کرکٹ آسٹریلیا کے اگلے مجوزہ سنٹر ل کنٹریکٹ نے انٹرنیشنل کرکٹ میں کھلبلی مچادی جس کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس نے اکتوبر میں شیڈول ورلڈ ٹی 20 کی منسوخی کا ذہن بنالیا ہے اور یہی نہیں بلکہ اس کے بعد بھارت کیخلاف 4 ٹیسٹ میچز کی ہوم سیریز بھی اسے ممکن دکھائی نہیں دے رہی ہے. کورونا اٹیک کی ممکنہ تباہ کاری کا اگر یہ منظرنامہ بن رہا ہے جو کرکٹ آسٹریلیا تو دیکھ رہا ہے اور آئی سی سی سمیت کسی دوسرے رکن ملک کو نظر نہیں آرہا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ سال بھر کی تمام انٹرنیشنل کرکٹ سرگرمیاں ختم سمجھیں .بڑے ایونٹس میں ایشیا کپ،ورلڈ ٹی 20 ،کوالیفائر ایونٹس اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ نمایاں ہیں.
کرکٹ آسٹریلیا نے جب گزشتہ ہفتہ اپنے کرکٹر زکا سنٹرل کنٹریکٹ ایک ماہ کیلئے موخر کیا تو خطرے کے الارم تب ہی بج گئے تھے. اب اس کی سامنے آنے والی بنیادی شق نے سب کچھ واضح کردیا ہے.
کرکٹ آسٹریلیا اگلے ماہ کرکٹرز کیلئے سنٹرل کنٹریکٹ شرح کی بنیاد پر کرنے جارہا ہے جس کا مطلب بورڈ کی آمدنی سے کرکٹرز کے معاوضے مشروط ہوجائیں گے .اس سے قبل فکس معاوضے ملتے تھے.
کرکٹ آسٹریلیا نے پلیئرز اور انکی نمائندہ تنظیم آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن کو واضح کیا ہے کہ بنگلہ دیش اور انگلینڈ کا دورہ دائو پر لگا ہے جبکہ ورلڈ ٹی 20 اور بھارت کیخلاف ہوم سیریز بڑے خطرے سے دوچار ہے.
آسٹریلین کرکٹر ز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایلسٹر نکولسن نے انکشاف کیا ہے کہ معاملات سنگین ہیں کرکٹ آسٹریلیا سے ملکر بہتر حل نکال رہے ہیں .
کرکٹ آسٹریلیا کےترجمان نے کہا کہ یہ سسٹم ماضی میں بھی تھا مگراب بھی لانا پڑا تو قبول کرنا چاہیئے. پیٹ کمنز اس وقت لسٹ میں ٹاپ معاوضے پر ہیں جن کا معاہدہ 2 ملین ڈالرز کا ہے. پلیئرز کے 2017 کے معاہدے کا جائزہ لیں تو وہ ریونیو کا 27.5 فیصد تھا. 2019 کو دیکھیں تو خواتیں و مرد پلیئرز کو 105 ملین ڈالرز ملے.اس سال اگر بھارت کا دورہ نہ ہوا تو کرکٹرز کو 80 ملین ڈالرز کا خسارہ ہوگا جبکہ کرکٹ آسٹریلیا 300ملین ڈالرز سے محروم ہوجائےگا ۔
بدھ, اکتوبر 28, 2026
تازہ خبریں:
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم

