اسلام آباد : بحال سرکاری ملازمین کی نیشنل جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا اور کہا ہے کہ فیصلے پر عملدرآماد نہ ہوا تو تادم مرگ بھوک ہڑتال کی جائے گی ۔ پریس ریلیز کے مطابق آج 17 اگست 2022 ءکو نیشنل جوائنٹ ایکشن کمیٹی بحال ملازمین معاشی قتل عام کے خلاف یوم سیاہ منا رہی ہے اور اس دن کو ہرسال بطور یوم سیاہ منایا جائے گا۔
72 اداروں کے 16 ہزار کے لگ بھگ ان سرکاری ملازمین کو 1996ءمیں قانون و ضوابط کے مطابق بھرتی کیا گیا تھا۔1996ءمیں ہی سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ایک لیٹر کے ذریعے ان تمام ملازمین کو نوکریوں سے نکال دیا گیا۔
2009ءمیں پیپلز پارٹی کی حکومت نے ان تمام برطرف ملازمین کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے بحال کر دیا اور جسے بعد میں ایکٹ آف پارلیمنٹ بنا دیا گیا۔
17 اگست 2021ءکو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ایکٹ کو کالعدم قرار دے دیا جس کی وجہ سے مذکورہ بالا 16 ہزار ملازمین ایک مرتبہ پھر نوکریوں سے نکال دئے گئے۔زیادہ تر ملازمین اس وقت ریٹائرمنٹ کے قریب تھے جس کی وجہ سے ان 16ہزار خاندانوں کیلئے یہ صدمہ برداشت کرنا بڑا مشکل تھا۔46 سے زائد ملازمین اس صدمے کی وجہ سے لقمہ اجل بن گئے۔بچوں کی تعلیم و صحت کے معاملات بری طرح متاثر ہو گئے۔
تمام اداروں کے ملازمین نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے نظرثانی کی اپیل کی۔کیسز کی سماعت شروع ہوگئی اور پاکستان بھر کے ملازمین نے احتجاج بھی شروع کر دیا۔اس وقت وفاقی حکومت پی ٹی آئی کی تھی،احتجاج کی وجہ سے گورنمنٹ نے بھی سپریم کورٹ سے نظر ثانی کی اپیل دائر کی لیکن بعد میں دوران سماعت پی ٹی آئی کی گورنمنٹ نے جو موقف اختیار کیا تھا اس سے روگردانی اختیار کرلی جس سے ملازمین کو شدید دھچکا لگا اور ملازمین نے پارلیمنٹ کے سامنے حکومت کے خلاف دھرنا شروع کر دیا۔
17 دسمبر 2022 ءکو سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومتی تجاویز مسترد کرتے ہوئے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر ان تمام اداروں کے ملازمین کو ایک مرتبہ پھر بحال کر دیا اور اداروں کو حکم دیا کہ 03 ماہ کے اندر اندر ان تمام بحال ملازمین کو مراعات دے دی جائیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کو آج 9 ماہ ہونے والے ہیں لیکن کسی بھی ادارے نے ان ملازمین کو دی جانے والی مراعات نہیں دیں جو کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کی توہین ہے۔
ہم چیف جسٹس آف پاکستان کے علم میں لانا چاہتے ہیں کہ آپ نے جو فیصلہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر دیا تھا اس پر عملدرآّمد کی بجائے اس کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں جس سے اعلی عدلیہ کی ساکھ بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
ہم موجودہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اداروں کی طرف سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی من پسند تشریح کو روک کر ان ملازمین پر جاری معاشی قتل عام کو روکا جائے۔
بصورت دیگر اگر اصلاح احوال نہ کیا گیا تو16 ہزار ملازمین اپنے بیوی بچوں سمیت
پارلیمنٹ کے سامنے تادم مرگ بھوک ہڑتال کریں گے۔
فیس بک کمینٹ

