Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
اتوار, نومبر 8, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • غنودگی اور یبوست : عطاء الحق قاسمی کا کالم
  • 23 بین الاقوامی تنظیموں کا ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ
  • زبان خلق : ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔ اللسان العربی
  • یہ قتلِ عام کون روکے گا ؟ ۔۔ حامد میر کا کالم
  • شاعر نما اور ادبی ری سائیکلنگ کا قصہ : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
  • ٹرمپ کی صدارت، کانگریس کی مزاحمت اور عالمی سیاست کے نئے سوالات : شہزاد عمران خان کا تجزیہ
  • الگورتھم کے قیدی ، بے چہرہ ہجوم اور چیئرمین ماؤ : وجاہت مسعود کا کالم
  • وفاقی کابینہ نے 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے کی منظوری دے دی
  • امریکی الیکشن نتائج نے ٹرمپ کو ’ لنگڑی بطخ ‘ بنا دیا : نصرت جاوید کا کالم
  • امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کو تاریخی شکست ، ڈیموکریٹس کا کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » غنودگی اور یبوست : عطاء الحق قاسمی کا کالم
عطاء الحق قاسمی

غنودگی اور یبوست : عطاء الحق قاسمی کا کالم

ایڈیٹرنومبر 8, 20261 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
ataa new logo
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

کبھی کبھی مجھ پر غنودگی سی طاری ہو جاتی ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ یہ طاری اس وقت ہوتی ہے جب میں صبح اپنے مقررہ وقت سے بہت پہلے جاگ جاتا ہوں مگر کم نیند کے باوجود خود کو بے انتہا تر وتازہ محسوس کرتا ہوں، تاہم اس تر و تازگی کی عمر صرف دو گھنٹے ہوتی ہے۔ اس کے بعد میرا سارا دن غنودگی میں گزرتا ہے۔ میں اس وقت اسی غنودگی کی کیفیت میں ہوں کیونکہ آج میں وقت سے بہت پہلے جاگ گیا تھا۔یہ غنودگی بھی عجیب چیز ہے۔ انسان نہ جاگ رہا ہوتا ہے اور نہ سویا ہوا۔ کوئی کام کاج کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ اگر تو یہ :

جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن

بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

والی کیفیت ہو تو سبحان اللہ کہ یہ تو ڈھنگ کی غنودگی ہوئی نا مگر میں جس کیفیت کا ذکر کر رہا ہوں؟ یہ غنودگی یبوست کی ایک قسم ہے اور یبوست زدہ لوگ مجھے بہت برے لگتے ہیں۔ چنانچہ میں اس وقت خود کو بہت برا لگ رہا ہوں ۔ انسان یا سوئے یا جاگے ۔ یہ تو ہیجڑ اقسم کی کیفیت ہے، یعنی نہ مرد نہ عورت ۔ یبوست کی ایک قسم اس کے علاوہ بھی ہے اور وہ بیٹھے بیٹھےسو جانا ہے۔ میں نے ایسے کئی لوگ دیکھے ہیں جو باتیں کرتے کرتے سو جاتے ہیں اور پھر درمیان میں ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھتے ہیں اور دوبارہ شریک گفتگو ہو جاتے ہیں۔ ایک دوست ٹی وی دیکھنے کا بہت شوقین ہے لیکن اگر وہ سارا دن بھی ٹی وی کے سامنے بیٹھا ر ہے تو ان چوبیس گھنٹوں میں وہ صرف تین چار گھنٹے جاگ کر ٹی وی دیکھتا ہے جو وہ وقفے وقفے میں دیکھ پاتا ہے ، باقی وقت میں وہ قیلولہ کر رہا ہوتا ہے۔ میرےایک شاعر دوست تھے جو ٹی وی کے مشاعروں میں بیٹھے بیٹھے سو جاتے تھے۔

اس دوران پروڈیوسر کی کوشش ہوتی تھی کہ کیمرہ ان پر نہ جائے مگر جب وہ خراٹے لینے لگتے اور جو شاعر کلام سنا رہا ہوتا ناظرین کو اس کے کلام کی بجائے ان کے خراٹے سنائی دینے لگتے تو ان کے برابر میں بیٹھا ہوا شاعر ان کے کاندھے ہلا کر انھیں جگا دیتا ۔ ایک دفعہ تو میں نے یہ منظر بھی دیکھا کہ دوستوں کی محفل میں وہ بیٹھے بیٹھے سو گئے ہیں اور پھر اچانک ان کے خوفناک خراٹے سنائی دینے لگے ۔ ان خراٹوں کا شور اتنا تھا کہ اس شور کی وجہ سے وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھے اور اس پریشانی کے عالم میں انھوں نے مجھ سے پوچھا کیا ہوا، کیا ہوا؟

آپ یقیناً سمجھ رہے ہوں گے کہ میں مبالغے سے کام لے رہا ہوں ۔ آپ ان سب باتوں کو میرا بیان حلفی سمجھیں جو میں نے ابھی تک کی ہیں اور جو میں کرنے والا ہوں۔ میرے ایک اخبار نویس دوست بھی اس بیماری میں مبتلا تھے۔ وہ دفتر میں بیٹھے بیٹھے سوجاتے اور خوفناک خراٹے بلکہ فراٹے شروع کر دیتے تھے۔ ایک دن کسی دل جلے نے چیف ایڈیٹر سے شکایت کی کہ ان صاحب کے خراٹے ان کے کام میں خلل ڈالنے کا باعث بنتے ہیں۔ چیف ایڈیٹر نے انٹر کام پر ان سے بات کی اور کہا کہ ان کے کولیگ بتاتے ہیں کہ آپ دفتر میں سوئے رہتے ہیں ، کیوں نا آپ کو نیند پوری کرنے کیلئے ملازمت سے فارغ کر دیا جائے؟

یہ سن کر انھوں نے کلمے کی قسم کھائی اور چشم دید گواہ کا بیان ہے کہ اس کے ساتھ انھوں نے کانوں کو بھی ہاتھ لگایا اور کہا سر آپ کو کسی نے غلط اطلاع دی ہے، میںتو کام کے دوران پلک بھی نہیں جھپکتا۔ چونکہ میں اپنے دفتر میں سب سے زیادہ کام کرتا ہوں اس لیے یہ ہڈ حرام مجھ سے خار کھاتے ہیں۔ سر دفتر میں سونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ خر خر خر خر خر خر یعنی حضرت اس گفتگو کے درمیان بھی سو گئے تھے۔ ان کی اس عادت بلکہ ان کے کمال فن کا ایک گواہ میں ہوں۔ اس واقعے کو آپ اس کی اخیر ہی سمجھیں اور وہ یہ کہ ایک دن میں مال روڈ پر چہل قدمی کر رہا تھا ( یہ بھلے وقتوں کی بات ہے جب لوگ مال روڈ پر چہل قدمی کرتے تھے )کہ اچانک میری نظر ان پر پڑی۔ وہ موٹر سائیکل چلا رہے تھے، کم از کم جب میری نظر ان پر پڑی بخدا وہ سورہے تھے۔

اور آخر میں قارئین سے درخواست ہے کہ یہ کالم میں نے جیسے تیسے غنودگی کے عالم میں لکھا ہے، لہٰذا بوریت محسوس ہو تو مجھے میری غنودگی کا مارجن ضرور دیں۔ اس کے علاوہ بھی کوئی خامی ہو تو اس پر بھی معذرت۔

( بشکریہ : روزنامہ جنگ )

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

عطاء الحق قاسمی
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Article23 بین الاقوامی تنظیموں کا ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

عطاء الحق قاسمی کا کالم : تو یہ دیکھ غفورا رویا!

جولائی 12, 2025

عطاء الحق قاسمی کا کالم : ایک مرحوم کے ساتھ لنچ ( دوسرا حصہ )

جولائی 3, 2025

عطاء الحق قاسمی کا کالم : میری کہانی!

نومبر 24, 2024

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • غنودگی اور یبوست : عطاء الحق قاسمی کا کالم نومبر 8, 2026
  • 23 بین الاقوامی تنظیموں کا ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ نومبر 6, 2026
  • زبان خلق : ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔ اللسان العربی نومبر 6, 2026
  • یہ قتلِ عام کون روکے گا ؟ ۔۔ حامد میر کا کالم نومبر 5, 2026
  • شاعر نما اور ادبی ری سائیکلنگ کا قصہ : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت نومبر 5, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.