آمریت کا چکر مکمل ہونے پر قوم وہیں کھڑی ملتی ہے جہاں سے انحراف کیا تھا۔ آج ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ ہم گزشتہ غلطیوں سے رجوع کر رہے ہیں۔ وقت فیصلہ کرے گا کہ ہم غلطیوں سے رجوع کر رہے ہیں یا غلطیوں کا اعادہ کر رہے ہیں
Browsing: وجاہت مسعود
مغربی پاکستان کے سولہ اخبارات میں 6 مئی 1949 کو ’غداری‘ کے عنوان سے ایک مشترکہ اداریہ شائع کیا گیا جس میں سول اینڈ ملٹری گزٹ پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا گیا۔ مشرقی پاکستان کے کسی اخبار نے اس شرمناک کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔ صرف امروز کے مدیر چراغ حسن حسرت نے یہ اداریہ شائع کرنے سے انکار کیا لیکن ان کی مزاحمت بھی چوبیس گھنٹے میں دم توڑ گئی۔
بائیس سالہ اشفاق احمد جی پی او کی طرف سے سائیکل دوڑاتے ہوئے زمزمہ توپ کی طرف آئے اور سڑک کے بیچوں بیچ آرائشی چار دیواری پر پاﺅں ٹکا کر پرجوش لہجے میں اعلان کیا کہ پاکستان کے ڈاک ٹکٹ چھپ کر ڈاک خانے میں پہنچ گئے ہیں۔ دیکھئے، نمود عشق میں معمولی سا واقعہ بھی کیسی جذباتی کیفیت میں ڈھل جاتا ہے۔
نظریاتی سیاست میں کوئی فرد اہم نہیں ہوتا، طے شدہ عقیدے کے مفروضہ مقاصد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اپنے نظریات سے مخلص فرد یا گروہ غیر ارادی طور پر ایسی قوتوں میں گھر جاتا ہے جو اس کی ذاتی صلاحیت اور اثر و رسوخ سے بہت زیادہ طاقتور ہوتی ہیں۔
قائداعظم نے چودھری خلیق الزمان کو ہندوستان میں بچ رہنے والے ساڑھے تین کروڑ مسلمانوں کی رہنمائی سونپی تھی لیکن چودھری صاحب چپکے سے کراچی آئے اور ایک آنہ فی گز کے بھاﺅ پر وسیع و عریض اراضی خرید کر ہندوستان واپس چلے گئے۔
دونوں مقدس ہستیوں نے ایک ہاتھ سے ایک دوسرے کی لہلہاتی ریش مبارک پکڑ رکھی تھی ۔ دوسرا ہاتھ گریبان پر تھا۔ دونوں ہاتھ مصروف تھے لیکن پیران طریقت کینگرو کی طرح اچھل اچھل کر ایک دوسرے کے حساس سنگم پر ٹھوکریں لگا رہے تھے اور مغلظات کے تبادلے میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔
آج کے پاکستان میں بھی وفاقی اکائیوں میں اعتماد کا بحران، وسائل کی تقسیم، فیصلہ سازی میں شمولیت اور نادیدہ حکمران قوتوں میں غیر متناسب نمائندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ یہی صورت مشرقی پاکستان میں تھی۔ سات کروڑ بنگالیوں پر چون ہزار کی نفری کیسے قابو پا سکتی تھی جبکہ لڑنے والا سپاہی مقامی زبان جانتا تھا اور نہ جغرافیے سے آشنا تھا۔
ہم نے متحدہ ہندوستان کے آخری دس برس میں جی توڑ کر مقدمہ لڑا، مقدمہ جیت گئے اور تاریخ ہار گئے۔ تاریخ کی اسی شکست کا تزلزل 1973 کے دستور کو روز اول سے مرتعش کیے ہوئے تھا۔ بظاہر ایک جمہوری حکومت دستور کے مطابق اپنی میعاد مکمل کرنے کی طرف بڑھ رہی تھی لیکن کہیں کوئی تھا جسے صدارتی نظام حکومت اور قومی وسائل پر فرمان شاہی کے ذریعے قدرت مطلق کی آرزو مچلتی تھی۔
1953 میں متحدہ پاکستان کے عظیم سیاسی رہنما حسین شہید سہروردی پر گوجرانوالہ ریلوے سٹیشن پر پتھر برسائے گئے۔ 1965 کے صدارتی انتخاب کے دوران اس شہر میں ایک کتیا کے گلے میں فاطمہ جناح کا انتخابی نشان لالٹین لٹکا کر جلوس نکالا گیا ۔ جلوس کی قیادت امیر کالاباغ کا ایک دست کاشتہ لاڈلا کر رہا تھا ۔
اس دیس میں لکھنے والوں کیلئے یہ کچھ خوشگوار دن نہیں ہیں۔ کہنے کی باتیں قلمی احتساب کی زد میں آ جاتی ہیں۔ اگر کوئی کٹ پھٹا جملہ باقی بچتا ہے تو اسے پڑھنے والوں کی بے سمت تلخ کامی لے ڈوبتی ہے۔
