Browsing: لکھاری

اصول یہ ہے کہ طلاق حاصل کرنے والے جوڑے کے نام پر جو مشترکہ اثاثہ جات ہوں گے اُن کی مساوی تقسیم ہوگی لیکن دو پیشگی شرائط کے ساتھ۔ اوّل، اثاثے اُن کی شادی کے دوران دونوں کے مشترکہ تعاون سے بنائے گئے ہوں، دوم، اُن اثاثوں کو بنانے میں فریقین کی کاوشوں اور باہمی تعاون اور شراکت کا واضح تعین نہ ہو سکے۔ اپنے ہاں تو حال یہ ہے کہ برسوں عورت اپنے شوہر اور اُس کے خاندان والوں کی محنت کرتی ہے اور اگر ون فائن مارننگ شوہر اُس کو طلاق کے ساتھ حق مہر کے بیس ہزار روپے دے کر فارغ کر دے تو اُس کے پاس رہنے کو کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔

وہ جب شہنشاہ ایران کو سعودی عرب لے کر گیا تو اس وقت اس کا تاریخی استقبال ہوا اور فیصلہ ہوا کہ ہم ایک اسلامی بلاک بنائیں گے یہ ذوالفقار علی بھٹو کیوں پیدا ہو گیا تھا ایسے لوگوں کو تو غریب قوموں میں پیدا نہیں ہونا چاہیے ایسی قومیں جن کو اپنی قوت کا پتہ نہ ہو جن کو اپنی مضبوطی کا پتہ نہ ہو جن کو اپنے بیماریوں کا پتہ نہ ہو ان میں ایک شعور والا کیوں پیدا ہو گیا تھا یہ وہ شعور والا تھا جو تمام صیہونی اور استعماری قوتوں کو چبھنے لگ گیا ۔

سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟؟؟یاد رکھیے کہ آواز اٹھانا اور صدائے احتجاج بلند کرنا بڑے بڑے بے ضمیروں کو مشکل میں ڈال دیا کرتا ہے.. ایک مضبوط بیانیہ قوموں کے ضمیر جھنجھوڑ کر ان ظالموں کا ظلم کو خاک میں ملا دیتا ہے۔۔ملک کی تمام انسانی حقوق کی تنظیموں سے التماس ہے کہ اس وحشیانہ ظلم پر ضرور آواز اٹھائیں… تعزیتی ریفرنس تعزیتی کانفرنسز منعقد کریں.. فنڈز دینے والوں سے نہ ڈریں

پاکستانی جھنڈے کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے بارے میں بھی یہ غلط فہمی عام کی گئی ہے کہ یہ سب آئل ٹینکرز تھے اور سیدھے پاکستان آرہے تھے۔ حالانکہ یہ درست نہیں ہے۔ یہ ٹینکرز تیل کے علاوہ مختلف مصنوعات لے کر مختلف ممالک کی طرف جا رہے تھے۔ پاکستانی جھنڈے کے ساتھ گزرنے کی اجازت دے کر ایرانی حکومت نے جنگ بندی کی پاکستانی کوششوں کے ساتھ رضامندی کا مظاہرہ کیا تھا۔ حکومت کو اپنے عوام کو اس بارے میں حقیقی تصویر دکھانا چاہیے تھی۔
بدقسمتی .

صدر زرداری اسی رات دیر گئے چینی سفارت خانے گئے،جسکی سرکاری پریس ریلیزجاری نہیں کی گئی البتہ اس کے بعد انہوں نے جناب اسحاق ڈار سے کہا کہ چینی وزیرِ خارجہ آپ کے منتظر ہیں،جلد وہاں پہنچئے،عام طور پر چینی اپنے جذبات چھپانے کا فن جانتے ہیں تاہم سب نے میڈیا پر دیکھا کہ چینی وزیرِ خارجہ کے چہرے پر ہمدردی کے ایسے تاثرات تھے کہ اندر سے ہمارے وزیرِ خارجہ کا جی چاہا ہوگا کہ وہ ان سے گلے ملتے ہوئے ایک دو اشک بہا دیں

دن بدلیں گے جاناں رضی الدین رضی کا پہلا شعری مجموعہ ہے ۔۔ یہ کتاب پہلی بار 1995 میں شائع ہوا ۔۔یہ مزاحمت اور محبت کی شاعری ہے ۔۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن مدت سے مارکیٹ میں موجود نہیں تھا ۔۔ حال ہی میں اس کا نیا ایڈیشن شائع کیا گیا ہے ۔۔ قیمت صرف 600 روپے ہے ۔۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں ۔۔ 03186780423 ۔۔ ۔۔ مکمل نظم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں

تاریخ کا یہ المیہ رہا ہے کہ جو شخص تہذیب کو نئی سمت دینے کی کوشش کرتا ہے، وہی سب سے پہلے نشانہ بنتا ہے۔ بھٹو کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ان کی مقبولیت، ان کی خودمختار خارجہ پالیسی اور ان کا عوامی بیانیہ عالمی اور مقامی طاقتوں کے لیے ناقابلِ برداشت بن گیا۔

مشتاق کھوکھر کی نرینہ اولاد کی تعداد چار تھی جو پیدائشی معذور تھی اور وہ سب بچے وقفہ وقعہ سے انتقال کر گئے پھر ان کی اہلیہ مقصودہ بیگم بھی دنیائے فانی سے کوچ کرگئیں۔بعدازاں مشتاق کھوکھر نے معذور بچوں کی دیکھ بھال کیلئے ’’مقصودہ بیگم میموریل سوسائیٹی ‘‘ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ قائم کیا۔ اور پھر اسی ادارہ کے زیراہتمام بھرپور ادبی محافل کا انعقاد کرواتے رہے۔

ڈاکٹر محلے داروں کی عمومی عادات و طبی مسائل سے بھی واقف تھا۔ معائنہ کرتا، خود ہی دوا پیس کے پڑیاں بناتا اور ایک بوتل میں کوئی شربت نما شے بھر کے اس پر کاغذ کو قینچی سے کاٹ کر خوراک کی مقدار کے نشان کے طور پر چپکا دیتا۔ جس نے جتنے پیسے دیے بغیر گنے دراز میں رکھ لیے۔ آمدنی کم اور احترام بے شمار۔