Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
منگل, نومبر 3, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • پی آئی اے کے نئے سی ای او ایڈرین ہیملٹن مانز نے عہدہ سنبھال لیا۔
  • ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔ قدیم ہندوستانی لسانیات ، پانینی سے مولانا محمد حسین آزاد تک
  • ہارڈ سٹیٹ کے نام پر فسطائی ریاست ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • فضل الرحمان : ریاست کی نوکری سے ریاست کے مدمقابل آنے تک : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • گوجرانوالہ: ولیمے کے روز دلہن کو قتل کرنے والا مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
  • نونی سیاست اور ’’ گستاخ ‘‘ تماشائیوں کا خطرہ : سہیل وڑائچ کا کالم
  • ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
  • اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟
  • ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
  • 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » ڈاکٹر صغرا صدف کا کالم:نانک سو سہاگنی جو بھاوے بے پروا
لکھاری

ڈاکٹر صغرا صدف کا کالم:نانک سو سہاگنی جو بھاوے بے پروا

ایڈیٹرنومبر 19, 20213 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Kartarpur-Corridor-1
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

بابا گرو نانک کے وقت ہندوستان کی عورت جبر کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی۔ یوں تو پورا معاشرہ ذات پات کی اونچ نیچ کا شکار تھا مگر عورت کی حیثیت آزاد فرد کی ہرگز نہ تھی۔ کسی خاندان کے ایک فرد سے کوئی لڑکی بیاہ کر جاتی تھی مگر وہ خاندان کے تمام افراد کی ملکیت تصور کی جاتی تھی۔ جب اس کا خاوند مر جاتا، حادثے کا شکار ہو جاتا تو اُسے بھی اس کے ساتھ زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایسی رسمیں تھیں جو عورت کی تذلیل پر مبنی تھیں۔ بابا گرو نانک عورت ذات کے مداح اور قدر دان تھے۔ وہ کہتے ہیں ’’سو کیوں مندا آکھیے جِت جمے را جان‘‘ اس عورت کو حقیر کیوں سمجھیں جو راجوں کو جنم دیتی ہے اور راجاؤں کے گھر جنم لیتی ہے۔ انھوں نے اپنی دائی مائی دولتاں اور سگی بہن نانکی سے سب سے زیادہ محبت کی۔ اُن کا کوئی بھی عمل ایسا نہیں جس میں انھوں نے عورت ذات کی سربلندی کی بات نہ کی ہو۔ انھیں عورت کی بے حرمتی کا قلق تھا۔ پچھلے پانچ سو سال کے دوران بابا گرو نانک عورت کی حرمت کے سب سے بڑے علمبردار ہیں جنھوں نے عورت پر جبر کے خلاف آواز اٹھائی اور عملی کاوش کی۔
بابا گرو نانک کی فکر کی روشنی میں جب ہم سہاگن عورت کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ جس عورت کا نکاح ہو گیا وہ سہاگن ہوگئی، نکاح نامے میں اس کا نام لکھا گیا خاوند کے ساتھ، وہ میکے سے سسرال چلی گئی۔ بھلے اس نے دنیا داری کی ساری رسمیں پوری کرلی ہوں پھر بھی اسے سہاگن نہیں کہا جاسکتا۔ سہاگن وہ ہے جو اپنےبےپروا(مالک) کے دل میں اُتر جانے کی صلاحیت رکھے۔ اس کی توجہ میں گھر کر لے، اس کی سوچ میں بس جائے، اس کے من کو اپنی جانب مبذول کر لے۔ اگر تمام مروجہ رسموں کی پاسداری کرتی ہے، زبانی قول اقرار کرتی ہے، نکاح نامے پر دستخط کرتی اور اپنے انگوٹھے کے لمس کی گواہی دیتی ہے لیکن وہ بے پروا (مالک) کی توجہ حاصل نہیں کر پاتی تو پھر وہ ساری کارروائی بے بنیاد ہو جاتی ہے بے فائدہ رہتی ہے۔
