صدیوں سے اس دنیا کے سیاہ و سفید میں ہمارا حصہ’ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے‘۔ ادب ہو یا مصوری، موسیقی ہو یا تعمیرات، سیاسی…
Browsing: وجاہت مسعود
میٹرو، لارڈز، شیزان ، وائی ایم سی اے ، پاک ٹی ہاؤس ، ٹولنٹن اور ناصر باغ ….اور ہاتھ بھر کے فاصلے پر کرشن نگر کی گلیاں ۔ اس راستے کی کون سی اینٹ ہے جسے انتظار حسین کے سجل پاؤں نصیب نہیں ہوئے۔ خاک کا اتنا چمک جانا ذرا دشوار تھا…. یہاں کون سی عمارت ہے جسے انتظار حسین نے بیتے ہوئے لاہور کی تصویر بنا کے نہیں رکھ دیا۔ کوئی ٹھیلے والا ایسا نہیں ، یہاں کوئی پان فروش ایسا نہیں جسے انتظار حسین نے محبت کی آنکھ سے نہ دیکھا ہو اور اسے ایک گزر تے ہوئے عہد کا جیتا جاگتا کردار نہ بنا دیا ہو۔
آپ گھبرائیے نہیں۔ میری کیا مجال کہ پیکا جیسے آنے پائی سے لیس ، نکتہ رس قانون کو یوں سربازار للکاروں۔ درویش بہادر صحافی بھی نہیں…
تمام آبی دھاروں کی طرح تاریخ کے بھی دو کنارے ہوتے ہیں۔ سیاسی شعور جانچنے کا پیمانہ یہ ہے کہ وقت کے کس نقطے پر ہم…
گزشتہ صدی کے آخری برس تھے۔ سہ پہر کے وقت اتفاق ہسپتال کے بڑے دروازے پر کھڑا تھا۔ ہسپتال پہنچنے کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے…
دوست شکایت کرتے ہیں کہ درویش کی تحریر پڑھنے کے لیے لغت کی ضرورت پیش آتی ہے اور بعد ازاں سر پر روغن بادام سے مالش…
قوموں کی تاریخ علم ، معیشت اور تمدن کے ارتقا سے مرتب ہوتی ہے۔ اس سفر میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی خاص واقعے سے…
فروری2018 میں یہی جاتی سردیوں کے دن تھے۔ ایک دوست کسی اہم سرکاری اجلاس میں شرکت کر کے لاہور واپس پہنچا۔ فون کر کے ایک کافی…
کافکا کے ناول The Trial کو استعارہ بناتے ہوئے برادر بزرگ نے ایک خوبصورت کالم لکھا۔ برادر بزرگ کہتے ہیں کہ کافکا عجیب رنگ کا لکھنے…
آج 31 دسمبر 2024 ءہے۔ ٹھیک پچیس برس پہلے دسمبر 1999 کے آخری روز نئے ہزاریے کا جشن منایا گیا تھا۔ ن۔ م راشد کے لفظوں…
