اتوار کو سپر مارکیٹ اسلام آباد جانا ہوا۔ جانا کیا ہوا وہاں جانا تو روز ہی ہوتا ہے۔ سب کو پتہ ہے مجھے تلاش کرنا ہو تو کسی بک شاپ یا کیفے پر باآسانی ڈھونڈا جاسکتا ہے۔ اور میری قسمت دیکھیں سپر مارکیٹ میں مسٹر بکس اور سکینڈ کپ کیفے ایک دوسرے سے صرف دس قدم کے فاصلے پر ہیں۔لہذا روزانہ کیفے اور کتاب کی ٹھرک پوری ہو جاتی ہے۔
مسٹر بکس سے بڑی یادیں وابستہ ہیں۔1998 میں جب ملتان سے اسلام آباد آیا تھا تو کسی سے کتابوں کی دکان کا پوچھا تھا تو اس وقت مسٹر بکس کا ہی نام بتایا گیا۔ اس سے یاد آیا تھا کہ 1988/1990 میں اپنے خالو میجر نواز ملک کے لاہور گھر میں سے ایک انگریزی ناول چپکے سے اٹھا کر اپنے لیہ ہوسٹل لے گیا تھا۔ اس پر ایک مہر لگی ہوئی تھی۔
Special Price In Pakistan~Mr Books
پھر یہیں دس برس بعد 1998 میں مسٹر بکس کے مالک یوسف بھائی سے ملاقات ہوئی اور ایک طویل دوستی کا آغاز ہوا۔ وہ بھی ہمارے ملتانی کتب دوست اور کتا ب نگر کے مالک شاکر حسین شاکر کی طرح عاجزی اور محبت سے لبریز انسان تھے۔انہوں نے شاکر بھائی کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔
یوسف بھائی چند برس پہلے فوت ہوئے تو ایک بڑا خلا چھوڑ گئے۔وفات سے کچھ عرصہ پہلے انہوں نے دکان میں سکینڈ فلور پر ایک کیوٹ سا دفتر بنا لیا تھا جہاں میرے جیسے دوستوں سے سارا دن گپ شپ، چائے، لندن سے آئی بھینی بھینی خوشبو سے لبریز گرین ٹی، بادام، پستہ، چلغوزے کھلائے پلائے جاتے۔ مجھے وہاں ان کے دفتر پڑی کسی کتاب میں غرق پاتے تو مجھ سے لے کر اس پر اپنے دستخط کر کے تھما دیتے۔ میرا احتجاج بیکار جاتا کہ میں نیچے جا کر ادائیگی کروں گا۔
اب پرسوں مسٹر بکس پر اچانک پتہ نہیں کیا خیال آیا اور کاونٹر پر کھڑے ایاز صاحب سے پوچھا کہ یوسف بھائی کا دفتر ابھی موجود ہے؟دل کیا وہاں جا کر کچھ دیر بیٹھوں۔
پتہ چلا یوسف صاحب کے جانے کے ساتھ ہی وہ دفتر بھی نہیں رہا۔سوچا تھا ان کا ہونہار اور خوبصورت بیٹا جو اب مسٹر بکس کو چلاتا ہے وہ شاید بیٹھتا ہو لیکن وقت کے ساتھ سب کچھ بدل جاتا ہے۔
کسی نے مجھے وہیں ملنا تھا۔ میں اکثر دوستوں کو سکینڈ کپ پر ہی کافی پر ملتا ہوں۔ میں وقت پر پہنچ گیا تو دوست کا پتہ چلا وہ ایک گھنٹہ لیٹ تھا۔ میں اپنے بارے بتا دوں میں اکیلا بور نہیں ہوتا۔ دوست کے لیٹ ہونے کا سن کر ساتھ ہی مسٹر بکس چلا گیا کہ گھنٹہ وہاں گزارتے ہیں اور سیدھا اردو سیکشن چلا گیا۔
اردو ادب میں بلونت سنگھ میری بہت بڑی کمزوری ہے۔ بہت بڑی ۔۔ ان کے بعد قاضی عبدالستار، ابوالفضل صدیقی ،قرۃ العین حیدر اور پھر ایک لمبی فہرست ان ادیبوں کی جو مجھے پسند ہیں۔ خیر پنجاب اور پنجابی کلچر پر بلونت سنگھ کا لکھا کمال ہے۔ جمیل اختر صاحب نے جو بلونت سنگھ کا تعارف اور کہانی لکھی ہے اس نے دل کو اداس کر دیا ہے۔ مجھے بلونت سنگھ کی ذاتی زندگی بارے علم نہ تھا۔ کیا درد بھری اپنی کہانی ہے اس بلونت سنگھ کی جس کی لکھی کہانیوں کا میں بہت بڑا فین ہوں۔ سنگ میل لاہور نے اچھے اچھے ادیب چھاپے ہیں لیکن جس محبت سے افضال احمد صاحب نے بلونت سنگھ اور قرۃالعین حیدر کو چھاپا ہے وہ کمال ہے۔
وہیں مسٹر بکس پرجب ڈاکٹر انوار احمد اور رضی الدین رضی کی کتب دیکھیں تو دل مچل گیا اور خرید لیں۔ڈاکٹر انوار صاحب سے تو 33 برس سے تعلق ہے جب 1991 میں ملتان یونیورسٹی میں انگریزی ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ ہوا تھا۔ ان سے بڑا کچھ سیکھا اور اپنی ذہنی گروتھ میں خاصی مدد بھی لی۔ ڈاکٹر انوار احمد کی تحریر کی کاٹ اپنی جگہ لیکن ان کے زبانی جملوں کی کاٹ تحریر سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ کچھ برس پہلے ان کے لکھےخاکوں کی کتاب “یادگار زمانہ ہیں وہ لوگ “پڑھ کر انہیں میسج کیا تھا کہ شکر ہے میں آپ کے دوستوں کی فہرست میں نہیں۔ جو حشر آپ نے دوستوں کا کیا اس سے بندہ دشمن ہی بھلا۔
خاکوں کی کتاب سے یاد آیا قابل احترام لکھاری اصغر ندیم سید نے بھی حال ہی میں شاندار خاکے لکھے ہیں۔ وہ خاکے بھی بار بار پڑھنے لائق ہیں۔
رضی الدین رضی اور شاکر حسین شاکر کے بغیر ملتان کی ادبی، کلچرل، اور صحافتی تاریخ کبھی نہیں لکھی جا سکے گی۔ رضی جہاں ایک باکمال صحافی اور شاعر ہیں وہاں ان کی تحریروں میں جو ادب اور تاریخ کا ٹچ ہے وہ آپ کو مسحور کر دیتا ہے۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ لکھاری یا صحافی کی لکھت میں کاٹ نہیں ہے تو وہ صحافی نہیں ہے۔ اگر آپ نے خوبصورت جملوں اور ان میں چھپی کاٹ کا مزہ لینا ہو تو میرے پیارے مہربان ڈاکٹر انوار احمد اور رضی الدین رضی کو پڑھیں۔ میں خود ملتان نو برس رہا ہوں۔ شکیل انجم، جمشید رضوانی جیسے دیگر ان گنت دوستوں کی وجہ سے ملتان میرا دوسرا گھر ہے۔ ( جن کے نام نہیں لکھے وہ ناراض نہ ہوں۔ سب یاد ہیں اور سب دل میں بستے ہی)۔ لہذا بہت سارے ملتان کرداروں اور ماحول سے میں واقف ہوں اس لیے شاید رضی صاحب کی تحریروں کو زیادہ انجوائے کرتا ہوں۔
آج کل اسلام آباد کا موسم بدل رہا ہے اور میری اپنے پیارے بلونت سنگھ، ڈاکٹر انوار احمد اور رضی الدین رضی ساتھ محفل جمی ہوئی ہے اور یقین کریں کیا کمال جمی ہوئی ہے۔
Previous Articleجاوید یاد پاکستان کرسچین رائٹرز گلڈکے مرکز ی صدر منتخب ہوگئے
Next Article مظہر عباس کا کالم:شاہد کے ’خواب‘

![بلونت سنگھ اور میرے پیارے ملتانی : رؤف کلاسرا کا کالم ]hotel](https://girdopesh.com/wp-content/uploads/2023/05/hotel-429x438.jpg)