لاہور :سابق وفاقی وزیر و معروف قانون دان سید محمد (ایس ایم) ظفر انتقال کر گئے۔ایس ایم ظفر کے اہل خانہ نے ان کے انتقال کی تصدیق کردی ہے، مرحوم معروف قانون دان سینیٹرعلی ظفر کے والد تھے۔اہل خانہ کے مطابق ایس ایم ظفر کافی عرصے سے علیل تھے۔
6 دسمبر 1930کو رنگون برما میں پیدا ہونے والے سینیئر ایڈووکیٹ اور سابق وزیر قانون ایس ایم ظفر کئی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔اس کے علاوہ وہ قومی اور بین الاقوامی امور پر ملکی اور غیر ملکی جرائد میں مضامین بھی لکھتے رہے۔
ایس ایم ظفر 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستان کے وزیر قانون تھے۔ 19ستمبر 1965 کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں اُنہوں نے جنگ بندی کی قرارداد کو مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط کرایا۔ ایس ایم ظفر نے اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن سے بھی خطاب کیا۔
ایس ایم ظفر 35 برس کی عمر میں ایوب کابینہ میں قانون و پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر بنے۔ کئی اہم ملکی اور بین الاقوامی مقدموں میں کامیابی حاصل کی، وہ 2003 سے 2012 تک سینیٹ کے ممبر بھی رہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے 2004 سے 2012 تک ہمدرد یونیورسٹی کے چانسلر کی ذمہ داریاں بھی ادا کیں۔ایس ایم ظفر کو 2011 میں صدارتی ایوارڈ نشان امتیاز سے نوازا گیا تھا۔
( بشکریہ : جیو نیوز )
ہفتہ, ستمبر 12, 2026
تازہ خبریں:
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت

