یہ بی اے جمال کا ہی ہنر اورکمال تھا کہ اس سے جو ملا وہ ہیرو بن گیا اور اس نے خوب نام ، دولت اور عزت کمائی۔ بی اے جمال نئے شعرا اور لکھاریوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے تھے جس اخبار رسالے یا جریدہ میں ممکن ہوتا اس کو ضرور کوریج دلاتے۔ شعبہ صحافت ان کا اوڑھنا بچھونا تھا گوکہ ان کا زیادہ تعلق فن و ثقافت تھا مگر ان کی ساری زندگی اخبارات کے دفاتر میں گزری ۔
ہفتہ, ستمبر 12, 2026
تازہ خبریں:
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
