کراچی : معروف شاعر اور ادیب ظریف احسن اتوار 26 جولائی کو کراچی میں انتقال کر گئے ۔ان کی عمر 72 برس تھی ۔ظریف احسن کا تعلق کراچی سے تھا ۔ ان کی پیدائش پچیس جولائی 1956 کو مظفرگڑھ میں ہوئی ۔ اوائل عمری میں ہی وہ روزگار کی تلاش میں کراچی چلے گئے اور وہیں مستقل سکونت اختیا ر کی
کراچی آئے اور اکائونٹنٹ جنرل سندھ کے دفتر میں خدمات انجام دیں۔ریٹائرمنٹ: وہ اسی محکمے سے بطور سینئر آڈیٹر (گریڈ 16) ریٹائر ہوئے۔ابتدائی تعلیم ناظم آباد اور ایف بی ایریا کے سکولوں میں حاصل کی ۔۔ جامعہ کراچی سے ایم اے اردو کیا اور اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ کے دفتر میں ملازمت اختیار کی ۔۔ اسی محکمے سے سینئر آڈیٹر کے عہدے سے گریڈ 16 میں ریٹائر ہوئے ۔۔
ظریف احسن مشاعروں میں بہت کم جاتے تھے ، لیکن ان کا ادبی سفرپوری آب و تاب سے جاری رہا ۔ان کی مطبوعہ کتب کی تعداد پندرہ سے زیادہ ہے ۔ انہوں نے ’’ حرف زار ‘‘ کے نام سے اشاعتی ادارہ بھی قائم کیا ۔۔ ظریف احسن ہر سال مظفرگڑھ اور ملتان آتے تھے ۔ اور یہاں کی تقریبات میں بھی شریک ہوتے تھے ۔۔ ان کا آخری شعری مجموعہ ’’ انائے عشق ‘‘ کے نام سے اسی برس مارچ میں شائع ہوا ۔۔
ظریف احسن کی مطبعوعہ کتب میں ’’ ہفت زباں شاعری ‘‘، ’’ موسم موسم ملتے ہیں ‘‘ ،مظفر گڑھ ہے شہ پارہ ‘‘ ، ’’ میں مکہ بھی ہوں ، میں مدینہ بھی ہوں ‘‘ ، ’’ اے لبِ داستاں سرا ‘‘ ، ’’ ہمارے عمرے ‘‘ ، ’’ ہم علم ، چراغ ، خوشبو ہیں ‘‘ ( بچوں کی نظمیں ) قابلِ ذکر ہیں ۔۔
ان کے فن و شخصیت پر ڈاکٹر فرمان فتح پوری، پروفیسر سحر انصاری، ڈاکٹر انوار احمد ، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم ،رضا صدیقی، افتخار عارف، امجد اسلام امجد، شاہدہ حسن سمیت نام ور قلم کار مضامین تحریر کر چکے ہیں ۔۔ ادیبوں اور شاعروں نے ان کی وفات پر دکھ کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ظریف احسن نے اپنی ساری زندگی شعرو ادب کی خدمت کے لیے وقف کیئے رکھی ۔۔
فیس بک کمینٹ

