”کرونا وائرس“ کے علاوہ کوئی خبر نہیں…. سوشل میڈیا پر بھی ہر طرف ”کرونا لاک ڈاؤن“ کا ہنگامہ ہے۔ کوئی بھی ویڈیو کلپ خبر ہو ہر طرف کرونا کے اثرات نمایاں ہیں۔ اس کرونا میں کرپشن کرونا کا تذکرہ بھی چل رہا ہے اور اس پر بھی جتنے منہ اتنی باتیں…. ایک کلپ شہزادہ عالمگیر کا چل رہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان بھی کرپشن کے خلاف آخری حد تک جا چکے ہیں اور بہت ”بولڈ سٹیپ“ لے لیا ہے اور یہ کہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کی سمری بھی تیار کر رکھی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
عجیب و غریب افواہیں ہیں خوف و ہراس کی فضاءہے۔ امداد لینے والوں میں بھکاریوں کے گینگ بھی شامل ہو چکے ہیں۔ اکیلا پا کر کسی بھی گاڑی پر دھاوا بول دیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے لوگ پندرہ بیس روز سے گھروں میں قید ہیں۔ عام دیہاڑی دار طبقہ دکاندار، ڈرائیور، درزی، پلمبر، الیکٹریشن ، نائی ، مالیشے ، چل پھر کر اور ٹھیلا لگا کر سودا بیچنے والے، پلاسٹک کا سامان بیچنے والے، رکشا ٹیکسی چلانے والے، عام مزدور مستری ، کلینک اور دیگر طبقہ گھر میں رہ کر کیسے گزارہ کر سکتا ہے؟ امداد تو آج سے شروع ہوئی ہے اور وہ بھی بارہ ہزار فی خاندان میں کیا گزارہ ہو گا اور وہ امداد بھی ہر کسی کے نصیب میں تو نہیں۔
اب لوگ تنگ آ کر گھروں سے باہر نکل آئے ہیں جبکہ انتظامیہ انہیں مکمل گھروں میں رکھنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ زندگی عجیب دور سے گزر رہی ہے۔ اخبار ہاتھ میں لینے سے بھی خوف آتا ہے۔ کتنے ہاتھ دھوئے جائیں، اور کیا کیا دھویا جائے۔ میڈیا سے مایوسی پھیل رہی ہے اچھی خبر کو آخر میں پیش کیا جاتا ہے۔ کتنے ہی مریض صحت یاب بھی ہو رہے ہیں مگر ایسی خبر بہت کم یا پھر آخر میں دی جا رہی ہے۔ اب سوشل میڈیا ہی لوگوں سے رابطے کا واحد ذریعہ ہے۔ فون پر ایک دوسرے کی خیر خبر لی جاتی ہے۔ پرندوں کا کاروبار کرنے والے پریشان ہیں سوشل میڈیا ہی سے پتہ چلا کہ کئی پرندے دکانوں کے پنجروں میں ہی مر گئے ہیں۔
کس قدر تشویشناک صورت حال ہے لیکن اس کے باوجود بھی ناجائز منافع خور حضرات باز نہیں آئے۔ خورونوش کی اشیاءکی منہ مانگی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔ حکومت ان سفاک افراد سے نمٹنے میں مکمل ناکام ہے…. ایسے تاجرانہ ذہنیت کے لوگ اب بھی مال بنانے کے نئے نئے حربے اختیار کر رہے ہیں۔ آٹا چینی چور آخر کون لوگ ہیں اسی ملک میں رہ رہے ہیں لوہے اور فولاد کے بنے ہوئے نہیں کہ وہ ”موت“ سے بچ جائیں گے۔ اللہ کے عذاب سے کوئی ”خطاکار“ بچ نہیں سکتا۔
کاش ان دولتمند اور قوم کو اربوں کا چونا لگانے والے ہوش کے ناخن لیں اور اپنی دولت اور مال سے مستحق افراد کی مدد کریں۔ اگر انسان ہی نہ رہے تو یہ ساری مال و دولت اور جائیداد کس کام کی۔
ادھر کرونا لاک ڈاؤن سے زندگی کے ڈھب تبدیل ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا بتا رہا ہے کہ گھروں میں وقت گزاری کے لئے نئی نئی مصروفیات وجود میں آ گئی ہیں۔ مردوں نے کوکنگ کا کام سیکھ لیا ہے۔ گھرداری میں ہاتھ بٹانے والے اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر بھی کر رہے ہیں۔ خواتین خوش ہیں کہ مرد حضرات گھر میں ہیں بلکہ ان کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ خواتین کے مسائل ہیں ”بیوٹی پارلرز“ کی بندش سرفہرست ہے۔ نائیوں کی دکانیں بند ہونے سے مرد حضرات کے بال بڑھ گئے ہیں اور مرد خواتین بنتے جاتے ہیں۔ اور خواتین کے چہروں پر مونچھ داڑھیاں نکل آئی ہیں وہ مرد لگنے لگی ہیں…. ٹچ موبائل کی حقیقی قدر تو لوگوں کو ان ایام میں زیادہ واضح ہوئی ہے۔ ہر شخص اپنے اپنے موبائل سے ”معلومات“ حاصل کرتا ہے بلکہ بندے ان معلومات سے بھر گئے ہیں۔
ادھر ”فاصلہ“ رکھنے کی تلقین بھی ہوتی ہے۔ بندہ اپنے گھر میں رہ کر بھی ”تنہا“ ہے۔ خوفزدہ ہے سہما ہوا ہے۔ شعراءنے آئن لائن مشاعرے شروع کر دیئے ہیں۔ علی نواز شاہ نے بھی حلقہ ارباب ذوق کے مشاعرے آن لائن کر دیئے ہیں۔ آخر میں لوگ ڈاؤن میں ایک ” دعا “ آپ کی نذر:
قریہ قریہ گریہ پیہم یا رحیم یا کریم
مر رہی ہے نسل آدم یا رحیم یا کریم
دے معافی ہر خطا کی صدقہ ، شاہ امم
خوف کا یہ کیسا عالم یا رحیم یا کریم
ہر طرف مایوسیاں اور بے بسی چھائی ہوئی
ہم پکاریں تجھ کو ہر دم یا رحیم یا کریم
ہم خطاؤں پر ہیں نادم سب کہیں مل کر شمار
دور کر دے ہم سے ہر غم یا رحیم یا کریم
(بشکریہ: روزنامہ نئی بات)
پیر, ستمبر 14, 2026
تازہ خبریں:
- عوام سے لیڈروں کی دور ی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- موٹر سائیکل ، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف
- ایران، امریکہ جنگ کےشعلے : چین چَین کی بنسری کیوں بجا رہا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (1)
- اِس شہر کے کتنے روپ ہیں؟ ۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
- رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم

