Browsing: لکھاری

آزادی رائے بنیادی انسانی حق ہے۔ اسے جمہوری نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ پاکستان کو اگر جدید دور میں سرخرو ہونا ہے تو اسے اپنے لوگوں کی زبان بندی کی بجائے ان کی رائے کا احترام کرنے کا رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر قانون سازی کے ذریعے گھٹن اور بے چینی میں اضافہ ہوگا اور ترقی کے سارے راستے مسدود ہوجائیں گے۔

اسلم انصاری نے ہمیشہ اپنا بسیرا انسانوں ہی میں بسائے رکھا انھیں انسان کے بنیادی اور قلبی معاملات سے ہی سدا دلچسپی رہی۔ آ پ کا ہر شعر کسی نہ کسی باطنی کیفیت کا غماز ہے ۔یہی وجہ ہے کہ آ پ کی غزل اور آپ کامزاج آپس میں لازم وملزوم ہیں۔اگر یہ کہا جائے کہ ان کا مزاج اور غزل :اصل میں دونوں ایک ہیں تو بے جا نہیں ہو گا۔یہی وجہ ہے کہ آپ ، آ پ کی غزل کے تعارف کا بنیادی حوالہ ٹھہری ہے ۔

میں نے اپنے لئے چائے ’ڈلو‘ میں بنائی ۔’ڈلو‘ ہم اسٹیل کے اس چھوٹے برتن کو کہتے تھے جس میں دودھ ہوتا تھا۔ برائے نام تنخواہ لینے والے اخبار نویس اس زمانے میں ایسی ہی شاہ خرچیوں کا مظاہرہ کیا کرتے تھے۔

سپریم کورٹ کے جج اصولی لڑائی کی بجائے اپنے اختیار کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس لڑائی میں سیاسی ترجیحات اور ذاتی مفادات کی آلائش محسوس کی جاسکتی ہے۔ یہ طریقہ جاری رہا تو ملک میں انصاف کے سب سے بڑے مرکز کا مستقبل تابناک نہیں ہوگا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ناروے )