تہران : ایران نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ملک کے بڑے شہریوں میں جمعہ کے اجتماعات کو منسوخ کر دیا ہے۔ایران میں کورونا وائرس سے 19 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ 139 مریضوں کا علاج جاری ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی چینل آئئ آر آئی این این کے مطابق ایران میں کورونا وائرس کے ایک ہزار مشتبہ کیسز موجود ہیں۔ایران کے وزیر صحت سعید نماکی نے کہا ہے کہ بڑے شہروں میں خصوصاً ایسے شہروں میں جہاں کورونا وائرس کے مریض موجود ہیں، وہاں نماز جمعہ کے اجتماعات نہیں ہوں گے۔
ایران کے ذرائع ابلاغ ایسی خبروں کی تشہیر کر رہا ہے کہ ایران اور باقی دنیا میں کورونا وائرس سے متاثرہ کتنے لوگ صحتیاب ہو رہے ہیں۔ریڈیو ایران نے خبر دی ہے کہ قم شہر میں کورونا وائرس کے 49 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں۔ ایران میں کورونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض قم میں ہیں۔ایران کی وزارت صحت کے ترجمان کے کنوش جہانپور نے کہا ہے کہ ایران کورونا وائرس کی ٹیسٹ لیبارٹریوں کی تعداد بڑھا رہا ہے اور اگلے چند ہفتوں میں ایسی لیبارٹریوں کی تعداد 22 ہو جائے گی۔
ایران کے صدر حسن روحانی نے گذشتہ روز اپنے شہریوں سے کہا تھا کہ صبر اور تحمل کا مظاہرہ کریں اور اس وبا کی شکل میں وہ اپنے دشمنوں کے ہاتھ میں ایک ہتھیار نہ تھما دیں۔
صدر روحانی نے کہا کہ بداعتمادی اور خوف کا وائرس کورونا وائرس سے زیادہ خطرناک ہے۔ایران کے صحت کے نائب وزیر ایرج حریرچی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں اور انھیں قرنطینہ میں بھیج دیا
ہفتہ, اکتوبر 31, 2026
تازہ خبریں:
- نونی سیاست اور ’’ گستاخ ‘‘ تماشائیوں کا خطرہ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
- اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم

