Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
اتوار, اکتوبر 4, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • قومی ایوارڈز اور ان کی ساکھ : اس بار تو حد ہی ہو گئی : سہیل وڑائچ کا کالم
  • اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات کی گرم جوشی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • روبوٹ مولوی ہمارے ساتھ کیا سلوک کرے گا : شہزاد عمران خان کا کالم
  • کیچ میں چار افراد کی ہلاکت پر احتجاج : پکنک کے دوران فضا سے دھماکہ خیز مواد گرا
  • مشہد احتجاج کیس: ایران میں دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
  • صومالیہ میں بحری قزاقوں نے 3 پاکستانیوں سمیت پانچ افراد قتل کر دیئے
  • لاہور میں آذر بائیجان کی سیاح کے ساتھ گینگ ریپ : میڈیکل رپورٹ میں تصدیق
  • ایرانی گلوکارہ پرستو احمدی کو 74 کوڑوں کی سزا برقرار : بغیر آستینوں والا لباس پہننے کا الزام
  • ایمرجنسی کے نفاذ کی تیاریاں؟ حکومتی بیانات اور تجزیہ نگاروں نے نئی بحث چھیڑ دی
  • ٹانک میں ٹریفک پولیس کی گاڑی پر فائرنگ، 3 اہلکار شہید
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » ہٹلر ، جوش ملیح آبادی اور تحریک خلافت : ہمارے سیاسی شعور کی کہانی : وجاہت مسعود کاکالم
تازہ ترین

ہٹلر ، جوش ملیح آبادی اور تحریک خلافت : ہمارے سیاسی شعور کی کہانی : وجاہت مسعود کاکالم

ایڈیٹرفروری 7, 202518 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
josh maleeh abadi
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

صدیوں سے اس دنیا کے سیاہ و سفید میں ہمارا حصہ’ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے‘۔ ادب ہو یا مصوری، موسیقی ہو یا تعمیرات، سیاسی تدبر ہو یا سائنسی فکر، علمی جستجو ہو یا مشین کا معجزہ، کار آسماں ہو یا بندوبست زمیں، ہمارا شعار فقط یہی ٹھہرا ہے کہ کبھی اپنی سہل کوشی کے زعم میں جدید سے انکار کرتے ہیں اور کبھی خودپسندی سے مغلوب ہو کر نئی دنیا کی تعمیر کا دعویٰ کرتے ہیں۔
اس کشمکش میں ہماری پسماندگی اور نئی دنیا میں فاصلہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ادب ہی کو لیجئے۔ پہلی عالمی جنگ کے آس پاس دنیا ایذرا پاﺅنڈ، جوائس، لارنس، ایلیٹ، پراﺅست اور کافکا کو دریافت کر رہی تھی۔ ہم عبدالرحمن چغتائی اور نیاز فتح پوری کی نثر لطیف پر سر دھن رہے تھے۔ یورپ اضافیت، منطقی اثباتیت اور وجودیت کے منطقے دریافت کر رہا تھا اور ہم نے برگسان، رینے گینوں اور اور آسوالڈ سپینگلرمیں پناہ لے رکھی تھی۔ لطف یہ ہے کہ کسی فلسفے یا نظریے کی کنہ تک پہنچنے کی کوشش نہیں کی۔ عنایت اللہ مشرقی مسولینی کا بیلچہ اٹھا لائے۔ تحریک خلافت کے مقامی رہنما کو ڈکٹیٹر کہا جاتا تھا۔ جوش صاحب ہٹلر سے لندن پر بمباری کی فرمائش کرتے رہے۔ جماعت اسلامی کا تنظیمی ڈھانچہ اشتراکی نمونے پر تعمیر کیا گیا۔
ہماری صحافت کے سرکاری نمدہ بافوں میں چودھری محمد حسین اور میر نور احمد کے نام آتے ہیں۔ میر نور احمد اپنی کتاب ’مارشل لا سے مارشل لا تک‘ میں سرسید کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ’جمہوری نظام حکومت کا مقصد ہی غلط تھا اور اس مقصد کی جانب ہر قدم غلط تھا‘۔ علامہ اقبال کے چھٹے خطبے میں پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق دینے سے انکار ممکن نہ ہو سکا تو ضیا آمریت کے خود کاشتہ دانشوروں نے یہ بحث بھی چلائی کہ اقبال نے عمر کے آخری حصے میں اپنے خطبات سے رجوع کر لیا تھا۔ اصل قصہ یہ تھا کہ ضیاالحق منتخب نمائندوں کو حق فیصلہ سازی دینے کے مخالف تھے۔ انہیں مالک کاندھلوی اور ظفر احمد انصاری سمیت ملائیت کی حمایت حاصل تھی۔ آفرین ہے اس سیاسی شعور پہ جو 140 برس میں جمہوریت، آمریت، سیکولرازم، الحاد، اشتراکیت اور لبرل ازم کے فکری زاویوں میں فرق نہیں سمجھ سکا۔
برٹرنڈ رسل کی خودنوشت میں ایک لفظ Ennui سے واسطہ پڑا۔ معلوم ہوا کہ اس کا مفہوم ’بیزاری اور مسلسل استعمال سے پیدا ہونے والی پامال کیفیت‘ ہے۔ آگے چل کر اس کی مثالوں سے واسطہ پڑا۔ پاکستان بننے کے بعد 1948 میں پہلی فلم ’تیری یاد‘ کے نام سے بنائی گئی۔ اس فلم کی کہانی اور مکالمے ضیا محی الدین کے والد خادم محی الدین نے لکھے تھے۔ گیت قتیل شفائی اور سیف الدین سیف نے لکھے تھے۔ آشا پوسلے اور ناصر خان کے گرد گھومتی اس فلم کی کامیابی کے اسباب کچھ اور تھے لیکن ضعیف الاعتقاد فلم والوں نے ’تیری یاد‘ کی ترکیب کو کامیابی کا اسم اعظم سمجھ لیا۔ درجنوں فلموں اور گانوں میں یہ ترکیب استعمال کی گئی۔ نتیجہ یہ کہ اس بے رنگ سی ترکیب میں اگر کچھ رس تھا تو وہ بھی جاتا رہا۔
ہمارے ملک میں ’سیاسی شعور‘ کی ترکیب کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی سلوک ہوا۔ ہمارا سیاسی شعور تحریک خلافت میں جاگا۔ کسی نے نہیں پوچھا کہ عالمی جنگ میں شریک چار سلطنتوں میں سے خلافت عثمانیہ کو کیا امتیاز حاصل تھا۔ ہندوستان پر ساڑھے آٹھ سو برس مسلمان خاندانوں کی حکومت میں ترکی خلافت کا کیا کردار تھا؟ عالمی جنگ اس زمانے کی بڑی طاقتوں کا کھیل تھا جس میں محکوم ہندوستانی مسلمانوں کے پاس سوائے خام جذبات کے کچھ نہیں تھا۔ اسی خروش میں’سول نافرمانی‘ اور ’تحریک ہجرت‘ کو دینی تقاضا قرار دے دیا گیا۔ کانگرس تو سیاسی کھیل کھیل رہی تھی۔ سیاست میں موقف بدلا جا سکتا ہے لیکن مذہبی فریضہ قرار دینے کے بعد کیسے پیچھے ہٹا جائے؟ نتیجہ یہ کہ ہزاروں مسلمان سرکاری ملازمتوں سے محروم ہوئے۔ طالب علموں کی تعلیم ادھوری رہ گئی اور گھر بار چھوڑ کر افغانستان کی طرف نکلنے والے لٹ پٹ کر واپس چلے آئے۔ ترکوں نے 1924 میں خلافت کا منصب ہی ختم کر دیا۔ ہندوستان میں البتہ 1928 تک خلافت کے نام پر چندہ جمع ہوتا رہا۔
1916 میں میثاق لکھنو جداگانہ انتخابات کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ تعجب ہے کہ اس معاہدے میں پنجاب اور بنگال میں مسلم اکثریت قربان کر کے شمالی ہندوستان کے ان منطقوں میں نیابت حاصل کی گئی جہاں مسلمانوں کی تعداد بمشکل بیس فیصد تھی۔ جداگانہ انتخاب کا یہ قضیہ پاکستان کی تاریخ میں بھی زندہ رہا۔ پنجاب میں یونینسٹ پارٹی، بنگال میں کرشک سرامک پارٹی اور یو پی میں ایگری کلچرسٹ پارٹی کی سیاست کا غلغلہ تھا۔ ہم تاریخ لکھتے ہوئے یہ نہیں پوچھتے کہ 1920 سے 1924 تک چار برس آل انڈیا مسلم لیگ کہاں تھی؟ جب قائداعظم 1930 سے 1934 تک برطانیہ میں تھے تو مسلم لیگ کون چلا رہا تھا؟ اور پھر ایک خوبصورت صبح مسلمانوں کے سیاسی شعور نے بیدار ہو کر پاکستان حاصل کیا۔ جس کے بارے میں آ ج تک طے نہیں ہو سکا کہ یہ مسلمان اقلیت کے مفادات کے تحفظ کے لیے حاصل کیا گیا یا یہاں پر مذہبی حکومت قائم کرنا مقصود تھا۔
مشکل یہ ہے کہ ہندوستان کی مسلمان قیادت نے ’قوم‘ کی اصطلاح پر کبھی غور ہی نہیں کیا۔ اگر 1947میں ہندوستان کے دس کروڑ مسلمان ایک قوم تھے تو2025 میں موجودہ ہندوستان کے 22 کروڑ مسلمان ایک قوم کیوں نہیں ہیں؟ اگر پاکستان میں سیکولرازم کا نام لینا غلط ہے تو جمعیت علمائے ہند سمیت ہندوستان کی مسلم جماعتیں سیکولرازم کا تقاضا کیوں کرتی ہیں؟ اگر ایوب خان کے خلاف تحریک جمہوری شعور تھی تو یہ شعور مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی پر خاموش کیوں رہا؟ اگر بھٹو صاحب نے سیاسی شعور بیدار کر دیا تھا تو عوام کی اکثریت ضیاالحق کی گیارہ سالہ اندھیر نگری میں منقار زیر پر کیوں رہی؟ اگر آزاد عدلیہ کی تحریک سیاسی شعور کا آغاز تھی تو وکلا کا یہ سیاسی شعور میمو گیٹ اور پانامہ کیس میں کیوں نہیں جاگا؟
سنا جاتا ہے کہ ان دنوں پھر ہمارا سیاسی شعور کسمسا رہا ہے۔ ایک صاحب صفا نے راکھ کے ڈھیر میں جمہوریت، قانون کی بالادستی اور انصاف کی چنگاریاں دہکا دی ہیں۔ تاہم اپنی تاریخ کے تناظر میں جان لیجئے کہ حالیہ سیلابی ریلا بھی سیاسی شعور نہیں، منٹو کے افسانے ’دھواں‘ کی جذباتی کیفیت ہے جس میں ’آپ کی یاد آتی رہی رات بھر‘۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleمسلم لیگ ن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں شروع کر دیں
Next Article فیثاغورث اور مقدس غسل : جاوید نقوی /مترجم : عامر حسینی
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

قومی ایوارڈز اور ان کی ساکھ : اس بار تو حد ہی ہو گئی : سہیل وڑائچ کا کالم

اکتوبر 4, 2026

اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات کی گرم جوشی : سید مجاہد علی کا تجزیہ

اکتوبر 3, 2026

روبوٹ مولوی ہمارے ساتھ کیا سلوک کرے گا : شہزاد عمران خان کا کالم

اکتوبر 2, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • قومی ایوارڈز اور ان کی ساکھ : اس بار تو حد ہی ہو گئی : سہیل وڑائچ کا کالم اکتوبر 4, 2026
  • اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات کی گرم جوشی : سید مجاہد علی کا تجزیہ اکتوبر 3, 2026
  • روبوٹ مولوی ہمارے ساتھ کیا سلوک کرے گا : شہزاد عمران خان کا کالم اکتوبر 2, 2026
  • کیچ میں چار افراد کی ہلاکت پر احتجاج : پکنک کے دوران فضا سے دھماکہ خیز مواد گرا اکتوبر 2, 2026
  • مشہد احتجاج کیس: ایران میں دو افراد کو پھانسی دے دی گئی ستمبر 30, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.