Browsing: لکھاری

پھر تھوڑی دور جا کر رکے ۔ تھرمس کا ڈھکن کھولا اس میں سے قلفی باہر نکالی اور اپنا مشہور زمانہ ‘سٹیپ’ دہرانے سے پہلے قلفی پر ایک بڑا سا چک مارا۔ ۔پھر مولانا کی طرف دیکھتے ہوئے اونچی آواز میں بولے۔ بجلی بھری ہے میرے انگ انگ میں !
مکمل کالم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں دیا گیا لنک کھولیں

پیر سپاہی بلاشبہ ملتان کا دلچسپ کردار تھا جس کے پاس میری نانی اماں بھی اپنے ہاتھ کے شوگر زدہ زخم پر دم کرانے کوٹ ادو سے ملتان آئی تھیں۔ ٹھیک تو خیر کیا ہونا تھا ان کی تشخیص بھی بعد میں ہوئی تھی۔ یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ پیر سپاہی بھی ضیائی کرشمہ تھا۔رضی کا پیر سپاہی کی کہانی کو ‘توڑ’ (آخر) تک پہنچانا ، ان کا صحافیانہ انداز ہے۔

تہران میں سخت گیر ملا رجیم بدستور موجود ہے اور شدید مالی مشکلات کے باوجود اس بات کا امکان دکھائی نہیں دیتا کہ جنگ یا اس کے خاتمہ سے یہ حکومت ختم ہوجائے گی اور ایرانی سیاست ایرانی عوام کی خواہشات کے مطابق طے پاسکے گی۔ ایران کے عوام پہلے سے زیادہ غریب اور کرب کا شکار ہوں گے

مودی سوالوں کا جواب کیوں نہیں دیتے‘ والا سوال ، ایک ایسا ہتھوڑا ثابت ہؤا کہ بھارت میں تمام انتہاپسند عناصر اس کی ضرب سے تلملا رہے ہیں۔ اب ایک غیر متعلقہ مضمون اور اس میں شامل ہونے والے کارٹون کو بنیاد بنا کر بھارتی عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ناروے میں بھارت میں انسانی حقوق کے بارے میں کیے جانے والے سوال درحقیقت سفید فام اور نوآبادیت کی ذہنیت کا عکاس ہیں۔

غیر ابلاغی ہونا کوئی عیب نہیں بلکہ ایسی کیفیت ہے جو کسی پر بھی آ سکتی ہے۔ ایسے بھی مہربان ہیں جو کسی بھی نئی تحریر کے پیج پر نمودار ہونے کے صرف پانچ سیکنڈ کے اندر اندر لائک کا بٹن دبا کے نہ صرف اس تحریر کو پورا اور دھیان سے پڑھنے کے عذاب سے خود کو بچا لیتے ہیں بلکہ صرف ٹائیٹل یا نام دیکھ کے فی سبیل اللہ آگے بڑھا دیتے ہیں:

اب غیرجانبدار لوگ بھارت کی جمہوریت اور پریس فریڈم کے بارے میں سوال اٹھا رہے ہیں اور مودی سرکار اپنے انتہا پسند سوشل میڈیا ٹرولز کے ذریعے ایک چھوٹے ملک ناروے کی صحافی کو ہراساں کرکے اپنی بے بسی کو چھپانے کوشش کررہی ہے۔

’’ترقی پسندی‘‘ کے سب سے بڑے نمائندے -فیض احمد فیض بھی اپنے قبیلے کے دباؤ میں آکر عدالت میں یہ بیان دینے کو مجبور ہوئے کہ منٹو کے افسانے میں چند سطریں فحش شمار کی جاسکتی ہیں۔