اسلام آباد: سینیٹ انتخابات کی گنتی مکمل ہونے کے بعد نتائج سامنے آگئے ہیں۔ ان انتخابات میں سب سے اہم مقابلہ سابق وزیراعظم اوراپوزیشن کے مشترکہ امیدواریوسف رضاگیلانی اور سابق وزیرخزانہ اور پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار حفیظ شیخ کے درمیان تھا۔ نتائج کے مطابق اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار یوسف رضاگیلانی نے غیرمتوقع طورپرسے میدان مارلیا ہے۔یوسف رضا گیلانی نے 169 ووٹ حاصل کیے ۔ حکومتی امیدوار کو 164 ووٹ ملے ۔ سات ووٹ مسترد ہوئے ۔
سینیٹ انتخابات میں سندھ اسمبلی سے پیپلزپارٹی کی امیدوار پلوشہ خان کامیاب ہوگئیں۔
سندھ اسمبلی سے سینیٹ کی 11 نشستوں پر انتخابات میں سندھ اسمبلی کے 168 میں سے167 اراکین نےحق رائے دہی استعمال کیا جبکہ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے رکن سید عبدالرشید نے پارٹی پالیسی کے تحت ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔
الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق 167میں سے 4 ووٹ مسترد قرار پائے ہیں۔ اب تک کے غیرسرکاری نتیجے کے مطابق پلوشہ خان نے سندھ اسمبلی سے 60 ووٹ حاصل کیے جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کی خالدہ اطیب بھی 57 ووٹ لیکر کامیاب ہوئی ہیں۔
الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی شیری رحمان، جام مہتاب، فاروق ایچ نائیک اور سلیم مانڈوی والا بھی کامیاب قرار پائے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے فاروق ایچ نائیک 61 ووٹ لےکر کامیاب قرار پائے جبکہ فاروق ایچ نائیک کو ٹیکنو کریٹ کی سیٹ پر5 ووٹ زائد ملے۔ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے کریم خواجہ نے 43 ، تحریک لبیک کا یشاء اللہ نے 3 ووٹ حاصل کیے۔
منگل, ستمبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم

