق میں بھارتی فوج کو اپنے لوگوں پر ہلاکت مسلط کرنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔
برصغیر کے ان دو اہم ممالک نے گزشتہ سات دہائیوں میں کئی جنگیں لڑیں اوور اچھے ہمسایہ کی طرح رہنے کی بجائے ایک دوسرے کے خلاف تخریب کاری کا رویہ اختیار کیا۔ اب کوئی بھی شخص یا تنظیم اگر اسے تبدیل کرنے کی بات کرتی ہے تو اس کا خیر مقدم ہونا چاہئے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن برصغیر میں معاشی ترقی اور خوشحالی کی نوید بن سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے دونوں ملکوں کے لیڈروں کو ذمہ دار لوگوں کی طرح ایک دوسرے کے احترام پر مبنی تعلقات استوار کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔
صدر مسود پزشکیان کی یہ تجویز ہی بہترین ہے کہ ایران کا مفاد سفارت کاری کے ذریعے باعزت معاہدہ کرنے میں ہی مستور ہے۔ بدقسمتی سے تہران میں اس اصول پر اتفاق رائے دکھائی نہیں دیتا۔ اور بادی النظر میں اسرائیل کا جنگجو وزیر اعظم اور ایران کے عسکریت پسند پاسداران ایک ہی مقصد کے لیے حالات خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
