Browsing: سید مجاہد علی

یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک بیٹا اپنے باپ کے جنازے میں لمحہ بھر کے لیے بھی شریک نہ ہو اور نہ ہی اس کا کوئی آڈیو یا ویڈیو سامنے آسکے۔ یہ طے ہونا باقی ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے نام پر کون ایران اور دنیا کو دھوکے میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔

سوال دینی کتب کی خریداری کے بارے میں تھا، اس لیے اسے آسانی سے حرام قرار دے کر ملکی حکومت کو بے بس کرنے کی شعوری کوشش کی گئی جو کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے ذریعے ایک طرف ٹرمپ خاندان کو راضی کرنے کا جتن کررہی ہے تو دوسری طرف بعض زعما اس کاروبار سے اپنی دولت میں اضافہ کا خواب دیکھ رہے ہیں۔
مکمل تجزیئے کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے

اگر ایران نے عرب ممالک پر حملوں پر کنٹرول نہ کیا تو بعض ممالک نہ چاہتے ہوئے بھی اس تنازعہ کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اسی لیے یہ لڑائی پاسداران انقلاب کی طاقت سے زیادہ اسرائیلی حکمت عملی کی کامیابی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
(

خامنہ ای کے جنازے پر آنسو بہانے والوں کا ایک سمندر موجود تھا لیکن اس سوگ کو پاسداران کی شدت پسندی کا تصدیق نامہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ نہ ہی ان جلوسوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایرانی عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہوکر بھی موجودہ رجیم کا ساتھ دیتے رہیں گے۔

پاکستان میں خیرات کی ثقافت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ لوگ خیرات دے کر یا لے کر مطمئن ہوجاتے ہیں۔ کوئی یہ جاننا نہیں چاہتا کہ خیرات میں بانٹے جانے والے وسائل کو پیداواری سہولتوں میں صرف کرکے روزگار کے لاتعداد مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ سرکاری بجٹ میں ’بے نظیر انکم سپورٹ‘ پروگرام اس خیرات ثقافت کی نمائیندہ مثال ہے۔ اسی طرح پاکستانی اشرافیہ بھی درحقیقت اسی ’خیرات کلچر‘ کا حصہ ہے۔

پانی کے سوال پر دونوں ملکوں کے درمیان شروع ہونے والی کوئی جنگ مکمل تباہی کے بغیر ختم نہیں ہوگی۔ اس جنگ کی لپیٹ میں برصغیر ہی نہیں دیگر ممالک بھی آسکتے ہیں۔ یہ نوشتہ دیوار ہے۔ اسے جتنی جلدی پڑھ کر سمجھ لیا جائے دنیا کے امن کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔

یہ پہلو قابل غور ہونا چاہئے کہ ایران کے اعلیٰ ترین سفارت کار نے عرب ممالک کے ساتھ مشترکہ سکیورٹی نظام قائم کرنے کے بارے میں دورہ عراق کا انتخاب کیا ۔ انہوں نے یہ بات ا س تنازعہ کے ثالث پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت کے دوران نہیں کہی اور نہ ہی دیگر اہم عرب ممالک کے ساتھ گفتگو میں اس قسم کی کوئی تجویز پیش کی گئی ہے۔
مکمل تجزیئے کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے

ٹرمپ گزشتہ چند روز سے مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ پابندیاں ہٹانے اور حتمی امن کے لیے ایران کو اپنا طرز عمل تبدیل کرنا پڑے گا۔ البتہ مفاہمتی یادداشت میں تو ایسا کوئی تقاضہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ مفادات کے ٹکراؤ اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے اس تاریخی کامیابی کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل اور پائیدارامن اب بھی ہنوز دلی دور است والا معاملہ ہے۔

بے شمار ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ میڈیا میں یک بیک موجودہ حکومت کے جانے کی باتیں بلکہ اس کے وداع کی تاریخ تک کا اعلان کیامعنی رکھتا ہے۔ کیا اس قسم کے مباحث کا مقصد جمہوریت اور موجودہ آئینی نظام پر لوگوں کے رہے سہے اعتماد کو ختم کرنا ہے