بابا گرو نانک نے عورت کے ذریعے خدا اور انسان کی محبت کا اظہار کیا ہے۔ جس طرح ایک عورت اپنا گھر، اپنا میکہ چھوڑ کر اپنے سسرال جاتی ہے، ظاہر ہے ایک گھر چھوڑ کر دوسرے گھر میں جانا اور وہاں آباد ہونا آسان نہیں ہوتا۔ یہ ایک دنیا سے دوسری دنیا کا سفر ہے، سسرال اور میکہ دو دنیائیں ہیں جو یکسر مختلف ہیں۔ میکے کے اپنے اصول اور ضابطے ہیں، محبتوں کی فراوانی ہے، لاڈ ہے، پیار ہے، کھیل ہے، ہمجولیاں ہیں، باپ کا سایہ دار درخت سر پر ہے، ماں کی محبت بھری محفوظ جھولی ہے جبکہ سسرال میں لمحے لمحے کا حساب رکھنے والی نندیں ہیں، ذرا سی غلطی پر ٹوکنے والی ساس ہے، شرارتی دیور ہیں، رعب والے جیٹھ ہیں، سخت گیر سسر ہے اور بہت سے دوسرے رشتے دار ہیں جن کی جی حضوری کرنا ضروری ہے۔ ہر لمحہ یہ احساس ساتھ رکھنا کہ کوئی غلطی نہیں کرنی کیونکہ کوتاہی کی گنجائش نہیں ہے ورنہ سارا کیا دھرا ختم ہو جائے گا اور طعنے دیئے جائیں گے کہ میکے سے کیا سیکھ کر آئی ہو۔ ایک ایک قدم پھونک کر رکھنا پڑتا ہے کیونکہ میکے کی لاج آپ کے عمل سے جڑی ہوئی ہے۔ ذات کی گواہی ہر عمل سے مشروط ہے، اپنے آپ کو منوانا ہے، ثابت کرنا ہے، پل صراط ہے، اس پر سے گزر کر دکھانا ہے اور پھر سب سے بڑی آزمائش یہ کہ وہ جس کے نام کے ساتھ آپ کا نام لکھا گیا ہے اس کی توجہ حاصل کرنا ہے۔ اس کی توجہ صرف محبت اور عشق سے حاصل کی جاسکتی ہے۔اس کے لئے اپنی مَیں(انا) کو ختم کرنا ضروری ہے، اپنی انا کی قربانی دینا، اپنی خودی کو ترک کرنا ہے اور جب انسان اپنی مَیں کو ختم کر کے اپنی نفی کرتا ہے، اپنے محبوب کے رنگ میں رنگ جاتا ہے تو پھر بے پروا متوجہ ہو جاتا ہے کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ اس کا چاہنے والا اپنی ذات اس کی ذات میں گم کر دے۔
بابا گرو نانک کے 552 ویں جنم دن کے موقع پر پنجاب حکومت کے تمام ادارے اور خصوصاً انفارمیشن و کلچر خصوصی تقریبات کا اہتمام کر رہے ہیں۔ اُمید ہے کہ اس سے بین المذاہب ہم آہنگی اور خیر سگالی کے جذبات فروغ پائیں گے۔
سوہرے پیئے کنت کی، کنت اگم اتھاہ
نانک سو سہاگنی، جو بھاوے بے پروا
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleعطا ء الحق قاسمی کا کالم:اصغر ندیم سید کا دشتِ امکاں !
Next Article نصرت جاویدکا تجزیہ:موجودہ پارلیمان سے تبدیلی برآمد کرنے کے خواب
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

پی آئی اے کے نئے سی ای او ایڈرین ہیملٹن مانز نے عہدہ سنبھال لیا۔

نومبر 2, 2026

ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔ قدیم ہندوستانی لسانیات ، پانینی سے مولانا محمد حسین آزاد تک

نومبر 2, 2026

ہارڈ سٹیٹ کے نام پر فسطائی ریاست ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ

نومبر 1, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • پی آئی اے کے نئے سی ای او ایڈرین ہیملٹن مانز نے عہدہ سنبھال لیا۔ نومبر 2, 2026
  • ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔ قدیم ہندوستانی لسانیات ، پانینی سے مولانا محمد حسین آزاد تک نومبر 2, 2026
  • ہارڈ سٹیٹ کے نام پر فسطائی ریاست ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ نومبر 1, 2026
  • فضل الرحمان : ریاست کی نوکری سے ریاست کے مدمقابل آنے تک : سید مجاہد علی کا تجزیہ اکتوبر 31, 2026
  • گوجرانوالہ: ولیمے کے روز دلہن کو قتل کرنے والا مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ اکتوبر 31, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.