Browsing: سید مجاہد علی

ایسی کسی بنیاد کی عدم موجودگی میں وزارت خارجہ یا وزیر اعظم اگر روزانہ کی بنیاد پر بھی امریکہ کے فیصلوں کے بارے میں تشویش ظاہر کرتے رہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ امریکہ یا دنیا اسی وقت اسلام آباد کو اہمیت دے گی جب پاکستان خوشحال اور پر امن ملک ہوگا۔ یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے کوئی دوسرا نہیں آئے گا، ہمیں خود اپنی مدد کرنا ہوگی۔

تحریک انصاف کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ نہ تو نظام کے ساتھ چل کر کوئی راستہ نکالنا چاہتی ہے اور نہ جمہوریت کو مضبوط کرنے اور ملکی سیاست سے عسکری قیادت کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ وہ کسی ضدی بچے کی طرح فوج کا وہ کاندھا مانگ رہی ہے جس پر سواری کرکے عمران خان 2018 میں وزیر اعظم بنے تھے۔

وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور اردن کے شاہ کی ملاقات سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی صدر غزہ کو خالی کرانے اور وہاں قابض ہونے کے دعوے پر قائم ہے لیکن عرب ممالک ابھی ملاقاتیں کرنے اور مل جل کر کسی منصوبے پر عمل کرنے ہی پر غور کررہے ہیں۔ اس ملاقات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کئی ہفتے پہلے درست طور سے دعویٰ کیا تھا کہ’ اردن اور مصر خواہ ان کے منصوبے کی مخالفت کرلیں لیکن وہ مان جائیں گے‘

کسی خطے کے لوگوں کو وہاں سے نکال کر اس جگہ کو رئیل اسٹیٹ بنادینے کی بات کرنا بجائے خود بدترین سفاکی اور گھٹیا انسانی رویہ ہے لیکن کسی اصول یا اخلاق کو نہ ماننے والے امریکی صدر سے کسی بھی بے اعتدالی اور لاقانونیت کی توقع کی جاسکتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کے لیے جس منصوبہ کا اعلان کررہے ہیں، اس کے تحت غزہ سے 25 لاکھ فلسطینی باشندوں کو ان کی آبائی سرزمین سے بے دخل کیا جائے گا۔

اسلام آباد کے علاوہ تین صوبوں میں قانون کی دفعات اور انتظامی طاقت استعمال کرکے خیبر پختون خوا کے علاوہ کسی حکومت نے تحریک انصاف کو کسی قسم کا اجتما ع کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اس کے باوجود احتجاجی ریلیوں کی روک تھام کے لیے دفعہ 144 کے تحت پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی لگا دی گئی۔ متعدد شہروں میں اس عذر کی بنا پر تحریک انصاف کے متعدد لیڈروں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ کوئٹہ کے سوا کہیں سے قانون کی ’خلاف ورزی‘ کی اطلاع نہیں ملی۔

فوج کے ساتھ ایک پیج پر آنے کا زمانہ اب بیت چکا ہے۔ اب انہیں جو بھی حاصل کرنا ہے ، وہ فوج کو راضی کرنےسے نہیں بلکہ عوام کی حمایت سے ملے گا۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ مقبولیت کے دعوؤں اور سب سے بڑی پارٹی ہونے کے اعلانات کے باوجود تحریک انصاف نئے انتخابات کرانے کی بات نہیں کرتی۔ اس بوالعجبی کی بھی کچھ وجوہات تو ہوں گی۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔۔ ناروے )