مانگی بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ سے شمال مشرق کی جانب تقریباً 85 کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع زیارت اور ضلع ہرنائی کے سرحدی علاقے میں واقع ہے۔
حکومتِ بلوچستان یہاں اربوں روپے کی لاگت سے مانگی ڈیم تعمیر کر رہی ہے، جس کا مقصد کوئٹہ کو درپیش پانی کی قلت پر قابو پانا ہے۔
مانگی کے علاقے میں ماضی میں بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔
Browsing: بلوچستان
حادثے کے بعد شیرانی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ زخمیوں کو فوری اور بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
آصف خان کے بھائی ظریف خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کا بھائی گذشتہ ایک، ڈیڑھ ماہ سے بہت زیادہ پریشان تھا۔
متعلقہ تھانے کے ڈیوٹی افسر محمد ارشد نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے کی تفتیش سیریس کرائمز انویسٹیگیشن ونگ کے حوالے کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آ رہی کہ محمد آصف کو مبینہ طور پر بعض لوگوں کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا تھا،
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک گاڑی ٹرین کی ایک بوگی سے ٹکرائی، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ہوا۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابریوسفزئی نے بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چاروں افراد ضلع مستونگ کے علاقے کردگاپ سے بازیاب ہو گئے ہیں تاہم انھوں نے اس حوالے سے زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
سینیئر سرکاری اہلکار کے مطابق مغوی آفیسر اور اہلکار کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ تاحال سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
بلوچستان میں گذشتہ چند دنوں سے قومی شاہراہوں پر معدنیات لے جانے والے گاڑیوں پر حملوں اور اغوا کے واقعات میں اضافہ سامنے آیا ہے۔ گذشتہ شب ضلع زیارت میں مانگی کے علاقے سے پولیس کے ایک ایس ایچ او سمیت تین افراد کو اغوا کرلیا گیا۔
ادھر ضلع چاغی میں پولیس حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے چہتر کے مقام پر حملہ کرکے آئل ٹینکروں کو نقصان پہنچایا۔
ادھر ضلع نصیر آباد کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں بم کے ایک دھماکے میں تین پولیس اہلکاروں سمیت چھ افراد زخمی ہو گئے۔
سرکاری حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مرنے والوں میں دو سکیورٹی گارڈز بھی شامل ہیں۔
بدھ کی شام ضلع چاغی کے علاقے داریگوان میں ہونے والے اس حملے کی کمپنی کی جانب سے تصدیق کی گئی تھی تاہم اس واقعے میں ہونے والے نقصانات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تھا۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ضلع کچھی میں دریائے ناڑی کے پشتے میں شگاف پڑنے سے 100 سے زائد مکانات منہدم اور 400 ایکڑ زرعی اراضی زیر آب آ گئی، جبکہ 50 سے زائد مویشی ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ ضلع کیچ کے علاقے بھگدر اور قلعہ عبداللہ کے علاقے ارمبی کاکوزئی میں بھی 50 سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا۔مکمل خبر پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں
بارکھان : بلوچستان کے اضلاع بارکھان اور خضدار میں نامعلوم مسلح افراد نے تعمیراتی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے والے مجموعی طور پر 14 مزدوروں کو…
