لکی مروت : پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے عمران خان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقات اور علاج سمیت دیگر مطالبات کے لیے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کیا۔ پہلے روز کے اختتام پر لانگ مارچ کے شرکا نے بنوں اور کرک کی سرحد پر واقع ختم نبوت چوک پر اپنا پہلا پڑاؤ ڈال دیا ہے۔
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ پیر سے لانگ مارچ کا دوبارہ آغاز ہو گا اور یہ مختلف اضلاع سے ہوتا ہوا صوابی اور پھر پشاور پہنچے گا۔
پہلے روز لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلی سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم ہر روز ایک نئے منصوبے کا اعلان کریں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی حکومت صوبے میں کسی نئی ملٹری کارروائی یا ڈرون حملوں کی پالیسی قبول نہیں کرے گی اور خیبرپختونخوا سے متعلق فیصلے عوام کی خواہشات کے مطابق ہونے چاہییں۔
لکی مروت میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی جماعت سیاست اور مذاکرات پر یقین رکھتی ہے، تاہم اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران بعض حلقوں کی جانب سے ایسے مطالبات سامنے آئے جنھیں ان کی حکومت صوبے اور عوام کے مفاد کے خلاف سمجھتی ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں خیبرپختونخوا پر ایسی پالیسیاں مسلط کی جاتی رہی ہیں جن کے منفی اثرات صوبے کو بھگتنا پڑے، تاہم اب ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے وژن اور پالیسیوں کے مطابق حکومت چلائی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے کسی بھی امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں عوامی مینڈیٹ کی بالادستی برقرار رکھی جائے گی۔ انھوں نے شرکا سے ملٹری آپریشنز اور ڈرون حملوں کے بارے میں سوال کیا جس پر شرکا نے مخالفت کا اظہار کیا۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لیے وفاقی حکومت کو اپنی موجودہ حکمت عملی پر نظرثانی کرنی چاہیے اور خیبرپختونخوا حکومت کو اپنی پالیسی پر عمل درآمد کا موقع دینا چاہیے۔ ان کے بقول اگر صوبائی حکومت کی تجاویز پر عمل کیا جائے تو 100 دنوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ صوبے کے جنوبی اضلاع گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی اور سکیورٹی کارروائیوں کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں اور کسی بھی ایسی پالیسی کی مخالفت کی جائے گی جس کے نتیجے میں عام شہری متاثر ہوں۔
اپنی تقریر میں وزیراعلیٰ نے پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کے لیے عوامی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کے نوجوان اور عوام عمران خان کی قیادت کی حمایت کرتے ہیں۔
لانگ مارچ کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ تحریک آگے بڑھتی رہے گی اور مختلف اضلاع میں عوامی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو سیاسی عمل میں متحرک کردار ادا کرنا چاہیے اور ملک کے مستقبل کے فیصلوں میں اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام ماضی کی طرح آئندہ بھی ایسی پالیسیوں کی مخالفت کریں گے جنھیں وہ اپنے صوبے اور عوام کے مفاد کے خلاف سمجھتے ہیں۔
( بشکریہ : بی بی سی )
پیر, اکتوبر 5, 2026
تازہ خبریں:
- پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا پہلا روز، شرکا کا بنوں اور کرک کی سرحد پر پڑاؤ
- غامدی صاحب کی تعبیرِ دین : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- سیاسی شہید بننے کی تمنا ، مفاہمت میں رکاوٹ ہے : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- قومی ایوارڈز اور ان کی ساکھ : اس بار تو حد ہی ہو گئی : سہیل وڑائچ کا کالم
- اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات کی گرم جوشی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- روبوٹ مولوی ہمارے ساتھ کیا سلوک کرے گا : شہزاد عمران خان کا کالم
- کیچ میں چار افراد کی ہلاکت پر احتجاج : پکنک کے دوران فضا سے دھماکہ خیز مواد گرا
- مشہد احتجاج کیس: ایران میں دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
- صومالیہ میں بحری قزاقوں نے 3 پاکستانیوں سمیت پانچ افراد قتل کر دیئے
- لاہور میں آذر بائیجان کی سیاح کے ساتھ گینگ ریپ : میڈیکل رپورٹ میں تصدیق

