ماں جنت تو باپ جنت کا دروازہ ۔۔۔ ماں جنم دیتی ہے توباپ پرورش کا سامان مہیا کرتا ہے۔۔۔ماں لوری دیتی ہے تو باپ ماحول مہیا کرتا ہے۔۔۔ماں نہلاتی دھلاتی ہے تو باپ اچھے کپڑے زیب تن کرواتا ہے۔۔۔ماں کھانا پکاتی ہے تو باپ نوالے منہ میں ڈالتاہے۔۔۔ماں تیار کرتی ہے توباپ سکول چھوڑ کرآتاہے۔۔۔
ماں قرآن پڑھانے کا اہتمام کرتی ہے تو باپ قرآن ِ پاک لیکر آتا ہے۔۔۔
ہر عیدپر ماں کی پہلی ترجیح بچوں کے نئے کپڑے اورجوتیاں ہوتی ہے تو باپ انکو پورا کرنے کی تگ ودو میں ہوتا ہے۔۔۔بعض اوقات تو ماں باپ خود پرانے لباس زیب تن کرتے ہیں لیکن بچوں کو ایسا نہیں کرواتے۔۔۔
بچوں نے ماں سے کچھ لینے کی ضدکردی تو باپ ماں کی سفارش پر باپ بے بس ہوکر پوری کرنے کی جستجو میں لگ جاتا ہے۔۔۔ماں تپتی گرمی میں بچوں کے کپڑے دھوتی ہے اور باپ بچوں کے لیے رزق کماتا ہے۔۔۔
پتہ ہے ماں کُھلے آسمان کے نیچے صحن میں پنکھے سے دور سوتی ہے اور باپ تو سب سے آخری چارپائی پر آرام کرتا ہے لیکن اپنے بچوں کو سب سے آگے سُلاتا ہے۔۔
گرمی توماں باپ کو بھی لگتی ہے لیکن اولاد کو گرمی نا لگے بس یہ احساس اُنکوایسا کرنے پر مجبور کرتا ہے۔۔۔ماں لاکھ جتن کرکے بیٹوں کو جوان کرتی ہے اور باپ بڑھاپے کا سہارا سمجھ کر اپنی خواہشات کو مارتا ہے۔۔۔ بچوں کو پڑھا لکھا کر کسی مرتبے پر پہنچاتا ہے تو ماں کو شادی کی فکر ستاتی ہے۔۔۔باپ دھوم دھام سے شادی کروانے کے اسباب پیدا کرتا ہے تو ماں بہو کے ناز نخرے اُٹھانے میں لگ جاتی ہے۔۔۔
اور پھر وہی والدین اُسی اولاد پر دھیرے دھیرے بوجھ بن جاتے ہیں۔۔۔ماں کی باتیں تیر لگتی ہیں اور باپ کی کھانسی سماعتوں پر بجلی بن کر گرتی ہے۔۔۔ماں دن بدن بوڑھی ہوتی جاتی ہے تو باپ کے ہاتھ میں بھی کھونٹی آجاتی ہے۔۔۔
باپ بڑھاپے کے سہارے سے پاس بیٹھنے کا وقت مانگتا ہے تو ماں پیار کے دو بول کو ترستی ہے۔۔۔بیٹی پرائے گھر کی ہوجاتی ہے تو بیٹا دنیا داری میں جُت جاتا ہے۔۔
بیٹا اپنے بیوی بچوں کی خواہشات کو پورا کرنے میں لگ جاتا ہے اور بوڑھے ماں باپ خاموش ہوجاتے ہیں۔۔۔ارے پتہ ہے وہ خاموش کیوں ہوجاتے ہیں کیونکہ بہو خرچ اخراجات کے پورے نا ہونے کی تندوتیز باتیں جو کرتی ہے۔۔۔
بیٹا بھی معاشی پریشانی کا واویلا کرتا نہیں تھکتا۔۔۔ اور یہ سب باتیں سُن سُن کر باپ کا سینہ ہے چیرتا۔۔۔ بس یوں ہی ماں باپ کا وقت ہے گزرتا۔۔۔
کیا ظلم ہے کہ ماں باپ نے جس اولاد کو پال پوس کے۔۔۔اپنی خواہشات دفن کرکے۔۔۔پڑھا لکھا کے۔۔اس قابل کیا اُس کے پاس ماں باپ کے لیے ہی اسباب نہیں ہوتے۔۔۔اپنے بچوں اور بیگم کے لوزمات تو کبھی کم نہیں ہوتے۔۔۔
او ظالمو ! ذرا یہ بھی سوچو کہ جو آج ہم اپنے والدین کیساتھ کررہے ہیں کل ہمارے ساتھ بھی تو ہوسکتاہے۔۔۔ارے او! نادانو ۔۔۔ذرااُن سے بھی پوچھوں جن کے پاس جنت ہے اور نا جنت کا دروازہ۔۔۔
میں اپنے تجربے کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ خدارا اپنی ترتیب کو سیدھا کرلیں پہلے اپنے والدین کی معاشی ضرورت کو پورا کریں اور پھر اپنی اولاد کا سوچیں یقین کریں اگر آج آپ اپنی ترتیب کو سیدھا کرلیں گے تو کل آپکی اولاد بھی اسی ترتیب کیساتھ آپکے ساتھ یہ معاملہ کرے گی۔۔۔۔ اور یاد رکھیں ماں باپ ایک چھت کی مانند ہوتے ہیں جن کے ہونے سے سایہ رہتا ہے اور اگر وہ تنہائی کا شکار ہونگے تو سمجھیں چھت کمزور ہوجائے گی۔۔۔جس کا نقصان ہر حال میں اُنکو ہوگا جو اس سائے سے محروم ہوتے ہیں۔۔۔جب محروم ہونگے تو سوچیں گے کہ ہائے بغیر چھت کی یہ سایہ کیسے ہوگا!!
( بشکریہ : سب نیوز اسلام آباد )

